فوجی، جج بھی نیب ترامیم کے تحت قابل احتساب: جسٹس منصور

نیب ترامیم کیس میں اختلافی نوٹ کے مطابق ’کیس کی 50 سماعتوں پر یہ سوال کیا گیا کہ کیا فوجی افسران اورججزکا احتساب ہوسکتا ہے؟ نیب قانون کے تحت ججز اور فوجی افسران کا احتساب ہو سکتا ہے۔‘

20 اکتوبر 2022 کی تصویر میں سپریم کورٹ کی عمارت کا بیرونی منظر (انڈپینڈنٹ اردو)

سپریم کورٹ نیب ترامیم کیس میں آج جسٹس منصور علی شاہ نے اپنا تفصیلی اختلافی نوٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری افسران کی طرح فوجی افسر اور جج بھی نیب ترامیم کے تحت قابل احتساب ہیں۔

نوٹ کے مطابق ’نیب ترامیم کیس کی 50 سماعتوں پر یہ سوال کیا گیا کہ کیا فوجی افسران اورججزکا احتساب ہوسکتا ہے؟ نیب قانون کے تحت ججز اور فوجی افسران کا احتساب ہو سکتا ہے۔ سرکاری افسران کی طرح فوجی افسران اورججزبھی نیب ترامیم کے تحت قابل احتساب ہیں، تاثر ہے کہ فوجی افسران اور ججز کو چھیڑا نہیں جا سکتا، اور ان کی کرپشن کا کوئی احتساب نہیں ہو سکتا، اداروں کے درمیان توازن اسی صورت قائم رہ سکتا ہے جب اداروں کے درمیان احترام کا باہمی تعلق قائم ہو۔‘

جسٹس منصور نے لکھا کہ ’عدالتوں کو پاپولر سیاسی بیانیے پر نہیں چلنا ہوتا، عوامی جذبات کے خلاف جا کر بھی عدالت کو آئین و قانون کے مطابق فیصلے دینا ہوتے ہیں، اختلافی رائے رکھنے والا ہجوم کی سمت میں نہیں، مستقبل کی سمت میں چلتا ہے۔‘

جسٹس منصورعلی شاہ کا 15 ستمبر کے فیصلے سے اختلافی نوٹ 27 صفحات پر مشتمل ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ’عدلیہ قانون سازی کا تب جائزہ لے سکتی ہے جب وہ بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہو، قانون سازوں کا مفاد سامنے رکھ کر قانون سازی جانچنا پارلیمنٹ اورجمہوریت کو نیچا دکھانے کے مترادف ہے۔‘

اختلافی نوٹ کے مطابق ’پارلیمانی نظام حکومت میں عدلیہ کوایگزیکٹو یا مقننہ کے مخالف کے طورپرنہیں دیکھا جاتا ہے، عدلیہ کواس وقت تک تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے جب تک آئینی حدود کی خلاف ورزی نہ ہو۔ درخواست گزار نیب ترامیم کوعوامی مفاد کے برعکس ثابت کرنے میں ناکام رہا، میں آئین کے آرٹیکل 8(2) کے پیش نظر درخواست کو میرٹس پرنہ ہونے وجہ سے خارج کرتا ہوں۔ پارلیمان کی جانب سے بنائے تمام قوانین بالاخرکسی نہ کسی اندازمیں بنیادی حقوق تک پہنچتے ہیں، پارلیمنٹیرین کا قانون چیلنج کرنے کا حق دعوی نہیں بنتا۔‘

انہوں تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ ’جمہوری نظام میں اکثریت کا ہی فیصلہ یا قانون سازی حتمی تصورہوتی ہے، اکثریت سے منظور قانون سازی کوحمایت میں ووٹ دینے والوں کے بجائے پوری پارلیمنٹ کی قانون سازی سمجھا جانا چاہیے، پارلیمنٹ میں قانون سازی سے اختلاف کرنے والے اس کو چیلنج کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، عدالت پارلیمنٹ کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی، درخواست گزار کے وکیل نیب ترامیم کو بنیادی حقوق کے خلاف ثابت کرنےمیں مکمل طور پرناکام رہے ہیں۔‘

جسٹس منصور کے مطابق ’پارلیمنٹ جو کر سکتی ہے اس کوختم بھی کرسکتی ہے۔ مسلسل سوال کے باوجود درخواست گزار نہیں بتا سکے کہ نیب ترامیم سے بنیادی حقوق کیسے متاثرہوئے؟ پارلیمنٹ آرٹیکل آٹھ کے تحت بنیادی حقوق کےخلاف قانون سازی کر ہی نہیں سکتی۔ سیاستدانوں کے احتساب کا بنیادی حقوق کے آرٹیکل 9، 14، 24 اور25 سے کیسے تعلق ہے؟ اکثریتی فیصلے میں نہیں بتایا گیا کہ نیب ترامیم بنیادی حقوق کےخلاف کیسے تھیں؟ آمدن سے زائد اثاثوں کو ثابت کرنے کا بوجھ پراسیکیوشن پرڈالنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، سابق چیف جسٹس اورجسٹس اعجازالاحسن نے درخواست گزار کا موقف تسلیم کرلیا ہے۔ بنیادی حقوق کی ضمانت ترقی پسند، لبرل اورمتحرک نقطہ نظرکے ساتھ آئین میں دی گئی ہے، بنیادی حقوق کا یہ مطلب نہیں کہ ججزکوآئینی الفاظ اورتاثرات کومصنوعی معنی دینے کی آزادی ہے۔‘

نیب ترامیم کیس کا فیصلہ کیا تھا؟

سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس کا فیصلہ 15 ستمبر کو سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے سے قبل جاری کیا تھا جس میں سپریم کورٹ نے بے نامی کی تعریف، آمدن سے زائد اثاثوں اور بار ثبوت استغاثہ پر منتقل کرنے کی نیب ترمیم کالعدم قرار دے دی تھی۔ 

اکثریتی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کیے جاتے ہیں۔ جبکہ عدالت نے 50 کروڑ کی حد سے کم ہونے پر ختم ہونے والے تمام مقدمات بھی بحال کیے اور انہیں احتساب عدالت میں بھیجنے کا حکم دیا، نیب کو سات دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں میں بھیجنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔

یہ فیصلہ تین رکنی بینچ نے سنایا تھا، چیف جسٹس اور جسٹس اعجاز الاحسن نے اکثریتی فیصلہ دیا جبکہ تیسرے جج جسٹس منصور علی شاہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیب ترامیم کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج:

رواں ماہ 17 اکتوبر کو وفاقی حکومت نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جس میں نیب ترامیم کے خلاف فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

اپیل میں فیڈریشن، نیب اور چیئرمین پی ٹی آئی کو فریق بنایا گیا ہے جبکہ 15 اکتوبر کو درخواست گزار زبیر احمد صدیقی نے بھی پریکٹس پروسیجر قانون کے تحت نیب ترامیم فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی جس میں نیب ترامیم کے خلاف فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی۔ 

نیب ترامیم کے فیصلے کے خلاف اپیل سماعت کے لیے مقرر:

سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے فیصلے کے خلاف اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہیں اور چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔ پانچ رکنی لارجر بینچ 31 اکتوبر کو کیس کی سماعت کرے گا۔ لارجر بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان