قطر میں سزائے موت پانے والے آٹھ سابق انڈین نیوی اہلکار کون ہیں؟

ان افراد کو قطری انٹیلی جنس ایجنسی سٹیٹ سکیورٹی بیورو نے مبینہ طور پر اسرائیل کی جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ انڈین سفارت خانے کو پہلی بار گذشتہ برس ستمبر کے وسط میں گرفتاریوں کے بارے میں پتہ چلا تھا۔

18 دسمبر، 2022 کو ممبئی کے نیول ڈاک یارڈ میں پروجیکٹ 15 بی کے دوسرے سٹیلتھ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر آئی این ایس مورموگاو کو انڈین بحریہ میں شامل کرنے کے دوران ایک ملاح عملے کے رسمی اعزازی محافظوں کے ایک رکن کی وردی کو ٹھیک کر رہا ہے (اندرنیل مکھرجی/ اے ایف پی)

انڈیا نے جمعرات کو قطر کی جانب سے اپنے آٹھ شہریوں کو سزائے موت سنائے جانے پر ’گہرے صدمے‘ کا اظہار کیا ہے لیکن کینیڈا کے بعد یہ جنوبی ایشیا کے اس اہم ملک کے لیے دوسرا بڑا سفارتی چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق قطر میں آٹھ لاکھ سے زائد انڈین شہری رہائش اور ملازمت کے لیے موجود ہیں۔

اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق ان آٹھ سابق نیوی کے اہلکاروں کو قطری حکام نے 30 اگست 2022 کو مبینہ طور پر اسرائیل کی جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور اس کے بعد سے وہ قید تنہائی میں ہیں۔ ان کا ٹرائل اس سال 29 مارچ کو شروع ہوا تھا۔

نئی دہلی میں وزارت خارجہ نے جمعرات (26 اکتوبر) کو ایک بیان میں کہا کہ وہ اپنے شہریوں کی ’سزائے موت کے فیصلے سے شدید صدمے میں ہے‘ اور ’تفصیلی فیصلے کا انتظار کر رہی ہے۔‘ وزارت نے یہ بھی کہا کہ وہ ’تمام قانونی پہلوں پر غور کر رہی ہے۔‘

انڈین اخبار کے مطابق قطر میں سابق فوجیوں کی طویل حراست اور سزائے موت دینے کی وجوہات عام نہیں کی گئی ہیں۔ سابق فوجیوں کے اہل خانہ کو ان رسمی الزامات سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا، جن کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا تھا۔

اخبار کے مطابق یہ واقعہ انڈین حکومت کے لیے ایک اہم سفارتی چیلنج پیش کرتا ہے۔ رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے ایک ٹویٹ میں نریندر مودی کو پاکستان میں قید کلبھوشن یادیو اور ان اہلکاروں کا معاملہ اٹھایا۔

یہ انڈین کون ہیں اور قطر میں کیا کر رہے تھے؟

انڈین بحریہ کے آٹھ سابق اہلکار کیپٹن نوتیج سنگھ گل، کیپٹن سوربھ وششٹھ، کمانڈر پورنندو تیواری، کیپٹن بیریندر کمار ورما، کمانڈر سگناکر پکالا، کمانڈر سنجیو گپتا، کمانڈر امیت ناگپال اور سیلر راگیش دفاعی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی ظاہرہ گلوبل ٹیکنالوجیز اینڈ کنسلٹنسی سروسز میں کام کر رہے تھے۔

اس کمپنی کی ملکیت عمانی شہری خمیس العجمی کی ہے، جو رائل عمان ایئر فورس کے ریٹائرڈ سکواڈرن لیڈر ہیں۔ انہیں بھی آٹھ انڈین شہریوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا، لیکن پھر نومبر 2022 میں رہا کردیا گیا۔

کمپنی کی پرانی ویب سائٹ نے، جو اب موجود نہیں ہے، کہا کہ اس نے قطر کی نیول فورس (کیو ای این ایف) کو تربیت، لاجسٹکس اور مرمت کی خدمات فراہم کرتی ہے۔ اس کی نئی ویب سائٹ پر کمپنی کا نام ظاہرہ گلوبل رکھا گیا ہے لیکن اس میں کیو ای این ایف سے تعلق کا کوئی ذکر نہیں ہے اور نہ ہی ان سات سابق نیوی افسران کا ذکر ہے جنہوں نے کمپنی میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا۔

یہ نجی فرم جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی اطالوی آبدوزیں حاصل کرنے کے حوالے سے مشاورت سمیت دوسری سروسز بھی فراہم کرتی ہے۔ ان اطالوی آبدوزوں کی خاص بات یہ ہے کہ ریڈار پر اس کی موجودگی کو نہیں دیکھا جا سکتا۔

پاکستانی اخبار دا نیوز انٹرنیشنل نے دو مئی 2023 کو رپورٹ کیا تھا کہ ’قطر نے ظاہرہ گلوبل نامی اس کمپنی کو بند کر دیا ہے اور کمپنی میں کام کرنے والے 75 انڈین شہریوں کو بتایا گیا ہے کہ ان کی ملازمت کا آخری دن 31 مئی ہو گا۔‘

کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کمانڈر پورنندو تیواری (ریٹائرڈ) کو انڈیا اور قطر کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے میں ان کی خدمات کے لیے 2019 میں پراواسی بھارتیہ سمان کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ دوحہ میں اس وقت کے انڈین سفیر پی کمارن اور قطر کی دفاعی افواج کے بین الاقوامی فوجی تعاون کے سابق سربراہ نے ان کے اعزاز میں تقریب منعقد کی تھی۔

یہ تقریب انڈین کلچرل سینٹر میں منعقد ہوئی۔ انڈین بحریہ کے کیپٹن کپل کوشک نے، جو اس وقت انڈین سفارت خانے میں دفاعی اتاشی تھے، اس تقریب میں شرکت کی تھی۔

ظاہرہ کی ویب سائٹ پر کمارن کے سرٹیفکیٹ اور دوحہ میں انڈین سفارت خانے میں ان کے جانشین سفیر دیپک متل نے دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے کمپنی کے کام کی تعریف کی تھی۔ گرفتار کیے گئے زیادہ تر افراد گرفتاری کے وقت چار سے چھ سال سے ظاہرہ میں کام کر رہے تھے۔

ان افراد کو کب گرفتار کیا گیا؟

ان افراد کو قطری انٹیلی جنس ایجنسی سٹیٹ سکیورٹی بیورو نے گرفتار کیا تھا۔ انڈین سفارت خانے کو پہلی بار پچھلے سال ستمبر کے وسط میں گرفتاریوں کے بارے میں پتہ چلا تھا۔

اخبار کے مطابق 30 ستمبر کو ان افراد کو ان کے اہل خانہ کے ساتھ پہلے ’مختصر ٹیلی فونک رابطے‘ کی اجازت دی گئی۔ پہلی قونصلر رسائی یعنی انڈین سفارت خانے کے ایک عہدیدار کے دورے کی اجازت تین اکتوبر کو دی گئی تھی، جو انہیں حراست میں لیے جانے کے ایک ماہ سے زیادہ عرصے بعد ممکن ہوا۔

کم از کم اگلے کچھ مہینوں تک، انہیں اپنے اہل خانہ کو ہفتہ وار فون کال کی اجازت دی گئی۔

ان افراد کے خلاف لگائے گئے الزامات کو کبھی عام نہیں کیا گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا تھا، جس سے یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ انہیں سکیورٹی سے متعلق جرم کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا۔

روئٹرز کے مطابق انڈین اور قطری حکام نے ان آٹھ افراد پر لگنے والے الزامات کے بارے میں کچھ تفصیلات نہیں بتائیں۔

قطر میں ان افراد کی گرفتاری کی خبر 25 اکتوبر 2022 کو ڈاکٹر میتو بھارگوا نامی انڈین خاتون کی ٹوئٹر پوسٹ سے سامنے آئی تھی۔

انڈین نیوی کے آٹھ سابق اہلکاروں کو بعد میں دو مئی کو ’اسرائیل کے لیے جاسوسی‘ کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

اس کیس کے بارے میں بریفنگ دینے والے ایک شخص نے فنانشل ٹائمز کو تصدیق کی کہ آٹھ ہندوستانیوں پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ وہ اپنی سزا کے خلاف اپیل کر سکیں گے۔

سزائے موت کے خلاف عالمی اتحاد کے مطابق قطر میں آخری پھانسی 2020 میں دی گئی تھی۔ 

انڈیا اور قطر کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟

دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے دوستانہ تعلقات ہیں۔ نومبر 2008 میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کے قطر کے دورے کے بعد سے، جو کسی بھارتی وزیر اعظم کا پہلا دورہ ہے، تعلقات میں بہتری آئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے 2015 میں انڈیا کا دورہ کیا تھا اور وزیر اعظم نریندر مودی نے 2016 میں قطر کا دورہ کیا تھا۔ وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کم از کم تین مواقع پر ملک کا دورہ کر چکے ہیں۔ آنجہانی سشما سوراج 2018 میں قطر کا دورہ کرنے والی پہلی انڈین وزیر خارجہ بنی تھیں۔

دفاعی تعاون کو سرکاری طور پر انڈیا اور قطر کے تعلقات کا ’اہم ستون‘ قرار دیا جاتا ہے۔ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے نومبر 2008 کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط ایک اہم موڑ تھا۔ معاہدے میں 2018 میں مزید پانچ سال کی توسیع کی گئی تھی۔

منوہر پاریکر انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس سٹڈیز اینڈ اینالسز (آئی ڈی ایس اے) کی جانب سے اس وقت شائع ہونے والے ایک مقالے میں بھارتی حکام کی ان رپورٹس کا حوالہ دیا گیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ اس معاہدے میں بس 'فوجیوں کی تعیناتی کی کمی' رہ گئی تھی باقی سب شامل تھا۔ معاہدے میں بھارت کی جانب سے کیو ای این ایف کی تربیت کے ساتھ ساتھ باہمی دورے بھی شامل تھے۔

انڈین بحریہ اور کوسٹ گارڈ کے جہاز باقاعدگی سے قطر کا دورہ کرتے ہیں۔ کیو ای این ایف کے وفود نے 2021 میں انڈیا میں دو بحری مشقوں میں حصہ لیا۔ زیر البحر نامی مشترکہ بحری مشق کے دو ایڈیشن منعقد ہو چکے ہیں۔

قطر مائع قدرتی گیس کے دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک ہے، اور انڈیا دوحہ کے ساتھ طویل مدتی ایل این جی معاہدہ حاصل کرنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔

یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق انڈیا 2021 میں دنیا کا چوتھا سب سے بڑا ایل این جی درآمد کنندہ تھا، جس میں 40 فیصد سے زیادہ سٹاک قطر سے بھیجے گئے تھے۔

ایک قطری تجارتی عہدیدار کے حوالے سے مقامی پریس میں جولائی میں کہا گیا تھا کہ انڈیا گیس سے مالا مال خلیجی ریاست کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ 2021 اور 2022 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً ایک تہائی بڑھ کر 17.2 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔

تعلقات میں چیلنجز کون سے ہیں؟

انڈیا اور قطر کے تعلقات میں پہلا بڑا چیلنج جون 2022 میں بی جے پی ترجمان نوپور شرما کی جانب سے ایک ٹی وی شو میں پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز حوالہ دینے پر کھڑا ہوا تھا۔

قطر وہ پہلا ملک تھا جس نے اس تنازعے کے شروع ہونے کے فوراً بعد اس پر اعتراض کیا اور انڈیا سے ’عوامی معافی‘ کا مطالبہ کیا تھا۔ انڈین سفیر کو بھی وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا تھا۔ بی جے پی کی جانب سے شرما کو برطرف کرکے انڈیا نے نقصانات پر قابو پانے کی کوشش کی کیونکہ یہ غم و غصہ تمام اسلامی دنیا میں پھیل گیا تھا۔

انڈین میڈیا بحریہ کے آٹھ سابق اہلکاروں کو جیل بھیجنا حالیہ برسوں کا دوسرا بڑا چیلنج قر دے رہا ہے۔ اس واقعے نے نئی دہلی کو ایک ایسے ملک میں متاثر کیا ہے جہاں آٹھ لاکھ انڈین شہری رہتے ہیں اور کام کرتے ہیں۔ قطر میں سب سے بڑی تارکین وطن برادری انڈین شہریوں کی ہے۔

انڈین شہریوں کو سزائے موت دینے کی خبر ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب غزہ پر اسرائیلی بمباری پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے۔ فلسطینیوں سے گہری ہمدردی رکھنے والے قطر نے غزہ میں حماس کی قید سے دو امریکی یرغمالیوں کی رہائی میں ثالثی کا کردار نبھایا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ملک کے سفارت کار اس بحران میں علاقائی ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین