انڈین مسلمان تشدد کی زد میں

بقول عینی شاہدین ایسا لگ رہا تھا کہ ’باضابطہ ایک منصوبے کے تحت جلسوں کو مسلم آبادی والے علاقوں سے گزار کر مسلمانوں کو اشتعال دلایا گیا اور ان کی تذلیل، پٹائی اور گھر واپسی کی دھمکیاں کھلے عام دی جا رہی تھیں۔‘

دس فروری 2022 کی اس تصویر میں مسلمان خواتین کولکتہ میں ریاست کرناٹک کے چند تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج میں شریک ہیں (اے ایف پی)

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں:

انڈیا میں کانگریس کی تین دہائیوں پر محیط حکومت کے دوران کئی مرتبہ مذہبی اقلیتیں خصوصاً مسلمان کٹر ہندوؤں کے تشدد کا نشانہ بنے ہیں۔ اسے روکنے کی کوششیں بھی کی جاتی رہیں ہیں مگر یہ پہلی بار ہے جب ہندوتوا سوچ رکھنے والی تنظیموں نے منظم طریقے سے رام نومی کے تہوار کو مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لیے خاص طور پر چنا تھا۔

دس اپریل کو تقریباً آٹھ ریاستوں میں بیک وقت ہندو مذہبی جلوس مسلم علاقوں سے گزرتے رہے۔ مسلمانوں کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکیاں دی گئیں، بعض مقامات پر گھر اور دکانیں جلائیں گئیں، مساجد کو نشانہ بنایا گیا اور پھر درجنوں مسلم نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا۔

گوکہ پولیس اور سکیورٹی کے ادارے بلائے گئے لیکن کئی مقامات پر دنگے فسادات ہونے کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

رام نومی کے ہندو تہوار پر اس طرح کی مذہبی جنونیت دیکھ کر اقلیتوں کی طرح سیکولر ہندو بھی سکتے میں آگئے جب انہوں نے پہلے گجرات کے علاقے ہمت پور میں ترشول، ڈنڈے اور آتش گیر مادہ لے کر ہندوتوا کے مشتعل جلوسوں کو دیکھا۔ پھر یہ فسادات کی شکل میں مغربی بنگال، اترپردیش، مہاراشٹر اور راجستھان کے مختلف علاقوں میں بڑھک اٹھے۔

بعض جلوسوں میں اس قسم کے نعرے بلند ہوئے: ’جے ہندو راشٹریا آؤ مل کر کریں رام راجیہ کا نرمان۔‘

بقول عینی شاہدین ایسا لگ رہا تھا کہ ’باضابطہ ایک منصوبے کے تحت جلسوں کو مسلم آبادی والے علاقوں سے گزار کر مسلمانوں کو اشتعال دلانا تھا اور جہاں پولیس موجود تھی، وہاں وہ تماشائیوں کی طرح مزے لے رہی تھی۔ مسلمانوں کی تذلیل، پٹائی اور گھر واپسی کی دھمکیاں کھلے عام ہو رہی تھیں۔‘

بنگال کے ہوڑا میں مسلم آبادی والے علاقے میں حالات اس وقت قابو سے باہر ہوگئے جب مقامی انتظامیہ کے مطابق بی جے پی کے بعض کارکن مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے، جس کا مقصد ترنمول کی حکومت کوگرانے کے لیے کیا گیا تھا۔

دفاع میں مسلمانوں نے واپس ہندوؤں پر حملہ کیا اور انتظامیہ کو سخت اقدامات کرنے پڑے۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مرکزی سرکار پر الزام عائد کیا کہ ’بی جے پی ان حملوں کے پیچھے ہے جو افراتفری پھیلا کر ریاست پر گورنر راج قائم کرنا چاہتی ہے مگر بی جے پی کو یہ خیال ہی نہیں کہ میری ریاست کتنی نازک اور حساس ہے، جس کی سرحدیں بنگلہ دیش سمیت کئی ملکوں سے ملتی ہیں اور جس کا اثر انڈیا پر خطرناک ہوسکتا ہے۔‘

بنگال کی صورت حال ابھی سنبھلی نہیں تھی کہ مہاراشٹر اور دوسرے کئی خطوں میں ہندوتوا کے جلوس نکلنے لگے اور مسلمانوں کو اپنے گھروں میں قید ہونا پڑا۔

اتر پردیش کے مولوی عتیق اللہ کہتے ہیں کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی بی جے پی نے کی ہے لیکن وشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل یا آر ایس ایس جیسی دوسری جماعتوں کو ڈرانے اور دھمکانے کا یہ ٹاسک دیا گیا ہے، اب یہ خود کو مسلح کرتے جارہے ہیں۔ ملک کی معیشت اور ترقی منجمد ہوکر رہ گئی ہے۔

80 کروڑ آبادی سبسڈی راشن پر زندہ ہے، دس سال قبل 40 فیصد آبادی غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کر رہی تھی، جو اب 60 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ عوام کو درپیش مسائل پر بات کرنے پر پابندی عائد ہے۔ نہ جانے ہندو روٹی کب تک کھلائی جارہی ہے اور کب تک ووٹ بٹورنے کا یہ گھٹیا طریقہ قائم رہے گا۔ اب مسلمان ٹارگٹ ہیں، دیکھتے ہیں کتنے مسلمانوں کا گھر منہدم کریں گے، کتنوں کا روزگار چھینیں گے اور کتنوں کو جیل میں رکھیں گے۔‘

انڈیا کے سیکولر ہندوؤں کو شدید احساس ہے کہ ہنستا بستا ایک ملک تباہ ہو رہا ہے۔ مذہب کی بنیاد پر سیاست سے ملک کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوا ہے اور پھر مسلم ممالک کے حالیہ ردعمل سے ایک کروڑ سے زائد ہندوؤں کا روزگار خطرے میں پڑ سکتا ہے جو خلیجی ممالک میں رہتے ہیں مگر کانگریس کے ایک کارکن کے مطابق: ’بی جے پی اور اس کی ہندوتوا جماعتیں جس گھوڑے پر سوار ہیں وہ 22 کروڑ مسلمانوں کو ایک اور بٹوارے کی جانب دھکیل رہے ہیں جبکہ سکھوں نے اپنی مانگ اب عالمی سطح پر اٹھائی ہے۔ ہندو راشٹر کی مانگ کے مقابلے میں خالصتان کا بننا اب تقریباً ممکن لگ رہا ہے۔‘


لیکن بی جے پی کے اکثر رہنما کہتے ہیں کہ دنیا میں جہاں اتنے سارے مسلم، مسیحی اور دوسرے مذاہب سے وابستہ ممالک ہیں تو ہندو راشٹر پر بات کرنا معیوب کیوں سمجھا جاتا ہے، جس کی مانگ ایک ارب آبادی کر رہی ہے۔

ہندوتوا کے لیڈر اب کھلے عام ہندو راشٹر کے حق میں نعرے اور سیکولر آئین کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔

اصل میں برصغیر کے بیشتر سیاست دانوں کی ایک ہی کہانی ہے۔ اقتدار کی خاطر اگر ملک ٹوٹ بھی جائے تو اس کا غم نہیں۔

جہاں جمہوریت کی جڑیں مضبوط تھیں وہاں مذہبی جنونیت نے سب پر جیسے سایہ کیا ہوا ہے اور جہاں مذہب کے نام پر ملک کی بنیاد بنی وہاں اس مذہب کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سیاسی جماعتیں ووٹ حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالی، آئین کا انحراف اور دنگے فساد کروانا تو ابتدائے عشق ہے، عوامی حلقے اس پورے خطے میں کسی بڑی تباہی کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔

بی جے پی نے 2024 کے پارلیمانی انتخابات کو جیتنے کے لیے یہی حکمت عملی اپنائی ہے جس سے یہ پورا معاشرہ کیا، ملک بکھر سکتا ہے۔ حالانکہ اپوزیشن جماعتوں میں ابھی اتنا دم بھی نہیں کہ وہ مودی کی بی جے پی کو ہرا سکیں۔

دھرم سنسدوں یا مذہبی اجلاسوں میں مسلمانوں کو ختم کرنا یا ان کی خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانا معمول بنتا جا رہا ہے۔ مندروں کے سامنے مسلمان دکانداروں سے کچھ نہ خریدنا، نوجوانوں کو ’لو جہاد‘ میں پھنسا کر جیلوں میں ڈالنا، مساجد پر حملے اور مکانوں کو بلڈوزر سے گرانا ہندوتوا کی جامع پالیسی کا حصہ تو ہے، حتیٰ کہ بعض ریاستوں میں مسیحی برادری اور ان کے کلیسا بھی تشدد کی زد میں آ رہے ہیں مگر اس سب کا نتیجہ کیا ایک خوش حال مملکت کی شکل میں سامنے آئے گا؟

اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی نے ایک بیان جاری کر کے انڈیا کو پیغام دیا ہے کہ وہ مسلم کش کارروائیوں سے باز رہے، جس کے جواب میں وزارت خارجہ نے اسے ایک مخصوص نظریاتی سوچ قرار دے کر رد کر دیا، لیکن اسلامی تنظیم میں شامل امیر ممالک انڈیا کے ساتھ مضبوط تجارتی رابطے بڑھا رہے ہیں جس پر انڈیا کے مسلمان برہم دکھائی دے رہے ہیں۔

جنوب ایشیائی امور کے سیاسی ماہر رضوان رسول کا خیال ہے کہ ’مسلم ممالک شاید انتظار کر رہے ہیں کہ جب انڈیا کے مسلمان روہنگیاؤں کی طرح ملک سے نکال دیئے جائیں گے، تبھی عالمی برادری جاگے گی۔

جینوا سائیڈ واچ کی رپورٹ کے مطابق ’انڈیا میں نسل کشی شروع ہوچکی ہے اور دنیا نے خصوصاً مسلم دنیا نےاپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کے رکھی ہے۔‘

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ