اسلام آباد ہائی کورٹ: نواز شریف کی نیب اپیلیں بحال

اپیلیں عدم پیروی پر خارج کی گئیں، آئندہ سماعت پر ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزاؤں کے خلاف دلائل ہوں گے۔

نواز شریف 24 اکتوبر، 2023 کو اسلام آباد میں ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد روانہ ہوتے ہوئے (اے ایف پی)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی نیب عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں کے خلاف دائر اپیلوں کو بحال کر دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے عدالتی عملے نے مختصر فیصلہ سنایا، جبکہ سزا معطلی سے متعلق تحریری فیصلے میں بتایا جائے گا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی اپیلیں عدم پیروی پر خارج کی گئی ہیں۔ آئندہ سماعت پر ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزاؤں کے خلاف دلائل ہوں گے۔ 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن پر مشتمل خصوصی ڈویژن بینچ نے نواز شریف کی تمام درخواستوں کو یک جا کر کے سماعت کی، جس کا فیصلہ شام چار بج کر 10 منٹ پر محفوظ کیا گیا۔

فیصلہ مخفوظ ہونے پر درخواست گزار کے وکلا نے عدالتی عملے سے جانے کا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نواز شریف فیصلہ آنے تک عدالت میں موجود رہیں۔ محفوظ فیصلہ 40 منٹ بعد سنا دیا گیا۔

نواز شریف کی جانب سے امجد پرویز ایڈووکیٹ اور اعظم نذیر تارڑ پیش ہوئے۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب احتشام قادر بھی پراسیکیوشن ٹیم کے ہمراہ روسٹرم پر موجود تھے۔ 

سماعت کے آغاز پر پراسیکیوٹر جنرل نیب احتشام قادر نے عدالت کو بتایا کہ ’ریفرنس واپس لینے کی گنجائش صرف اس صورت میں ہے جب فیصلہ نہ سنایا گیا ہو۔

’ہم نے دونوں اپیلوں کے حقائق اور قانون کا مطالعہ کیا ہے۔ ایون فیلڈ کیس سے متعلق بتانا چاہتا ہوں کہ احتساب عدالت نے کیسز پر فیصلہ سنایا تو اس کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔ ریفرنسز واپس لینے کی گنجائش ٹرائل کے دوران موجود تھی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’عدالت نے پوچھا تھا کہ کیا نیب یہ اپیلیں واپس لینا چاہتا ہے کہ نہیں؟ تو عدالت کو بتا دوں کہ پاکستان کے قانون کے مطابق اگر فیصلے کے خلاف اپیل منظور ہو جائے تو کیس واپس نہیں ہو سکتا۔ اگر اپیل دائر ہو جائے تو اس کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

’عدم پیروی پر بھی اپیل خارج نہیں ہو سکتی اور اس لیے اگر ان اپیلوں کو بحال کریں گے تو پھر انہیں میرٹ پر دلائل سن کر فیصلہ کرنا ہو گا۔‘

احتشام قادر نے دلائل آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس سپریم کورٹ کے آرڈر کی روشنی میں دائر کیا گیا تھا اور سپریم کورٹ کے ہی حکم پر جے آئی ٹی بھی قائم کی گئی تھی۔ اور ریفرینسز چیئرمین نیب کی منظوری سے عدالت میں دائر کیے گئے تھے۔‘

نیب پراسکیوٹر جنرل نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’بطور پراسکیوٹر جنرل میں قانون کے مطابق چیئرمین نیب کو ایڈوائس دینے کا پابند ہوں۔ پراسکیوٹرز نے ریاست کے مفاد کو دیکھنے کے ساتھ انصاف کی فراہمی بھی دیکھنا ہے۔

’پراسیکیوٹر کا فرض ہے کہ وہ اعلی معیار کی پراسیکیوشن کرے۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ اگر کوئی شہادت ملزم کے حق میں جائے تو اسے بھی نہ چھپائے۔‘

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی دو اپیلیں زیر سماعت تھیں اور عدم پیروی پر خارج کی گئیں۔ اس عدالت نے آبزرو کیا تھا کہ جب اشتہاری سرینڈر کرے اس کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی ہو۔‘

ان کا کہنا تھا: ’پراسیکیوٹر کو ملزم کے لیے متعصب نہیں ہونا چاہئے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں اگر اپیلیں بحال کی جائیں کیونکہ نواز شریف نے عدالت  اور قانون کے سامنے سرینڈر کر دیا ہے اور خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑا ہے۔‘

چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر سے کہا کہ ’ہم نے آپ کو کہا تھا کہ اس متعلق مزید غور بھی کریں۔ابھی ہمارے سامنے اپیل نہیں صرف بحالی کی درخواستیں ہیں۔‘

جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا کہ ’کیا آپ ججمنٹ کے حق میں دلائل دیں گے؟‘

 نیب پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر نے جواب دیا کہ ’جب اپیلیں بحال ہونے کی بعد سماعت کے لیے مقرر ہوں گی تو پھر ہم اس پر اپنا موقف دیں گے۔ پہلے مرحلے پر نیب اپیلیں بحال ہونے پر اعتراض نہیں کرے گی۔‘

نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’مریم نواز کی ایون فیلڈ ریفرنس سے بریت کے فیصلے میں عدالت نے واضح کر دیا ہے۔

’عدالت نے کہا نیب کو بارہا مواقع دیے گئے مگر تین مرتبہ وکلا کو تبدیل کیا گیا، عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ نیب نواز شریف کا کردار بھی ثابت کرنے میں ناکام رہا، عدالت نے کہا کہ نیب اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایک موقعے پر ریمارکس دیے کہ ’جہاں تک گرل کا معاملہ ہے اس کا اس کیس میں کردار نہیں بنتا تھا۔‘

میاں گل حسن اورنگ زیب نے مریم نواز کا حوالہ دیتے ہوئے گرل کا لفظ استعمال کیا۔

اس کے بعد وکیل اعظم نذیر تارڑ نے اپیلیں بحال کرنے سے متعلق اعلی عدالتوں کے فیصلے پڑھ کر سنائے۔ 

چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر سے آج کی سماعت میں پھر پوچھا کہ ’کیا آپ اپیل کنندہ کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں؟‘ تو نیب پراسیکیوٹر نے جواباً کہا کہ ’اس متعلق میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ ہمیں گرفتاری نہیں چاہئے۔‘

چیف جسٹس نے مزید پوچھا کہ ’آپ سے بطور عدالتی معاون پوچھ رہے ہیں کہ اپیل بحال ہوئی تو ضمانت کا سٹیٹس کیا ہو گا؟

نیب پراسیکیوٹر احتشام قادر نے جواب دیا کہ ’آپ اپیل کنندہ سے دوبارہ ضمانتی مچلکے لے لیں۔‘

گذشتہ سماعت میں عدالت نے نیب حکام سے پوچھا تھا کہ ’اپیلوں کی پیروی کرنی ہے یا ریفرنس واپس لینا ہے۔‘

نیب نے جواب کے لیے آج تک کی مہلت لے رکھی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ شرعی طور پر پھر پوچھ رہے ہیں کیا نیب نواز شریف کو گرفتار کرنا چاہتا ہے؟

پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کو جواب دیا کہ ’نہیں، ہم گرفتار نہیں کرنا چاہتے۔‘ عدالت نے 26 اکتوبر تک نواز شریف کی حفاظتی ضمانت بھی منظور کی تھی۔ 

عدالت میں سکیورٹی کا ماحول

جمعرات کو ہونے والی سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں گذشتہ سماعت کے مقابلے میں سکیورٹی کے انتظام میں بہتری نظر آئی۔

بغیر کارڈ ہائی کورٹ کے تیسری منزل  پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ رجسٹرار آفس نے کمرہ عدالت کے داخلے کے لیے 108 کارڈ جاری کیے تھے، جن میں نون لیگ کے لیے 54 کارڈ، کورٹ رپورٹرز کے 30 اور لا افسران کے 24 کارڈ شامل تھے۔ 

ہائی کورٹ کی عمارت میں سکیورٹی کی چار تہیں بنائی گئیں۔ پہلی تہہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے مرکزی دروازے پر، دوسری گراؤنڈ فلور سے اوپر جانے والے راستوں پر، اور اسی طرح ہر منزل پر سکیورٹی کی خصوصی تہہ نظر آئی۔

عمارت کی تیسری منزل، جہاں چیف جسٹس کا کمرہ عدالت واقع ہے، کو جانے والی لفٹ کے باہر بھی سیکیورٹی موجود تھی۔

سب سے پہلے منظم طریقے سے ہائی کورٹ کے مرکزی دروازے کے باہر لائن بنوائی گئی اور فہرست میں جس کا نام تھا صرف ان کو اندر جانے کی اجازت دی گئی۔

کمرہ عدالت کی جانب جانے والے تمام راستوں پر پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری تعینات تھی، جنہوں نے فہرست میں نام دیکھنے کے بعد کمرہ عدالت کی جانب جانے والا راستہ کھولا۔

نون لیگی کارکنان یا وکلا کو بھی داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے باعث ماحول پرامن رہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈھائی بجے سماعت کا وقت تھا، جب پہلے نون لیگ کے رہنما خرم دستگیر، مصدق ملک، احسن اقبال اور آیاز صادق عدالت پہنچے۔

دو بج کر پچاس منٹ پر میاں شہباز شریف، خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق تشریف لائے، جبکہ نواز شریف معمول کے راستے سے تین بج کر 18 منٹ پر کمرہ عدالت پہنچے۔

نواز شریف صحافیوں کی نشستوں کے قریب سے گزرے تو ان کا حال احوال پوچھا گیا، جس پر سابق وزیراعظم نے مسکرا کر ہاتھ سے ٹھیک ہونے کا اشارہ کیا اور کمرہ عدالت کی دائیں طرف نشستوں کی پہلی  قطار میں میاں شہباز شریف کے ساتھ بیٹھ گئے۔ ان کی آمد کے سات منٹ بعد تین بج کر 25 منٹ پر سماعت شروع ہوئی۔

درخواستوں کا متن

23 اکتوبر کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے دو نیب ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلیں بحال کرنے کی درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئیں تھیں، جن میں استدعا کی گئی تھی کہ اپیلوں کو بحال کر کے میرٹ پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ کیا جائے۔

گزشتہ روز امجد پرویز ایڈووکیٹ نے نواز شریف کی جانب سے اپیلیں بحال کرنے کی درخواستیں دائر کیں اور ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلیں بحال کرنے کی استدعا کی۔

درخواست میں کہا گیا کہ ’درخواست گزار بیماری کی وجہ سے بیرون ملک علاج کے لیے گئے تھے وہ اگرچہ مکمل صحت یاب نہیں ہیں لیکن ملک کی معاشی صورت حال کی وجہ سے انہوں نے واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

جبکہ 19 اکتوبر کو العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں استدعا کی گئی کہ ’عدالت کے سامنے سرینڈر کرنے کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کی جائے، کیسز کا سامنا کرنا چاہتے ہیں عدالت تک پہنچنے کے لیے گرفتاری سے روکا جائے۔‘

24 اکتوبر کو چیف جسٹس عامر فاروق پر مشتمل دو رکنی خصوصی بینچ نے پہلی سماعت کی جس میں نواز شریف پیش ہوئے تھے۔

ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز  

احتساب عدالت نے 2018 میں نواز شریف کو دس سال قید اور 80 لاکھ پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی، جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت نے انہیں سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو دس سال کے لیے عوامی عہدے کے لیے بھی نااہل قرار دیا گیا تھا۔

العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس کیسز میں سزاؤں کے بعد نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت کے لیے رجوع کیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سال 2019 میں صحت کی بنیاد پر نواز شریف کو حکومت کی طرف سے کوئی اعتراض نہ ہونے پر چار ہفتوں کی ضمانت دی تھی تاکہ وہ اپنا علاج کروا سکیں۔ حکومت نے نواز شریف کا نام ای سی ای ایل سے نکالا جس کے بعد وہ اکتوبر 2019 میں علاج کی غرض سے برطانیہ روانہ ہوئے تاہم وہ چار سال تک واپس نہیں آئے۔

عدالت نے عدم حاضری پر  15 ستمبر 2020 کو نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ پیش نہ ہونے پر عدالت نے سات اکتوبر کو نواز شریف کو مفرور ظاہر کرتے ہوئے اخبارات میں اشتہار چھپوانے کا حکم دیا اور انہیں اشتہاری قرار دے دیا گیا۔

2021 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی عدم حاضری پر ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلیں خارج کرتے ہوئے کہا کہ ’فیئر ٹرائل کے بعد نواز شریف کو سزا ملی جبکہ وہ ضمانت پر لندن جا کر مفرور ہو گئے، بغیر کسی جواز کے غیر حاضر رہے، اپیلیں خارج کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، حق سماعت کھو چکے ہیں اس لیے کسی ریلیف کے مستحق نہیں۔ گرفتاری دیں یا پکڑے جائیں تو اپیلیں دوبارہ دائر کر سکتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست