شن گانگ کی برطرفی اور چینی سفارت کاری پر اس کے ممکنہ اثرات

گانگ کی بمشکل نصف سال بعد ہی صدر شی کی کابینہ سے اچانک برطرفی نے تجزیہ کاروں کو بھی حیران کر دیا ہے۔

23 مئی 2023 کو بیجنگ میں چین کے سابق وزیر خارجہ شن گانگ ایک نیوز کانفرنس میں شریک ہیں (اے ایف پی)

چین کے سابق وزیر خارجہ شن گانگ کی عہدے سے بےطرفی اور ان کے موجودہ ٹھکانے کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں جو ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے عوام کی نظروں سے اوجھل ہیں۔

چین میں ’ولف واریئر‘ سفارت کار کے نام سے مشہور 57 سالہ شن گانگ صدر شی جن پنگ کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک تھے جن کے اچانک منظر عام سے غائب ہونے پر قیاس آرائیاں عروج پر ہیں۔ گانگ کی بمشکل نصف سال بعد ہی صدر شی کی کابینہ سے اچانک برطرفی نے تجزیہ کاروں کو بھی حیران کر دیا ہے۔

شن گانگ کے بارے میں چہ مگیوں میں اضافے کے باوجود بیجنگ کی قیادت کی طرف سے بھی کوئی واضح جواب نہیں ملا ہے۔

روزانہ ہونے والی حکومتی بریفنگ کے دوران ان کے بارے میں کئی سوالات کو سرکاری ریکارڈ سے پراسرار طور پر ہٹا دیا گیا۔

چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ صدر شی کی کابینہ کے اعلیٰ رہنما صحت کی وجوہات کی بنا پر کام سے دور ہیں۔

وزارت نے ان کی بیماری کی مزید تفصیلات شیئر نہیں کیں جس کے بعد طویل عرصے سے حکمران کمیونسٹ قیادت کے اعلیٰ افسران اور ان کے فیصلہ سازوں کی جانب سے برقرار رکھی گئی رازداری کی پالیسی کے بارے میں بحث چھڑ گئی۔

بے دخلی اور شن گانگ کا غائب ہونا ممکنہ طور پر ایک دہائی کے دوران چین میں برپا ہونے والے سب سے بڑے سیاسی ہنگاموں میں سے ایک کا موجب ہو سکتا ہے۔

یہ گذشتہ سال کے اواخر سے ایک ڈرامائی اور غیر واضح صورت حال کی بھی نشاندہی کرتا ہے جب ملک کے ایک سابق صدر ہوجن تاؤ کو کمیونسٹ پارٹی کے زیر انتظام نیشنل کانگریس سے نکال دیا گیا تھا۔

شن گانگ کو آخری بار 25 جون کو دیکھا گیا تھا جہاں انہوں نے بیجنگ میں سری لنکا، روس اور ویتنام کے مندوبین کے ساتھ بات چیت کی تھی۔ یہ عوامی طور پر نظر آنے والی ان کی آخری جھلک تھی۔

اور کچھ ہی دن پہلے وہ امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن کے ساتھ  ہونے والی ساڑھے پانچ گھنٹے طویل ملاقات کا حصہ تھے جس کے بعد انہیں عشائیہ دیا گیا۔ اس ملاقات کو دونوں ممالک کی جانب سے واضح اور تعمیری قرار دیا گیا۔

11 جولائی کو چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ شن گانگ غیر واضح ’صحت کے مسائل‘ کی بنا پر انڈونیشیا میں ہونے والے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکتے۔

ان کی غیر موجودگی کے باوجود چینی وزیر خارجہ کے دفتر میں کام بلا روک ٹوک جاری ہے۔

بدھ کو آخرکار چین کو شن گانگ کی غیر واضح گمشدگی کے بارے میں روزانہ بریفنگ میں 20 سے زیادہ سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن ان سب صحافیوں کو وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے محتاط الفاظ میں جواب دیا۔

یہ پوچھے جانے پر کہ شن کی غیر موجودگی نے امریکہ کے ساتھ چین کی سفارت کاری کو کس طرح متاثر کیا کیوں کہ ان کی گمشدگی بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان کشیدہ دو طرفہ تعلقات کے درمیان ایک نازک موڑ پر سامنے آئی ہے، اس پر ماؤ ننگ نے ایک مخفی سا جواب دیا۔

انہوں نے کہا: ’چین کی سفارت کاری ترقی کر رہی ہے اور منظم انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔‘

جب ان سے دوبارہ پوچھا گیا کہ کیا شن گانگ سے بدعنوانی کے حوالے سے تحقیقات ہو رہی ہیں تو ترجمان نے کہا کہ ان کے پاس مطلوبہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

جب کہ اس طرح کی بریفنگ شاذ و نادر ہی آمرانہ حکومت کے اہم معاملات کے بارے میں ٹھوس معلومات جاری کرتی ہے، خاص طور پر غیر ملکی میڈیا کے لیے، انہیں عام طور پر احتیاط سے بہلا دیا جاتا ہے اور اشاعت کے لیے زبانی طور پر ریکارڈنگ کی اجازت دی جاتی ہے۔

شن گانگ کی غیر موجودگی کے حوالے سے سوالات کو شام کے بعد شائع ہونے والے ریکارڈ سے مکمل طور پر ہٹا دیا گیا تھا۔

چینی سرکاری میڈیا کے ریکارڈ میں صرف سات سوالات کا حوالہ دیا گیا جس نے حال ہی میں چین کے سب سے اہم وزیروں میں سے ایک کے بارے میں اصرار کو بڑھاوا دیا۔

2000 کی دہائی کے اوائل میں شروع ہونے والے سفارت کاری کے اپنے طویل کیریئر کے ساتھ شن گانگ گذشتہ سال دسمبر میں اپنی تقرری کے بعد چین کے سب سے کم عمر وزیر خارجہ میں سے ایک بنے تھے۔

انہوں نے اسی وزارت کے ترجمان اور اس کے چیف پروٹوکول آفیسر کے طور پر بھی کام کیا۔ انہوں نے اس دوران غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ صدر شی کی مختلف بات چیت کو مربوط کیا۔

وہ چین کی بڑھتی ہوئی جارحانہ خارجہ پالیسی کے دفاع میں جارحانہ انداز میں بات کرنے والے پہلے سفارت کاروں میں سے ایک ہونے کی وجہ سے بھی پہچانے جاتے ہیں۔ اس سفارت کاری کے انداز کو ’ولف واریئر‘ ڈپلومیسی کہا جاتا ہے۔

سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی میں ماہر سیاسیات جا ایان چونگ نے کہا کہ بیجنگ سے ان کی گمشدگی اور وضاحت کی عدم موجودگی نے جوابات سے زیادہ سوالات کو جنم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ موجودہ سیاسی نظام میں دھندلے پن اور غیر متوقع صورت حال اور حتیٰ کہ من مانی کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔

موجودہ جیو پولیٹیکل مصروفیات میں ان کی غیر موجودگی کا خلا ان کے پیشرو اور اعلیٰ عہدیدار وانگ یی پُر کر رہے ہیں جو اب اس ہفتے جوہانسبرگ میں ’برکس‘ (برازیل، روس، انڈیا اور جنوبی افریقہ) ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کے اجلاس میں چین کی نمائندگی کریں گے۔

وانگ کو اب ایسے وقت میں کئی اتحادیوں کے ساتھ چین کے رابطوں میں اپنا عبوری کردار ادا کرنا ہو گا جب یوکرین میں جنگ جاری ہے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب ہو رہے ہیں۔

شن گانگ نے اپنے عہدے پر رہتے ہوئے وزیر خارجہ کی حیثیت سے مختلف ممالک کا دورہ کیا تھا جن میں رواں سال جنوری میں افریقہ اور مئی میں یورپ کے کئی ممالک کے دورے شامل ہیں جہاں انہوں نے یوکرین میں جنگ بندی کے لیے چین کے مطالبے کو آگے بڑھایا جو ایک ایسا موضوع تھا جس پر چین کو روس کے حملے کی مذمت نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

تجزیہ کاروں نے کہا کہ سفارت کاری کے ممتاز چینی شخصیت کے طور پر وانگ مہینوں کی دشمنی کے بعد امریکہ اور چین کے تعلقات کو مستحکم بنانے کو ترجیح دیں گے اور اس سال نومبر میں صدر شی کے ممکنہ دورہ امریکہ کو ٹریک پر رکھیں گے۔

تائیوان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات پر چین کی پوزیشن کو سنبھالنے میں ان کی کارکردگی 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوران بھی اہم ہوگی۔

موجودہ ہنگامہ چینی قیادت میں صدر شی کے مقام اور ان کے فیصلہ سازی کے اختیارات کے بارے میں بھی ہے جس کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے شن گانگ کو ترجمان سے لے کر پروٹوکول چیف، پھر سفیر اور آخر میں وزیر خارجہ تک تیزی سے ترقی کی منازل طے کرائیں۔

چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر سٹیو سانگ نے کہا کہ ’شن گانگ معاملے کا اصل پہلو یہ ہے کہ اس نے یہ ظاہر کیا کہ شن کو ہیلی کاپٹر میں وزیر خارجہ کے عہدے پر پہنچانے میں شی جن پنگ کا فیصلہ کتنا ناقص تھا اور پھر ان کی برطرفی پر عمل کرنے میں اتنا وقت لگا۔‘

لندن یونیورسٹی سکول آف اورینٹل اینڈ افریقن سٹڈیز اور چینی قیادت کے اقدامات پر گہری نظر رکھنے والے سٹیو سانگ نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا: ’صدر شی اپنا کنٹرول نہیں کھو رہے ہیں لیکن پارٹی میں وہ لوگ جو خفیہ طور پر ان کے خلاف ہیں، انہیں صدر شی کی کمزوریوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس سے پہلے کہ شن گانگ کا مسئلہ بن جائے، صدر شی نے حتمی فیصلے کا مظاہرہ کیا چاہیے وہ صحیح تھا یا نہیں۔

’انہوں نے شن گانگ کے معاملے میں ایسا نہیں دکھایا جو ان کے لیے انتہائی شرمندگی کا باعث ہے۔‘

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا