ڈالر کے ریٹ میں اتار چڑھاؤ، مستقل یا عارضی؟

کرنسی ایکسچینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جزل سیکرٹری ظفر پراچہ کے مطابق: ’پاکستان میں عید الاضحیٰ سے پہلے پندرہ اور آخری پندرہ دنوں میں ڈالر کی قدر میں اضافہ رہنا معمول ہے کیونکہ اوورسیز پاکستانی ملک میں آتے ہیں۔‘

کرنسی ڈیلر 19 جولائی 2022 کو کراچی میں امریکی ڈالر گنتے ہوئے (اے ایف پی)

شیخ امجد کا تعلق لاہور سے ہے۔ وہ لیپ ٹاپ کی درآمدات کا کاروبار کرتے ہیں اور حفیظ سنٹر خدمت گروپ کے جزل سیکریٹری ہیں۔

وہ درآمدات کے لیے ڈالرز کی خریداری کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن انہوں نے دیکھا کہ آئی ایم ایف سے سٹینڈ بائے ایگریمنٹ (ایس بی اے) کے بعد پاکستان میں ڈالر کی قدر میں ایک ہی جھٹکے میں بڑی کمی واقع ہوئی اور اب اضافہ ہو رہا ہے۔ مارکیٹ میں ڈالر نہیں مل رہا۔ بے ہنگم اتار چڑھاؤ کی وجہ سے انہوں نے فی الحال ڈالرز کی خریداری کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔

ماضی میں اس اتار چڑھاؤ کی وجہ سے وہ کافی نقصان اٹھا چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ امپورٹ کے لیے اس وقت تک ڈالرز نہیں خریدیں گے جب تک اس میں ٹھہراؤ نہیں آ جاتا۔

حکومتی سطح پر مارکیٹ کے اس ردعمل کو سراہا جا رہا ہے لیکن عوامی سطح پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان کے کاروباری دوست بھی یہ سوال کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ کیا ڈالر کی قدر میں کمی مستقل ہے یا عارضی ہے؟ وہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا آنے والے دنوں میں ڈالر کی قیمت دوبارہ بڑھ جائے گی یا استحکام برقرار رہے گا۔

کرنسی ایکسچینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جزل سیکرٹری ظفر پراچہ کہتے ہیں کہ ’فی الحال معاہدے کے بعد ڈالر ریٹ میں کمی کا ہنی مون پیریڈ چل رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں روپے پر دباؤ بڑھے گا۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ جس رفتار سے ڈالر نیچے گرا، اس سے دوگنی رفتار سے اوپر آیا ہے۔‘

بقول ظفر پراچہ: ’ڈالر کا ریٹ 244 نہیں ہے۔ بینک آف امریکہ کے مطابق 2024 میں ریٹ 340 ہے۔ یہ دونوں ریٹ درست نہیں ہیں۔ ڈالر کا حقیقی ریٹ قائم کرنے کے لیے منی ایکسچینجرز کو نومبر 2022 والی پوزیشن پر دوبارہ لانے کی ضرورت ہے۔ غیر ضروری پابندیوں کی وجہ سے ڈالر نہ ہمارے پاس آ رہا ہے اور نہ بینکوں میں جا رہا ہے۔ آج افغانستان اور ایران سمگلنگ کی وجہ سے گرے مارکیٹ میں ڈالر 305 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جس سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے۔ اگر امپورٹ کی ادائیگیوں کا اختیار منی ایکسچینجرز کو دیا جائے تو ڈالر کی قدر میں استحکام آ سکتا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’پاکستان میں عید الاضحیٰ سے پہلے 15 اور آخری 15 دنوں میں ڈالر کی قدر میں اضافہ رہنا معمول ہے کیونکہ اوورسیز پاکستانی ملک میں آتے ہیں، وہ ڈالرز مارکیٹ میں بیچتے ہیں جس سے طلب رسد زیادہ ہوجاتی ہے۔ ان دنوں چونکہ کاروبار ایکٹویٹی کم ہوتی ہے اس لیے ڈالر کی طلب بھی کم رہتی ہے۔ ڈالر کی قدر کا صحیح اندازہ 15 جولائی کے بعد ہو سکتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سعودی عرب اور روس نے تیل کی پیداوار میں کمی کی ہے۔ جس سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس سے پیٹرولیم مصنوعات کی ڈالرز میں ادائیگی سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ بڑھ سکتا ہے جو کہ ڈالر ریٹ بڑھنے کا سبب بن سکتا ہے۔‘

محمد ہارون کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ وہ ہارون ٹیکسٹائل کے مالک ہیں اور درآمدات، مینوفکچرنگ اور برآمدات سے منسلک ہیں۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ’بینک برآمدات کرنے والوں کے لیے چند مخصوص آئٹمز کی درآمدات کے لیے ایل سیز کھول رہے ہیں جس سے کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ڈالر کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کرنے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے، لیکن اس سے کاروبار کو فائدے کی بجائے نقصان ہو گا۔ انٹربینک کی بجائے گرے مارکیٹ سے ٹریڈ بڑھ رہی ہے۔ اس اپروچ کی وجہ سے آنے والے دنوں میں بینکنگ چینلز سے ترسیلات زر میں مزید کمی آنے کا خدشہ ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب نجی بینک کے سینیئر وائس پریزیڈنٹ احتشام کا موقف ہے کہ ’بینک ضرورت پڑنے پر اوپن مارکیٹ سے ڈالر خریدنے کے مجاز ہیں لیکن سٹیٹ بینک نے زبانی حکم کے ذریعے بینکوں کو اوپن مارکیٹ سے ڈالر خریدنے سے منع کیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ایسا ملکی مفاد میں کیا جا رہا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اگر کوئی بینک اوپن مارکیٹ سے ڈالر خرید کر امپورٹ کی ادائیگی کر دے تو بینک کے پریزیڈنٹ کو بلا کر سرزنش کی جاتی ہے۔ سٹیٹ بینک نے امپورٹ پر سے پابندی ہٹانے کا نوٹیفیکیشن تو کر دیا ہے لیکن وہ ابھی تک بینکوں کو نہیں ملا ہے۔ صرف ضروری اشیا درآمد کرنے کا پرانا نوٹیفیکیشن ابھی تک چل رہا ہے۔ اسے ختم نہیں کیا گیا ہے۔ مستقبل میں ڈالر ریٹ میں اضافہ یقینی ہے۔‘

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اوپن مارکیٹ کی بجائے انٹربینک مارکیٹ سے ڈالر حاصل کرنے کی اجازت 31 جولائی تک دو مہینے کی مختصر مدت کے لیے دی گئی ہے۔ سٹیٹ بینک نے 2006 میں ایک سرکلر کے ذریعے بینکوں کو امریکی ڈالر ایکسچینج کمپنیوں سے خریدنے کی اجازت دی تھی، جسے 17 سال بعد ختم کر دیا گیا ہے۔

نجی بینک کے سینیئر وائس پریزیڈنٹ احتشام نے مزید بتایا کہ ’آئی ایم ایف کے پاس ایسا کوئی نظام نہیں ہے کہ وہ بینکوں سے یہ معلوم کروا سکے کہ عملی طور پر ایل سیز پر پابندی ہے یا نہیں۔ ان کے پاس حکومت کے نوٹیفیکیشن پر یقین کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔‘

اس معاملے پر لاہور چیمبر آف کامرس انڈسٹری کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن اور پاکستان کی سب سے بڑی بیکری چین کے مالک ریاض الحسن کا کہنا ہے کہ ’جن ایل سیز کی مکمل ادائیگیاں کر دی گئی ہیں ان کے کاغذات بینک کلیئر نہیں کر رہے۔ سٹیٹ بینک کی طرف سے دو ماہ تک کاغذات کلیئر نہ کرنے کا حکم ہے، جس کا مطلب ہے کہ ڈالر کا اصل ریٹ کہیں زیادہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بجٹ اور پالیسیوں کی حد تک کافی شرائط پر عمل درآمد ہوا ہے لیکن ان پالیسیوں کو صحیح معنوں میں لاگو کرنا ایک چیلنج ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ 23 معاہدوں میں سے صرف ایک ہی پر صحیح معنوں میں مکمل ہوا ہے، بقیہ ادھورے ہی رہے ہیں اور موڈیز کے مطابق یہ پروگرام بھی مکمل ہونا مشکل ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مسئلہ یہ بھی ہے کہ پورٹ پر تقریبا چار ارب ڈالرز کے کنٹینر کلیئرنس کے لیے رکے ہوئے ہیں۔ اگر صرف وہی کلیئر ہو جائیں تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر منفی ہو سکتے ہیں اور ڈالر 350 روپے کا ہوسکتا ہے۔ یہ وقت سمجھداری سے درست فیصلے لینے کا ہے۔‘

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ