انڈی کیمپس: صحافت میں درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیسے ممکن ہے؟

انڈپینڈنٹ اردو کے زیر اہتمام اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے بوائز کیمپس میں ’انڈی کیمپس‘ پروگرام کے تحت منعقدہ سیمینار میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ دور حاضر میں صحافت کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے اس شعبے میں کیریئر کیسے بنایا جائے۔

انڈپینڈنٹ اردو کے زیر اہتمام اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے بوائز کیمپس میں ’انڈی کیمپس‘ پروگرام کے تحت منعقدہ سیمینار میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ دور حاضر میں صحافت کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے اس شعبے میں کیریئر کیسے بنایا جائے۔

انڈپینڈنٹ اردو کے مینیجنگ ایڈیٹر ہارون رشید نے طلبہ سے شعبہ صحافت میں درپیش چیلنجز اور مواقع (Career & Challenges in Journalism) پر گفتگو کی۔

طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے مینیجنگ ایڈیٹر کا کہنا تھا کہ ’اگر گذشتہ دو دہائیوں کو ہی دیکھا جائے تو معلومات تک رسائی کے ذرائع بہت تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں جس کی وجہ سے شعبہ صحافت بھی متاثر ہوا ہے۔ اخبارات کے ذریعے معلومات کے حصول سے لے کر الیکٹرانک میڈیا اور اب سوشل میڈیا کے ذریعے چند سیکنڈوں میں صارفین تک خبر پہنچنے سے، معلومات کی بروقت فراہمی تو ممکن ہوئی ہے مگر فیک نیوز ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے، لیکن فیک نیوز کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی فیکٹ چیکرز کے لیے میڈیا کی فیلڈ میں مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مصنوعی ذہانت شعبہ صحافت اور صحافیوں کے لیے ایک اور بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے، مگر اس پر مہارت حاصل کرکے بھی نہ صرف کام کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں بلکہ کم وقت میں بہتر نتائج بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان میں بھی کئی میڈیا ہاؤسز مصنوعی ذہانت کا سہارا لے کر اپنے کام میں بہتری لائے ہیں۔‘

طلبہ سے صحافت میں صنفی امتیاز سے متعلق بھی گفتگو کی گئی۔ انڈپینڈنٹ اردو سے وابستہ صحافی سحرش قریشی نے فیلڈ میں خواتین صحافیوں کو ہراسانی سمیت دیگر درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے طلبہ کو بتایا کہ کس طرح وہ شعبہ صحافت میں صنفی مساوات اور  کام کے لیے صحت مندانہ ماحول فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کئی حوالوں سے ایک منفرد پہچان رکھتی ہے۔

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین ڈاکٹر ظفر اقبال نے بتایا کہ یونیورسٹی میں بین الاقوامی طلبہ کی ایک کثیر تعداد تعلیم حاصل کر رہی ہے، جن میں انڈونیشیا، سوڈان، برونائی، تھائی لینڈ اور دیگر کئی ممالک کے طلبہ شامل ہیں۔ یہ یونیورسٹی اس حوالے سے بھی مختلف ہے کہ یہ پاکستان کی واحد جامعہ ہے، جس کے صدر اور نائب صدر کا تعلق اکثر و بیشتر بیرون ممالک سے ہوتا ہے۔

اس جامعہ میں اسلام آباد کی دیگر جامعات کے برعکس مخلوط تعلیمی نظام نہیں ہے بلکہ یہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے علیحدہ علیحدہ کیمپس ہیں۔ سات سو ایکڑ سے زائد رقبے پر قائم اس یونیورسٹی میں لگ بھگ 26 ہزار طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جن میں سے تقریباً 60 فی صد طالبات ہیں۔

انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے اسلامک یونیورسٹی کے طالب علم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ یہاں تعلیم حاصل کرنا ان کے لیے ایک بہت دلچسپ اور اچھا تجربہ ہے کیونکہ یہاں نہ صرف دینی بلکہ دنیاوی علوم بھی سکھائے جاتے ہیں، جبکہ پاکستانی طلبہ کا کہنا تھا کہ بیرون ممالک سے آئے ہوئے طلبہ کے ساتھ تعلیم حاصل کرکے انہیں دوسرے ممالک کی ثقافت جاننے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس