اسرائیل کے غزہ پر تین اطراف سے زمینی حملے میں کیا ہو رہا ہے؟

اب تک کا اسرائیلی طریقہ کار غزہ پر گذشتہ 2008، 2014 اور 2021 کے حملوں سے مختلف ہے۔

اسرائیل نے غزہ میں جاری اپنی جنگی جارحیت میں اب فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ زمینی پیش قدمی بھی شروع کر رکھی ہے۔

اسرائیلی فوج اور حماس دونوں نے حالیہ دنوں میں زمینی کارروائیوں کے بارے میں ویڈیوز جاری کی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل 28 اکتوبر سے شمالی غزہ میں تین اطراف سے محدود زمینی کارروائی کر رہا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اسرائیل حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کے ممکنہ معاہدے کی امید میں پوری طاقت کے ساتھ زمینی طاقت استعمال نہیں کر رہا۔

اسرائیل نے اب تک اس نئے آپریشن کو ’حملہ‘ قرار دینے سے انکار کیا ہے اور اس کی بجائے اسرائیلی رہنماؤں نے اسے ایک ’نیا فیز یا مرحلہ‘ قرار دیا ہے، تاہم پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک اسرائیلی کارروائیوں کو ’جارحیت‘ اور ’جنگی جرائم‘ کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے ایک خطاب میں حماس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ ’دوسرے مرحلے‘ میں داخل ہو گئی ہے۔ انہوں نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ ’طویل اور مشکل‘ جنگ کے لیے تیار رہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حماس نے تصدیق کی ہے کہ اس کے مسلح ونگ کے ارکان شمالی شہر بیت حنون اور وسطی غزہ کے علاقے البریج میں اسرائیلی فورسز سے لڑائی میں مصروف ہیں۔ حماس کے مسلح ونگ نے کہا ہے کہ القسام بریگیڈ اور تمام فلسطینی مزاحمتی فورسز جارحیت کا پوری قوت سے مقابلہ کرنے اور دراندازی کو ناکام بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

حماس نے منگل کو کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے غزہ کی پٹی میں ایک اسرائیلی فوجی کو مار دیا اور کئی بکتر بند گاڑیوں کو بھی تباہ کیا۔ گروپ کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہمارے جنگجو غزہ شہر کے شمال مغرب میں اسرائیلی افواج کے ساتھ جھڑپوں میں مصروف ہیں۔‘

گروپ نے کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے شمالی غزہ میں تین بکتر بند گاڑیاں اور ایریز کراسنگ کے مشرق میں ایک اور گاڑی کو اینٹی آرمر گولوں اور دھماکہ خیز آلات سے تباہ کر دیا۔

اس سے قبل 13 اکتوبر کو بھی اسرائیل نے یہ کہتے ہوئے کہ ان کا مقصد حماس کے عسکریت پسندوں پر حملہ کرنا اور یرغمالیوں کو بچانا ہے، غزہ کی پٹی میں بکتر بند گاڑیاں اور پیادہ فوج بھیجی تھی۔

اسرائیلی حکام کے مطابق یہ کارروائی کسی بڑے اور وسیع پیمانے پر متوقع زمینی حملے کا حصہ نہیں تھی بلکہ ایک چھاپہ تھا، جس میں فوجی صرف عارضی طور پر غزہ کی پٹی میں داخل ہوئے تھے۔

ایک اور حملہ، جس کی قیادت جیوتی بریگیڈ اور 162 ویں بکتر بند ڈویژن نے کی، 25 اور 26 اکتوبر کے درمیان ہوا اور یہ اس وقت تک کا سب سے بڑا حملہ تھا، جس میں ٹینک، دیگر گاڑیاں اور آئی ڈی ایف کیٹرپیلر ڈی 9 بکتر بند بلڈوزر شریک تھے۔

حماس کی جانب سے اس کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری کی گئی ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

حماس کے مسلح ونگ کی جانب سے منگل (31 اکتوبر) کو ٹیلی گرام پر شائع ہونے والی دو ویڈیوز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تارپیڈو کو نامعلوم مقام پر سمندر میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ان ویڈیوز کے مقام اور ریکارڈنگ کے دن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

اسرائیل کی دفاعی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ آموس یادلن نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’فوج انچ سے انچ، میٹر بہ میٹر، جانی نقصان سے بچنے اور شدت پسندوں کو مارنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق تین ہفتوں کے دوران غزہ کے بڑے حصے پر اسرائیلی فضائی حملوں میں تین ہزار سے زائد بچوں سمیت آٹھ ہزار سے زائد افراد جانیں کھو چکے ہیں۔

حماس کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جنگ بندی ضروری ہے، جن کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان میں 25 مختلف ممالک کے پاسپورٹ رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2011 میں حماس نے ایک اسرائیلی فوجی کی رہائی کے بدلے اسرائیل میں قید ہزار سے زائد فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کیے تھے۔

اسرائیلی وزیر دفاع یواو گیلنٹ کا کہنا ہے کہ جنگ طویل ہو گی اور اسرائیل حماس کو فضا، زمین اور سمندر سے اوپر اور زیر زمین نشانہ بنا رہا ہے۔

غزہ شہر کا محاصرہ

غزہ کے ساتھ اپنی سرحد پر ہزاروں فوجیوں کو جمع کرنے کے بعد، اسرائیل نے گذشتہ جمعے کو پہلا زمینی حملہ کیا تھا۔

چیف ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہاگری نے کہا کہ حکومت نے اسرائیلی فوج کو دو مقاصد دیے ہیں، ایک حماس کے بنیادی ڈھانچے اور آپریشنل صلاحیتوں کو ختم کرنا اور دوسرا یرغمالیوں کو وطن واپس لانا ہے۔

ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کی مدد سے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں میں فوجی غزہ شہر کے شمال میں واقع نیم دیہی علاقے میں داخل ہوئے ہیں۔

مقامی رہائشیوں اور حماس سے وابستہ خبر رساں ادارے شہاب نے پیر کو بتایا کہ فورسز شہر کے جنوب میں بھی داخل ہو گئی ہیں اور 40 کلومیٹر طویل مرکزی شاہراہ صلاح الدین روڈ کو نرغے میں لینے کی کوشش کر رہی ہے۔

مقامی آبادی کے مطابق ٹینکوں کو سڑک پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اپنی افواج کی پوزیشنوں کی تفصیل نہیں بتائے گی۔

حماس کی اتحادی ایک چھوٹی عسکری تحریک اسلامی جہاد کے سینیئر ترجمان ابو احمد نے کہا کہ اسرائیلی افواج کھلے علاقوں میں دھکیلنے کے علاوہ کوئی پائیدار پیش رفت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

اسرائیلی سپیشل آپریشنز بریگیڈ کے ریزرو میجر عمری عطار نے بتایا کہ فوجیوں کو سرنگوں میں ہوا کے راستوں کا پتہ لگانے اور ان کے اندر دھماکہ خیز مواد رکھنے کی تربیت بھی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمبیٹ انجینیئرنگ کور کے دیگر خصوصی یونٹ، جو ماضی میں روبوٹ اور کتوں کا استعمال کرتے رہے ہیں، سرنگوں کے اندر کسی بھی لڑائی سے نمٹیں گے۔

اب تک کا اسرائیلی طریقہ کار غزہ پر گذشتہ 2008، 2014 اور 2021 کے حملوں سے مختلف بتایا جاتا ہے۔ 2008 میں اسرائیلی فوج بڑے پیمانے پر تعمیر شدہ علاقوں میں داخل ہوئی تھی جس کے بعد حماس کو وقتی طور پر پیچھے ہٹنا پڑا تھا لیکن بعد میں وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوئی تھیں۔

ان خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے 2008 میں اسرائیل نے اپنی دراندازی کے دوران نو فوجیوں کو کھو دیا جب کہ 2014 میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 66 ہو گئی تھی۔

جولائی 2014 میں غزہ میں آخری بڑی اسرائیلی زمینی کارروائی کے دوران، اسرائیلی افواج نے جنگی قوانین کی متعدد خلاف ورزیاں کیں لیکن ان پر اس بابت کبھی کوئی مقدمہ نہیں چلایا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ترانہ حسن نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں اسرائیل کی ہفتوں جاری رہنے والی بمباری کے بعد زمینی کارروائی لڑائی میں پھنسے ہوئے تمام شہریوں کی حفاظت کے لیے سنگین خدشات پیدا کرتی ہے۔

’ہزاروں بچے اور دیگر شہری پہلے ہی مارے جا چکے ہیں۔ تمام شہری، بشمول بہت سے لوگ جو شمالی غزہ میں اپنے گھر نہیں چھوڑ سکتے یا نہیں چھوڑنا چاہتے، جان بوجھ کر، اندھا دھند یا غیر متناسب حملوں کے خلاف جنگ کے قوانین کے تحت اپنے تحفظ کا حق برقرار رکھتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا