سندھ: ’دھمکیاں‘، ماتلی میں لڑکیوں کی موٹر سائیکل ریلی ملتوی

خواتین کی موٹر سائیکل ریلی ہر سال دسمبر کے پہلے اتوار کو منائے جانے والے ’سندھی ثقافت کے دن‘ کی مناسبت سے بدھ چھ دسمبر کو نکالی جانی تھی۔ 

مزمل باری کے مطابق وہ اس ریلی سے پسماندہ علاقوں کی لڑکیوں کی ہمت افزائی کرنا چاہتی ہیں (فائل فوٹو/ مزمل باری)

صوبہ سندھ کے ضلع بدین میں خواتین کو موٹرسائیکل چلانے کی تربیت دینے والے ایک گروپ کے مطابق انہوں نے خواتین کے لیے منعقد کی جانے والی ریلی کو مبینہ طور پر انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے بعد ملتوی کر دیا ہے۔

اس موٹرسائیکل ریلی کا انعقاد ضلع بدین کے شہر ماتلی میں کیا جانا تھا جس کا مقصد تربیت دینے والے گروپ کے مطابق خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

خواتین کی موٹر سائیکل ریلی ہر سال دسمبر کے پہلے اتوار کو منائے جانے والے ’سندھی ثقافت کے دن‘ کی مناسبت سے بدھ چھ دسمبر کو نکالی جانی تھی۔ 

موٹر سائیکل چلانے کی تربیت دینے والے گروپ کی رہنما مزمل باری نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ریلی کی تمام تیاریاں مکمل تھیں۔ ہم نے 15 موٹر سائیکلوں کا بندوبدست کر لیا تھا۔ جن لڑکیوں کے پاس موٹر سائیکل نہیں تھے ان کے لیے 20 سے 25 رکشے تھے تاکہ وہ رکشہ میں آکر ریلی کا حصہ بنیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’مگر جب ہم نے ریلی کے انعقاد کے لیے فیس بک پر پمفلیٹ رکھا تو کئی انتہا پسندوں نے دھمکی دی کہ وہ ماتلی کو اسلام آباد بننے نہیں دیں گے اور ہر صورت میں ریلی نکالنے نہیں دیں گے۔

’دھکمی دی کہ اگر کوئی لڑکی موٹرسائیکل چلاتے پائی گئی تو نقصان کی ذمہ دار خود ہوں گی۔ اس لیے مجبوراً ہمیں ریلی ملتوی کرنا پڑی۔ اب ہم چار دیواری میں ایک چھوٹی تقریب کر رہے ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر دی جانے والی ’دھمکیوں‘ والی پوسٹس کو انڈپینڈنٹ اردو نے خود بھی دیکھا ہے۔

مزمل باری پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سندھ کے قدیم شیدی قبیلے کی پہلی خاتون رکن سندھ اسمبلی تنزیلہ قمبرانی کی بھتیجی ہیں۔ 

مزمل باری کے مطابق وہ اس ریلی سے پسماندہ علاقوں کی لڑکیوں کی ہمت افزائی کرنا چاہتی ہیں تاکہ وہ لڑکیاں بھی موٹرسائیکل چلا کر اپنے گھر کے لیے سامان لانے، سکول یا کالج خود جا سکیں۔ ’ہر کام کے لیے لڑکیوں کو مرد کا محتاج نہیں ہونا چاہیے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے پولیس سے ریلی کی حفاظت کے لیے مدد مانگی تھی مگر پولیس نے کوئی مدد نہیں کی۔‘

تاہم پولیس سٹیشن ماتلی کے سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) غلام مصطفیٰ آکلانی نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ ریلی کو پولیس نے ملتوی کروایا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے غلام مصطفیٰ آکلانی نے کہا کہ ’ہمیں ریلی کے انعقاد کے متعلق معلومات نہیں دی گئی تھیں اور نہ ہی کسی نے ریلی کی حفاظت کے لیے نفری مانگی تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر پولیس سے نفری مانگی جاتی تو ہم ضرور نفری دیتے۔ کسی دھمکی سے متعلق پولیس کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔‘

دوسری جانب انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے تنزیلہ قمبرانی کا کہنا تھا کہ ’نوجوان لڑکیوں کی ریلی کو بے حیائی کا نام دیا گیا۔ جب کہ موٹرسائیکل ریلی میں لڑکیاں عبایا اور نقاب پہن کر شریک ہو رہی تھیں۔‘

تنزیلہ قمبرانی کا کہنا ہے کہ ’لڑکی کا موٹر سائیکل چلانا بے حیائی ہے؟ ایسی سوچ پر بہت افسوس ہوا۔‘

’اس جدید دور میں جہاں لڑکیاں اور خواتین ہر شعبے میں بھرپور کام کر رہی ہیں، ایسے میں ماتلی جیسے شہر میں لڑکیوں نے موٹرسائیکل چلائی تو کیا ہو جائے گا؟ یہ پدرانا سماج ہے، جہاں ہر فیصلہ مرد کرتا ہے، جس پر افسوس کے سوا کیا کر سکتے ہیں۔‘

سوشل میڈیا پرردعمل 

ماتلی میں لڑکیوں کی ریلی ملتوی کیے جانے پر سوشل میڈیا صارفین نے سخت تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ لڑکیوں کو موٹر سائیکل ریلی نکالنے دے اور دھمکی دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

ایکس پر نصیر میمن نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ماتلی پولیس کی جانب سے لڑکیوں کی موٹر سائیکل ریلی کے متعلق خبر نامناسب اور قابل مذمت ہے۔ پولیس جنونیوں کے خود ساختہ معیاروں کو تھوپنے کے بجائے انتہاپسندوں کے خلاف قدم اٹھائے۔ ریلی نکالنے والی خواتین کو تحفظ فراہم کرے جو پولیس کا فرض ہے۔‘

حمید ڈیپلائی نے اپنی پوسٹ میں لکھا: ’سندھ کی زمین جنونیوں کی نہیں صوفیوں کی زمین ہے۔ ایسے پولیس افسران جو جنونیوں کے دباؤ میں آکر غیر قانونی کام کریں ان کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔

شفیق نامی صارف نے لکھا: ’ماتلی پولیس نے بنیاد پسندوں کے دباؤ میں آکر لڑکیوں کی موٹر بائیک ریلی پر پابندی عائد کی ہے۔ نوجوانوں کو پولیس کے رویوں پر بات کرنی چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین