لاہور ہائی کورٹ: فارم 47 کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

لاہور ہائی کورٹ نے عام انتخابات 2024 کے فارم 47 کے خلاف دائر درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

لاہور ہائی کورٹ کی عمارت کا ایک منظر (تصویر بشکریہ لاہور ہائی کورٹ ویب سائٹ)

لاہور ہائی کورٹ نے پیر کو عام انتخابات 2024 کے فارم 47 کے خلاف دائر درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے الیکشن کمشن کے خلاف آنے والی تمام درخواستوں کا ریکارڈ طلب کیا تھا۔

جن حلقوں کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا گیا ان میں این اے 119 لاہور سے مریم نواز شریف، این اے 128 لاہور سے عون چوہدری، این اے 117 سے علیم خان، پی پی 169 لاہور سے مسلم لیگ ن کے ملک خالد کھوکھر، پی پی 46 سیالکوٹ سے ن لیگ کے فیصل اکرم، پی پی 173 سے ن لیگ کے میاں مرغوب کی کامیابی کے نوٹفیکیشنز روکنے کی درخواستیں شامل ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے سماعت کے دوران استفسار کیا کہ: ’جو درخواستیں ہائی کورٹ میں آئی ہیں، کیا الیکشن کمیشن ان کی آج ہی سماعت کر سکتا ہے؟‘

جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ’ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف درخواستوں کی سماعت اسی دن سے ہو رہی ہیں جب وہ دائر کی گئیں تھیں۔‘

عدالت نے پوچھا کیا ’ان درخواستوں کی سماعت کا عدالت کو اختیار ہے کہ نہیں؟‘

الیکشن کمشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ’جس کا جو ریلیف بن رہا ہے الیکشن کمشن موقع پر ہی ریلیف دے رہا ہے۔‘

سابق وزیر قانون اور مریم نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ’الیکشن ایکٹ میں ترامیم ہونے کے بعد طریقہ کار میں جدت آئی ہے۔ الیکشن ایکٹ کے تحت امیدوار یا اس کا ایک نمائندہ ریٹرننگ آفیسر کے پاس ہونا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’فارم 47 کی تشکیل کا معاملہ حقائق پر مبنی ہوتا ہے جس پر رٹ پٹیشن میں سماعت نہیں ہو سکتی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اس میں دیکھنا پڑے گا کہ الیکشن کمیشن کا اختیار کیا ہے یا اپنی خواہشات کے مطابق باتیں کرنی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مریم نوازاور شہزاد فاروق کے وکلا میں تلخ کلامی

سماعت کے دوران مریم نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ اور درخواست گزار پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار شہزاد فاروق کے وکیل آفتاب باجوہ کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

آفتاب باجوہ نے کہا: ’ہم نے مریم نواز کے خلاف انتخاب لڑا جس پر ہمیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

اعظم نذیر تارڑ نے اعتراض کیا تو آفتاب باجوہ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کون ہوتے ہیں درمیان میں بولنے والے۔‘

اس پر عدالت نے وکلا کی تلخ کلامی پر اظہار برہمی کیا اور آفتاب باجوہ کو کہا کہ وہ ایسے الفاظ استعمال نہ کریں اور اعظم نذیر تارڑ کو بھی تحمل کی ہدایت کی۔

آفتاب باجوہ نے شہزاد فاروق کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات بھی پیش کیں جس پر عدالت نے انہیں متعلقہ فورم پر چیلینج کرنے کا حکم دیا۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان