سپیشل اولمپکس میں پاکستانی اتھلیٹس کی کارکردگی شاندار رہی

اکیاون سال بعد جرمنی کو سپیشل اولمپکس کی میزبانی کا موقع ملا، جس میں 190 ممالک کی ٹیموں کے سات ہزار ایتھلیٹس نے حصہ لیا اور اختتامی تقریب 25 جون کو منعقد ہوئی۔  

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں 17 جون سے شروع ہونے والے 16ویں اسپیشل اولمپکس 25 جون کو ایک رنگا رنگ تقریب کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے۔

اکیاون سال بعد جرمنی کو اس قسم کے کسی بین الاقوامی ایونٹ کی میزبانی کا موقع ملا، جس میں 190 ممالک کی ٹیموں کے سات ہزار ایتھلیٹس نے حصہ لیا۔  

اسپیشل اولمپکس میں 26 مختلف کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوئے، جن میں سے 11 کھیلوں کے مقابلوں میں پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

پاکستانی کھلاڑیوں نے جن کھیلوں میں حصہ لیا ان میں ایتھلیٹکس، بیڈ منٹن، باسکٹ بال، بوچے، سائیکلنگ، فٹ سول، ہاکی، پاورلفٹنگ، تیراکی، ٹینس اور ٹیبل ٹینس شامل تھے۔

ان کھیلوں کے مقابلوں میں بہترین کارکردگی کے بدلے پاکستان کے حصے میں دس گولڈ میڈلز آئے۔

پاکستانی کھلاڑیوں میں بہترین کارکردگی پاور لفٹنگ ٹیم کے ایتھلیٹس کی رہی جنہوں نے مختلف مقابلوں میں نہ صرف کئی گولڈ میلز بلکہ چاندی و کانسی کے بھی بیشتر تمغے سینوں پر سجائے۔

پاور لفٹنگ کے مقابلوں میں حصے لینے کے لیے پاکستان کے مختلف شہروں سے پانچ کھلاڑیوں کو منتخب کیا گیا تھا جن میں ایبٹ آباد کے حبیب اللہ نے 105 ویٹ کلاس میں پاکستان کے لئے ایک سونے اور تین چاندی کے تمغے حاصل کیے۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کراچی کے سیف اللہ سولنگی اسپیشل اولمپکس میں کسی بھی مقابلے میں پاکستان کے لئے پہلا سونے کا تمغہ حاصل کرنے والے کھلاڑی ٹھہرے، جبکہ انہوں نے دوسرے مقابلوں میں بھی سونے کے دو اور ایک ایک چاندی اور کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

پاورلفٹنگ کے مقابلوں میں خواتین کے لیے پہلی مرتبہ کوٹہ مقرر کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں جہلم سے تعلق رکھنے والی ماریہ منظور نے پاکستان کے لیے پہلی ہی دفعہ میں ایک چاندی اور ایک کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

پنجاب کے شہر ربوا سے تعلق رکھنے والے حیدر احمد نے پاکستان کے لیے دو چاندی اور دو کانسی کے تمغے اپنے نام کرائے، جبکہ لاہور کے حمزہ ڈوگر نے بھی بہترین کارکردگی پر کئی ربنز حاصل کیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل