سپریم کورٹ ججز کی تنخواہوں میں اضافے کا آرڈیننس جاری

آرڈیننس کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی تنخواہ 12 لاکھ 29 ہزار 189 روپے ہوگی جبکہ سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہ 11 لاکھ 61 ہزار 163 روپے ہوگی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت کا ایک منظر (سہیل اختر/انڈپینڈنٹ اردو)

قائم مقام صدر پاکستان صادق سنجرانی نے سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہوں سے متعلق آرڈیننس جاری کر دیا ہے جس کے بعد چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔

منگل کے روز جاری کردہ آرڈیننس کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی تنخواہ 12 لاکھ 29 ہزار 189 روپے ہوگی جبکہ سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہ 11 لاکھ 61 ہزار 163 روپے ہوگی۔

قائم مقام صدر کی جانب سے منظوری کے بعد وزارت قانون نے سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہوں کا 2022 کا آرڈر ختم کرتے ہوئے سال 2023 کا آرڈیننس جاری کیا ہے۔

اس سے قبل سال 2022 کے آرڈر کے مطابق چیف جسٹس کی ماہانہ تنخواہ 10 لاکھ 24 ہزار 324 روپے تھی جبکہ سپریم کورٹ کے جج کی تنخواہ نو لاکھ 67 ہزار 636 روپے تھی۔

گذشتہ دنوں ججز کو ملنے والی مراعات کا معاملہ کافی زیر بحث رہا۔

چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت ہونے والی پارلیمان کی پبلک اکاونٹس کمیٹی میں یہ انکشاف کیا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کی تنخواہ ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کمیٹی نے صدر، وزیراعظم، ججز، وفاقی وزرا، بیوروکریٹس اور ارکان اسمبلی کو ملنے والی مراعات کی تفصیلات جمع کروانے کی ہدایت کی تھی جنہیں پیش کیے جانے پر چیئرمین کمیٹی نے مذکورہ تفصیلات کو نامکمل قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

انڈپینڈنٹ اردو کو حاصل تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ایک گھر، ایک بلٹ پروف گاڑی، 1800 سی سی گاڑی، 600 لیٹر پیٹرول، لا محدود یوٹیلیٹیز اور 8000 روپے ٹی اے ڈی اے مراعات کے طور پر حاصل ہیں۔

سپریم کورٹ کے جج کو گھر کے بجائے 68 ہزار گھر کا الاؤنس، دو 1800 سی سی گاڑیاں، 600 لیٹر پیٹرول، لا محدود یوٹیلیٹیز اور 8000 ٹی اے ڈی اے مراعات دی گئی ہیں۔

وفاقی وزیر کو ایک 1800 سی سی گاڑی اور 600 لیٹر پیٹرول مراعات میں شامل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت