ڈراما ’گناہ،‘ جنون کی تصویر

ڈرامے میں ایک خاتون پولیس آفیسر کا کردار عورت کے مثبت رویے کا غماز ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کے ہر میدان میں آنے سے معاشرے میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے۔

 ڈرامے میں ایس ایچ او کا کردار ادا کرنے والی رابعہ بٹ (ایکسپریس ٹی وی)

’گناہ‘ ڈرامے کی کہانی غیر روایتی ہے لیکن اس غیر روایتی پن کو جنون کی منطق دی گئی ہے اور اسے یونہی گھریلو کہانی بنا کر پیش نہیں کر دیا۔

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے 

یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جس کی وجہ سے خاندان کی زندگیاں اور رشتے داؤ پہ لگ گئے ہیں۔ یہ مختصر ڈراما سیریل ہے جس کا مزاج ویب سیریز والا ہے۔

گل نور اور گل مہر دو بہنیں ہیں۔ گل نور کی شادی ملک حیات سے ہو جاتی ہے اور وہ شہر آ جاتی ہے وہ ایک تابعدار، مثالی و روایتی بیٹی ہے۔

 گل مہر اس کے برعکس ایک باغی اور حاسد بیٹی ہے جو اپنے نصیب کا مقابلہ اپنی بہن کے نصیب سے کر تی ہے اور اپنے ہی بہنوئی پہ عاشق ہو جاتی ہے۔ یہ جنون ملک حیات کو بھی اس کی طرف مائل کر دیتا ہے۔

گل نور کے دو بچے ہیں جن کو پڑھانے ایک لڑکا آتا ہے۔ جب ملک حیات گل مہر کو کہتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا تو گل مہر جو تدابیر کرتی ہے ان میں سے ایک تدبیر ٹیوشن والے لڑکے سے گل نور کی محبت یا تعلق ہونا ہے جس منصوبے پہ عمل کرتے ہوئے گل نور اور اس لڑکے کو منظر سے ہی غائب کر دیا جاتا ہے، گویا دونوں بھاگ گئے ہیں۔

اس سب منصوبے میں ملک حیات گل مہر کا ساتھ دیتا ہے۔ یوں دونوں اپنی نئی منزل کی طرف بڑھتے ہیں، لیکن گل مہر کے اندر کا احساس جرم ڈراؤنے خواب بن کر ظاہر ہوتا ہے جن کو وہ دونوں خواب سمجھ کر پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔

عزت اچھلے گی اس لیے ایف آئی آر درج نہیں کروائی جاتی لیکن لڑکے کی ماں اپنے بیٹے کی کمشدگی کی ایف آئی آر درج کروانا چاہتی ہے مگر ناکام ہو جاتی ہے۔

آئی جی تو ملک حیات کا دوست ہے اور علاقے کا ایس ایچ او بھی تابع ہے، لیکن اچانک اس کا تبادلہ ہو جاتا ہے۔ یہاں کہانی کا پلاٹ ہی بدل جاتا ہے۔

 نئی ایس ایچ او لڑکی اس کیس میں دلچسپی لیتے ہوئے اس کو اپنے محکمانہ طریقے سے کھوجنے لگتی ہے۔ وہ ملک حیات کی پیش کش کو قبول نہیں کرتی اور اپنا کام خاموشی سے جاری رکھتی ہے۔

آخر کار اس نے گھر کی اس ملازمہ رخسانہ کا سراغ لگا لیا ہے جس کو واقعہ سے پہلے ہی گھر سے غائب کر دیا گیا تھا۔ وہ اس جنون اور اسے متعلق واقعہ کی عینی شاہد اور گل نور کے لیے مخلص ساتھی ہے۔

خلوص اور سچائی کا کوئی نہ کوئی دوست ضرور ہوتا ہے جو وقت بدل دیتا ہے۔

دوسری طرف ملک حیات اور گل مہر کی شادی کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ گل مہر کی ماں کو تعجب ہے کہ وہ اتنی خوشی سے اس شادی پہ راضی کیسے ہو گئی ہے۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انسان اپنی دانست کے مطابق کہانی بناتا ہے اور فطرت اپنے نظام کے مطابق چل رہی ہوتی ہے، جب دونوں کا تصادم ہوتا ہے تو نتیجہ فطرت کے حق میں ہی نکلتا ہے۔

ڈرامے کی اٹھان بتا رہی ہے عین شادی کے موقعے پہ ایس ایچ او ملک حیات کو حیران کن تحفہ دینے والی ہے۔

ڈرامے میں ایک خاتون پولیس آفیسر کا ذمہ دار رویہ عورت کے مثبت رویے کا غماز ہے اور ہمیں علم ہو رہا ہے کہ خواتین کے ہر میدان میں آنے سے بھلے ان کی ذاتی زندگی متاثر ہو رہی ہے لیکن معاشرے میں مثبت تبدیلی بھی آ رہی ہے۔

معلوم ہو رہا ہے عورت کا ہر فیلڈ میں ہونا کتنا ضروری ہے۔ عورت عورت کی دشمن والا فلسفہ پرانا اور مردانہ ہے۔ ایک عورت عورت کی کیفیات سمجھ کر اس کے مطابق فیصلے کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ رخسار کو زندہ تلاش کرنے کا حکم دیتی ہے۔

رابعہ بٹ نے ایس ایچ او کا بہت جاندار کردار ادا کیا ہے۔ صبا قمر ایک نفسیاتی بیمار، شدید احساس برتری میں مبتلا، مادیت کی ہوس کا شکار لڑکی دکھائی گئی ہے جس کردار کو اس نے خوب نبھایا ہے۔ سرمد کھوسٹ ملک حیات کے طور پہ جاگیردارانہ  روئیے کو عمدگی سے ادا کر رہے ہیں۔

ڈراما ایکسپریس ٹی وی سے نشر ہو رہا ہے۔ مصنف محسن علی نے کہانی کو بہت ناپ تول کے لکھا ہے۔ ڈرامے کے عمومی انداز کو جدید تکنیک میں عمدگی سے ڈھالاہے جو روایتی تکنیک سے زیادہ پسند کی جاتی ہے۔

ہدایت کار عدنان سرور ہیں۔ عکس بندی، موسیقی، لوکیشنز کا انتخاب، غرض ہر شعبہ میں محنت دکھائی دے رہی ہے اور دیکھنے والے ٹیم ورک کی داد دیے بنا نہیں رہ سکتے۔

دیکھنا یہ ہے کہ جنون، دیوانی، دھوکہ، بے حسی بازی لے جاتے ہیں یا فطرت و سچائی کے پھول مسکراتے ہیں جس کی زمین میں ایس ایچ او نے خلوص بویا ہے اور نوکری سے وفا کی کوشش کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ