سعودی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھائیں: وزیراعظم

سعودی نائب وزیر خارجہ نے ایک اعلی سطحی وفد کے ہمراہ پاکستانی وزیراعظم سے منگل کو اسلام آباد میں ملاقات کی تھی جس میں سرمایہ کاری سمیت دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف 8 اگست 2023 کو سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ انجینیئر ولید الخریجی کی قیادت میں ایک وفد سے اسلام آباد میں ملاقات کر رہے ہیں (ایوان وزیراعظم)

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی کمپنیوں کو دعوت دی ہے کہ وہ پاکستان میں ’زراعت، کان کنی، آئی ٹی، توانائی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔‘

انہوں نے یہ بات سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ انجینیئر ولید الخریجی سے منگل کو اسلام آباد میں ملاقات میں کہی۔

سعودی نائب وزیر خارجہ کے وفد میں توانائی، صحت، ماحولیات اور زراعت، صنعت اور معدنی وسائل، سرمایہ کاری کی سعودی وزارتوں کے ارکان بھی شامل تھے۔

ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے معاشی استحکام کی کوششں میں سعودی عرب کی مدد کو بھی سراہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کا قیام خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک بالخصوص مملکت سعودی عرب کی ممکنہ سرمایہ کاری کو آسان اور تیز تر بنائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان کے مطابق: ’وزیراعظم نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں سعودی عرب کی سنجیدہ دلچسپی کو سراہا۔‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان کثیرالجہتی تعاون کو مزید بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔

حال ہی میں حکومت نے پاکستان کی کی مجموعی معاشی صورت حال میں بہتری کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اس کے دائرہ کار میں زراعت، آئی ٹی، کان کنی، معدنیات اور دفاعی پیداوار شعبوں کو بھی شامل کیا گیا۔

اس کونسل کے قیام کا ایک مقصد خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب سے ممکنہ سرمایہ کاری کے عمل کو تیز بنانا ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات ہیں۔ پاکستان موجودہ معاشی مشکلات میں حکومت کی مدد کے لیے سعودی عرب نے گذشتہ ماہ دو ارب ڈالر سٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع کروائے تھے جس سے ملک کے تیزی سے کم ہوتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو کچھ ڈھارس ملی تھی۔

پاکستانی حکام مختلف مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ وہ آنے والے برسوں میں سعودی عرب سے بڑی سرمایہ کے منصوبے متوقع ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت