’پاکستان کی یاد آئے گی‘: افغانستان واپس جانے والے پناہ گزین آبدیدہ

پاکستان کے مختلف حصوں سے وطن واپس جانے والے افغان خاندانوں کا سامان طورخم پہنچتا ہے جہاں اسے مخصوص ٹرکوں میں لاد کر سرحد پار پہنچایا جاتا ہے۔

طورخم بارڈر پر پاکستان سے واپس جانے والے ایک پناہ گزین خاندان کا سامان ٹرک میں لادا جا رہا ہے (انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ملک چھوڑنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن میں چند گھنٹے باقی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سب سے زیادہ استعمال ہونے والی طورخم اور چمن سرحد پر غیر معمول سے زیادہ رش دیکھنے میں آیا ہے۔

ملک کے مختلف حصوں میں رہائش پذیر افغان پناہ گزین خاندان پہلے گھر کا سامان لاد کر طورخم آتے ہیں، جہاں ان کا مال و متاع سرحد پار لے جانے کے لیے بارڈر کے مخصوص ٹرکوں میں ڈالا جاتا ہے۔  

کئی افغان خاندانوں نے طورخم بازار سے سرحد کے اس پار چند میٹر کے فاصلے کیے گاڑیوں کے کرایوں میں بے ہنگھم اضافے کی شکایت کی ہے۔

محکمہ داخلہ کے اعلی افسر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اب تک 82 ہزار غیر قانونی افغان پناہ گزین براستہ طورخم واپس جا چکے ہیں۔ 

طورخم بارڈر پر ٹرکوں اور انسانوں کی اس بھیڑ میں ایسے خاندان بھی ملے، جن کے کئی جوان اور پختہ عمر ارکان پاکستان میں پیدا ہوئے اور اسی ملک کو اپنا وطن تصور کرتے ہیں۔ ایسے کئی افغان پناہ گزین پاکستان چھوڑنے پر آبدیدہ نظر آئے۔

راولپنڈی میں مزدوری کرنے والے افغان پناہ گزین نجیب اللہ انہی میں ایک ہیں، جو پاکستان میں پیدا اور یہی جوان ہوئے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں نجیب اللہ نے بتایا: ’پاکستان بہت یاد آئے گا لکن مجبوری ہے۔ بعض فیملی ممبرز کے پاس کارڈ ہے، بعض کے پاس نہیں ہے۔‘

نجیب اللہ سے افغانستان میں کام یا کاروبار سے متعلق دریافت کیا گیا تو ان کہنا تھا: ’پاکستان میں محنت مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پالتا تھا لیکن افغانستان جا رہے ہیں لیکن وہاں ہمارا کچھ نہیں۔‘

پناہ گزین کیسے جا رہے ہیں؟

پاکستان نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے، جو منگل اور بدھ کی درمیانی رات 12 بجے ختم ہو جائے گی۔

اس کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو حراست میں لے کر اس مقصد کے لیے قائم مخصوص مراکز میں رکھا جائے گا اور بعدازاں مجسٹریٹس کی عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا میں ایسے مراکز ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل، ہزارہ ریجن میں ہری پور اور ضلع پشاور میں ناصر باغ میں قائم کیے گئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغان پناہ گزین گل خان کا خاندان پنجاب کے علاقے چیچہ وطنی میں مقیم تھا اور چند روز قبل بچوے کے علاج کی غرض سے ہسپتال میں تھے جب انہیں واپس افغانستان جانے سے متعلق علم ہوا۔ 

گل خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں خیال ظاہر کیا کہ پاکستان کی حکومت ان (افغان باشندوں) سے سے تنگ ہے، اس لیے انہیں مجبوراً واپس افغانستان جانا پڑ رہا ہے۔  

افغانستان واپس جانے والوں میں محمد زمان بھی ہیں، جن کا باقی خاندان افغانستان میں ہے تاہم وہ خود اپنی والدہ اور دو بیٹیوں کے ہمراہ پشاور میں مقیم تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹاں پشاور میں پڑھتی تھی لیکن اب سکول چھوڑ کر افغانستان واپس جا رہے ہیں۔

محمد زمان نے مایوسانہ انداز میں کہا: ’وہاں دیکھا جائے گا کہ تعلیم کا کوئی بندوبست موجود ہے یا نہیں۔ لیکن اب واپس جا رہے ہیں۔‘

چمن سرحد کے ذریعے مہاجرین کی واپسی

بلوچستان سے متصل چمن سرحد سے بھی غیر قانونی مہاجرین افغانستان جا رہے ہیں۔

چمن میں موجود نامہ نگار عزیز الرحمان صباون کے مطابق رضاکارنہ طور پر افغانستان جانے والے مہاجرین بڑی تعداد میں چمن باب دوستی کے راستے افغانستان کے صوبہ قندھار کے شہر سپن بولدک جا رہے ہیں۔

باب دوستی کے راستے جاننے والے افغان مہاجرین میں سے زیادہ تر کا تعلق کراچی اور پنجاب کے مختلف شہروں سے ہے۔

اگرچہ واپس جانے والے مہاجرین کے لیے حکومت کی جانب سے کوئٹہ، پشین، قلع عبداللہ اور چمن میں عارضی کیمپس بنائے گئے ہیں مگر ان کیمپوں میں ابھی تک کسی کو رکھا نہیں جا رہا۔

بلوچستان کے وزیر اطلاعات جان اچکزئی کے مطابق ان عارضی کیمپوں میں یکم نومبر کے بعد گرفتار ہونے والے افغان مہاجرین کو رکھا جائے گا اور ہفتے کے مختلف دنوں میں مختلف صوبوں کے مہاجرین کو ڈیپورٹ کیا جائے گا۔

جان اچکزئی کے مطابق پیر، بدھ اور جمعے کو سندھ کے مختلف علاقوں سے گرفتار ہونے والے مہاجرین کو ڈیپورٹ کیا جائے گا اور اتوار، منگل اور جمعرات کو بلوچستان میں گرفتار ہونے والے غیر قانونی افغان مہاجرین کو اور ہفتے والے دن پنجاب کے مختلف حصوں میں گرفتار افغان مہاجرین کو عارضی کیمپوں میں رکھنے کے بعد ڈی پورٹ کیا جائے گا۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان