پاکستان نے بجٹ میں ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے کا موقع گنوایا: آئی ایم ایف

پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی نمائندہ ایستھر پیریز روئز نے کہا: ’نئی ٹیکس ایمنسٹی پروگرام کی شرائط اور گورننس کے ایجنڈے کے خلاف ہے جو نقصان دہ مثال قائم کرتی ہے۔‘

گھر سے کام کرنے والی خواتین کی انجمن کراچی میں 6 جولائی 2019 کو بجٹ کے خلاف مظاہرہ کر رہی ہیں جو ان کے خیال میں آئی ایم ایف کی ہدایات پر بنایا گیا تھا (اے ایف پی)

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے جمعرات کو پاکستان حکومت کی جانب سے حال ہی میں پیش کیے گئے وفاقی بجٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آئی ایم ایف کا یہ بیان غیر ملکی زرمبادلہ کی کمی کے شکار ملک کے لیے ایک دھچکا ہے جس کے بیل آؤٹ پروگرام کی میعاد ختم ہونے میں صرف دو ہفتے باقی ہیں۔

پاکستان کے پاس بمشکل ایک ماہ کی درآمدات کو پورا کرنے کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر باقی ہیں۔ پاکستان کو امید تھی کہ گذشتہ سال نومبر میں 1.1 ارب ڈالر کے فنڈز جاری ہوں گے لیکن آئی ایم ایف نے مزید ادائیگیوں سے قبل کئی شرائط لاگو کی ہیں۔

پاکستان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ ایسا بجٹ پیش کرے گا جو آئی ایم ایف کے پروگرام سے ہم آہنگ ہو۔ اس کے علاوہ توقع تھی کہ ایف ایکس مارکیٹ کا معمول کے مطابق کام بحال کیا جائے گا اور محصولات اور اخراجات میں چھ ارب ڈالر کے فرق کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

یہ سب 6.5 ارب ڈالر کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی (ای ایف ایف یعنی بیرونی قرض کی سہولت) کے لیے حتمی جائزے کی راہ ہموار کرنے کے لیے کیا جانا تھا۔

پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی نمائندہ ایستھر پیریز روئز نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک ٹیکسٹ میسج میں بتایا کہ ’عملہ استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے پالیسیوں پر پاکستانی حکام سے بات کرنے میں مصروف ہے تاہم، مالی سال 24 کے بجٹ نے زیادہ ترقی پسند انداز میں ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے کا موقع گنوا دیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ نئے ٹیکس اخراجات کی طویل فہرست ٹیکس کے نظام کی شفافیت کو مزید کم کرتی ہے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں غریب طبقے کے لیے درکار وسائل کو کم کرتی ہے۔

پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی نمائندہ ایستھر پیریز روئز نے کہا: نئی ٹیکس ایمنسٹی پروگرام کی شرائط اور گورننس کے ایجنڈے کے خلاف ہے جو نقصان دہ مثال قائم کرتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے کے لیکویڈیٹی کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے اقدامات کو بجٹ کی وسیع حکمت عملی میں شامل کیا جا سکتا تھا۔

آئی ایم ایف کی پاکستان میں نمائندہ خاتون کا کہنا تھا کہ ’آئی ایم ایف کی ٹیم اس بجٹ کی منظوری سے قبل حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کے پاس ای ایف ایف پروگرام کے اختتام سے قبل نویں بورڈ جائزے کو بچانے کا موقعہ اب بھی موجود ہے۔

پاکستانی حکومت کے ترجمان نے فوری طور پر تبصرے کی روئٹرز کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تجاویز میں بعض اقدامات آئی ایم ایف کی سربراہ کی جانب سے عالمی ادارے فنڈز کے فنڈز کی منظوری سے متعلق زبانی یقین دہانی کے بعد کیے ہیں۔

جمعے کو قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس شروع ہونے سے قبل وفاقی کابینہ سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ان کی آئی ایم ایف کی سربراہ کے ساتھ ٹیلی فون پر ایک گھنٹہ تک گفتگو ہوئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ ’میں نے ان سے (پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے قرض سے متعلق) زبانی یقین دہانی کا کہا اور انہوں نے زبانی یقین دہانی دے دی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے متعلق آئی ایم ایف کا نواں جائزہ اسی مہینے منظور ہو جائے گا اور فوراً بعد آئی ایم ایف کے بورڈ سے بھی اس کی منظوری مل جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا ان کی حکومت نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری  کی ہیں اور اب کوئی ایسی چیز باقی نہیں رہی جو قرض کی وصولی میں رکاوٹ بن سکے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے حوالے سے برادر مسلم ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو تین ارب ڈالر دیے جو پاکستانی معیشت کے لیے کافی مددگار ثابت ہوئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت