پشاور کی سب سے بڑی ہیلتھ لیبارٹری بند ہونے کے قریب: منتظمین

لیبارٹری کے ڈائریکٹر نے محکمۂ صحت کو کہا ہے کہ فنڈ کی کمی کی وجہ سے لیبارٹری منتظمین کو لیبارٹری بند کرنے کی اجازت دی جائے۔

یہ وہی پبلک ہیلتھ لیبارٹری ہے جس نے کرونا وبا کے دوران روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں ٹیسٹ کیے تھے (انڈپینڈنٹ اردو)

خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی پبلک ہیلتھ لیبارٹری (پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری) جو کرونا وائرس سمیت مختلف بیماریوں کے وبا کے دوران ٹیسٹنگ اور دیگر خدمات دیتی رہی ہے، فنڈ کی کمی کی وجہ سے بند ہونے کے قریب ہے۔ 

یہ وہی پبلک ہیلتھ لیبارٹری ہے جس نے کرونا کی وبا کے دوران خیبر پختونخوا میں روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں ٹیسٹ کیے تھے، جبکہ اسی کے ساتھ یہی لیبارٹری دیگر بیماریاں جیسے کے خسرہ، ڈینگی سمیت دیگر ٹیسٹنگ میں بھی خدمات سر انجام دیتی رہی۔ 

یہ لیبارٹری خیبر پختونخوا کی سرکاری یونیورسٹی خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے زیر نگرانی کام کرتی ہے تاہم اس لیبارٹری کو سالانہ کی بنیاد پر فنڈ مہیا کیا جاتا ہے جس سے لیبارٹری کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔ 

لیبارٹری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر یاسر یوسفزئی کی جانب سے محکمہ صحت کے نام ایک خط بھیجا گیا ہے (جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے)۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ فنڈ کی کمی کی وجہ سے لیبارٹری منتظمین کو لیبارٹری بند کرنے کی اجازت دی جائے۔ 

خط میں مزید لکھا ہے، ’لیب میں 73 ملازمین کام کر رہے ہیں اور مئی کے بعد ہمارے پاس فنڈز نہیں ہے تاکہ ہم تنخواہیں ادا کر سکیں، اس لیے ہمیں لیب بند کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ مزید ہم اس کو نہیں چلا سکتے۔ لیب کو 2021  کے بعد فنڈ فراہم نہیں کیا گیا ہے جس سے لیب کی مالی معاملات متاثر ہوئے ہیں۔‘ 

اسی خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ 2017 میں لیب کی بنیاد رکھنے کے وقت خیبر میڈیکل یونیورسٹی، محکمہ صحت خیبر پختونخوا اور وفاقی نیشنل انسٹی ٹیوٹ اف ہیلتھ کے مابین معاہدے میں یہ لکھا گیا تھا کہ محکمہ صحت لیب کو چلانے کے لیے سالانہ بنیاد پر فنڈ فراہم کرے گا، تاہم مختلف خطوط لکھنے کے باوجود محکمہ صحت کی جانب سے ضروری فنڈ لیب کو فراہم نہیں کیا گیا، جب کہ تنخواہوں کی مد میں لیب کی ماہانہ اخراجات تقریباً 28 لاکھ روپے ہیں۔ 

 خط میں لیب کی اہمیت کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ لیب کی بندش سے کرونا وبا کے لے بنایا گیا صوبائی ٹیسٹنگ پروگرام متاثر ہو گا۔ 

اسی طرح خط کے مطابق اس بات کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ لیب کی بندش سے صوبے میں دیگر متعدی بیماریوں کی ٹیسٹنگ بھی متاثر ہو گی جبکہ لیب میں موجود دو کروڑ سے زائد کی آلات بھی ناکارہ ہو جائیں گے۔

لیبارٹری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر یاسر یوسفزئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس لیب کی بندش سے سب سے زیادہ نقصان تب ہو گا جب صوبے میں کوئی وبا پھوٹ پڑے، کیونکہ اس لیب کے اندر ہم نے باقاعدہ طور لوگوں کو تربیت دے کر اس قابل بنایا ہے کہ وہ وبا کے دوران ٹیسٹنگ کر کے محکمہ صحت کی وبا کو کنٹرول میں کرنے میں مدد کرے۔ 

اسی طرح ڈاکٹر یاسر کے مطابق ڈینگی، ہیضہ سمیت دیگر متعدی بیماریوں کے دوران ہم محکمہ صحت کی مدد کرتے ہے اور اسی لیب کے تحت ہم نے دیگر اضلاع میں 11 چھوٹی لیبارٹریاں بھی قائم کی ہیں تاکہ اضلاع کی سطح پر نمونے اکٹھے کر سکیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر یاسر نے بتایا، ’اس سے بڑا نقصان یہ بھی ہو گا کہ گذشتہ تقریباً چھ سالوں میں ہم نے درجنوں لوگوں کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ لیب کے طریقہ کار اور یہاں پر نمونوں پر کام کر سکیں۔ لیب کی بندش سے یہ ماہر افراد چھوڑ کر چلے جائیں گے جو اب محکمہ صحت اور صوبے کے عوام کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔‘ 

لیبارٹری کے آلات کے بارے میں ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ اس لیب میں نصب آلات یہاں موجود جگہ کے مطابق انسٹال کیے گئے ہیں جو کسی دوسرے جگہ پر منتقل نہیں کیے جا سکتے اور یہی وجہ ہے کہ لیب کی بندش سے یہاں پر موجود کروڑوں کی آلات ناکارہ ہو جائیں گے۔ 

اس کے ساتھ ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ لیب میں نمونوں اور دیگر اہم مطالعات اور ڈیٹا کی آرکائیوز بنائی گئی ہیں، اور لیب کی بندش سے وہ آرکائیوز بھی ضائع ہو جائیں گی کیونکہ لیب کی بندش سے پہلے یہ نمونے ضائع کرنا ضروری ہوں گے۔ 

ڈاکٹر یاسر کے مطابق ماضی میں اس لیب کو مختلف مواقع پر بین الاقوامی صحت کے اداروں کی جانب سے تربیت اور دیگر شعبوں کی مد میں فنڈ فراہم کیے گئے ہیں تاہم لیب کی بندش سے صوبے کے عوام اس فنڈ سے محروم ہو جائیں گے۔ 

پبلک ہیلتھ لیب کو فنڈ کی کمی کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر شوکت علی سے رابطہ لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

اس مسئلے کے حوالے سے نگران وزیر اطلاعات فیروز جمال شاہ کے ساتھ جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کے حوالے سے ان کو علم نہیں ہے لیکن وہ تفصیلات لے کر انڈپینڈنٹ اردو کو آگاہ کریں گے۔ ان کی جانب سے جب بھی کوئی موقف سامنے آ جائے تو اس کو اس رپورٹ میں شامل کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت