نیا روسی تعلیمی نظام، کلاشنکوف جوڑنا اور چلانا سکھایا جائے گا

برطانوی نیوز میگزین دا سپیکٹیٹر کی رپورٹ کے مطابق ثانوی تعلیم کے آخری سال کے 16 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کے لیے یہ فوجی تربیت ان کی ’زندگی کی حفاظت کے بنیادی اصولوں‘ کی کلاسوں کے حصے کے طور پر دی جائے گی۔

7 جنوری 2023 کی اس تصویر میں امریکی بحریہ کے ہاتھوں مبینہ طور پر مچھلیاں پکڑنے والے ایک جہاز سے برآمد ہونے ولی ہزاروں کلاشنکوف رائفلز دکھائی گئی ہیں (اے ایف پی)

روس کا نظام تعلیم انقلابی تبدیلی سے گزرنے والا ہے۔ اگلے ماہ جب نیا تعلیمی سال شروع ہو گا تو نوجوانوں کو کلاس میں کلاشنکوف رائفلوں کو جوڑنے، چلانے اور صاف کرنے سمیت دستی بموں کے استعمال اور جنگ کے دوران میں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کا طریقہ سکھایا جائے گا۔

برطانوی نیوز میگزین دا سپیکٹیٹر کی رپورٹ کے مطابق ثانوی تعلیم کے آخری سال کے 16 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کے لیے یہ فوجی تربیت ان کی ’زندگی کی حفاظت کے بنیادی اصولوں‘ کی کلاسوں کے حصے کے طور پر دی جائے گی۔

اس طرح کی کلاسیں 1980 کی دہائی سے مختلف شکلوں میں موجود ہیں۔ ماضی میں بچوں کو کافی عملی مہارتیں سکھائی گئیں، جن میں دہشت گرد حملوں میں محفوظ رہنا، چرنوبل ایٹمی ری ایکٹر کی تباہی جیسے جوہری حادثات کے بعد تابکاری سے نمٹنا اور حال میں آن لائن تحفظ شامل ہے۔

اساتذہ میں تقسیم کیے جانے والے نئے بریفنگ پیکس سے پتہ چلتا ہے کہ طلبہ کو کلاشنکوف سے خود کار فائر تکنیک کی مشق کرنے، لڑائی میں فوجیوں کے بنیادی فرائض سیکھنے اور زخمیوں کو لڑائی والے علاقے سے باہر لے جانا سیکھنے کی ضرورت ہو گی۔

روس کے صدر ولادی میر پوتن کی جانب سے اپریل میں ڈرون کی تربیت کو نصاب میں شامل کرنے پر زور دیے جانے کے بعد اعلان کیا گیا کہ کلاسوں کے ایک حصے کے طور پر ثانوی تعلیم کے سابق افراد کو ڈرونز جوڑنے اور اڑانے کا طریقہ بھی سکھایا جائے گا۔

اگرچہ آزاد روسی میڈیا ادارے ’امپورٹنٹ سٹوریز‘ نے ایسے شواہد شائع کیے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک بھر کے سکولوں نے ڈرون خریدنا شروع کر دیے ہیں، لیکن یوکرین میں جنگ کی مخالفت کرنے پر کریملن کی جانب سے ’غیر ملکی ایجنٹ ‘ قرار دیے گئے سابق استاد اور مورخ سرگی چرنیشوف کو نہیں لگتا کہ بہت سے ادارے اس پروگرام پر عمل کر پائیں گے۔

تمام علاقوں کے سکولوں میں اب ان مضامین کے لیے ایک ہی نصاب پڑھایا جائے گا اور انہیں صرف سرکاری تحریری درسی کتابیں پڑھانے کی اجازت ہو گی۔ سرکاری طور پر مرکزی نصاب میں اس تبدیلی کا مقصد روس کے کسی بھی حصے میں رہنے والے بچوں کو مساوی معیار کی تعلیم حاصل ہو۔ لیکن ڈوما کی طرف سے منظور کردہ تعلیمی بل پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان اصلاحات کے پیچھے زیادہ نظریاتی محرکات ہیں۔

چرنیشوف کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اسباق کا مقصد یوکرین میں کریملن کے اقدامات کو قانونی حیثیت دینا اور انہیں معمول کے مطابق بنانا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس جنگ کی موجودہ قانونی حیثیت میں تعلیم ایک اہم عنصر ہے۔ یعنی جب کوئی سکول ٹیچر آپ سے کہتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ نارمل ہے تو ان کے پاس ایسا کہنے کا اختیار ہو گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جون میں جب وزیر تعلیم سرگی کروٹسوف نے نصاب میں تبدیلی کا اعلان کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’اجتماعی مغرب‘ کی جانب سے روس کے خلاف شروع کی جانے والی ’معلومات کی جنگ‘ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ تعلیمی نظام کو ’بچوں کو معروضی طور پر سچ بتانے‘ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

سکولوں کو ’اہم معاملات پر بات چیت‘ کے نام سے ہفتہ وار کلاس بھی جاری رکھنا ہو گی، جو گذشتہ سال ہر سال کے گروپ کے لیے متعارف کروائی گئی تھی۔

روسی فوج کو بدنام کرنے کے الزام کے بعد اپنی تدریسی ملازمت سے محروم ہونے والے واسیلی رزوموف کے مطابق اس کے باوجود تمام اساتذہ نصاب کے منصوبوں پر عمل درآمد نہیں کر رہے۔

کریملن کے حامی ساتھیوں، طلبہ یا والدین کی طرف سے جاسوسی کیے جانے کے خوف کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے اساتذہ ضرورت کے مطابق اسباق پڑھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ رزوموف کہتے ہیں کہ سکول ’ایسی جگہ ہیں جہاں بنیادی محرک خوف ہے۔‘

سائبیریا سے تعلق رکھنے والی ایک ٹیچر نتالیا پوڈولیاک کہتی ہیں کہ ’اگر آپ حکام کے وفادار ہیں، اگر آپ رہنما کو قبول کرتے ہیں، ہر ممکن طریقے سے ان کی حمایت کرتے ہیں تو وہ آپ کو ملازمت پر رکھیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا