امریکہ کا پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک پر افغان پناہ گزینوں کو قبول کرنے پر زور

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا: ’ہم پاکستان سمیت تمام ریاستوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ پناہ گزینوں اور تحفظ کے متلاشیوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔‘

چھ اکتوبر 2023 کو خیبر ضلع کے جمرود میں افغان شہری افغانستان واپسی سے قبل اپنا سامان ایک گاڑی میں لاد رہے ہیں (اے ایف پی/ عبدالمجید)

امریکہ نے پاکستان سمیت افغانستان کے پڑوسی ممالک پر ’سختی سے‘ زور دیا ہے کہ وہ پناہ اور تحفظ کے متلاشی افغانوں کو اپنے ممالک میں داخلے کی اجازت دیں اور پناہ گزینوں کے ساتھ بہتر سلوک کریں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم پاکستان سمیت افغانستان کے پڑوسی ممالک کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی تحفظ کے خواہاں افغانوں کو اپنے ممالک میں داخلے کی اجازت دیں اور امداد فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی انسانی تنظیموں کے ساتھ رابطہ کریں۔‘

ملر نے مزید کہا: ’میں یہ کہوں گا کہ ہم پاکستان سمیت تمام ریاستوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ پناہ گزینوں اور تحفظ کے متلاشیوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور عدم تحفظ کے شکار افراد کے لیے موجود بین الاقوامی قانون کا احترام کریں۔‘

پاکستان نے تمام غیر قانونی تارکین وطن بشمول لاکھوں افغان پناہ گزینوں کے لیے ملک چھوڑنے کے لیے یکم نومبر کی آخری تاریخ مقرر کی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان میں 17 لاکھ سے زیادہ افغان باشندوں کے پاس کوئی قانونی دستاویزات نہیں ہیں۔ اسلام آباد کے مطابق افغان شہری ملک میں ہونے والے شدت پسندی کے واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں اور رواں سال ایک درجن سے زیادہ خودکش بم دھماکوں میں بھی غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم افغان شہری ملوث تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

1979 میں کابل پر سوویت یونین کے حملے کے بعد پاکستان نے سب سے زیادہ تعداد میں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں افغان پناہ گزین کی کل تعداد 44 لاکھ ہے۔

2021 میں طالبان کے افغانستان میں اقتدار میں آنے کے بعد تقریباً 20 ہزار یا اس سے زیادہ افغان شہری جنگ زدہ ملک سے فرار ہو گئے تھے۔

یہ افغان امریکہ میں دوبارہ آباد ہونے کے لیے اس وقت پاکستان میں امریکی خصوصی امیگریشن کی اپنی درخواستوں پر کارروائی کا انتظار کر رہے ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی ملک بدری کا عمل منظم اور مرحلہ وار ہو گا اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے لوگوں سے شروع ہو سکتا ہے۔

ادھر افغانستان کے طالبان حکمرانوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے افغان مہاجرین کو زبردستی نکالنے کی دھمکی ’ناقابل قبول‘ ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات گذشتہ چند سالوں سے خراب ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی ریاست کے خلاف لڑنے والے عسکریت پسند افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں جب کہ طالبان اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔

سابق امریکی حکام اور آباد کاری کی تنظیموں نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ہزاروں افغان درخواست گزاروں، جو خصوصی امریکی ویزوں کا انتظار کر رہے ہیں، کو ملک بدری سے مستثنیٰ قرار دیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا