سینیٹ کے امیدوار اشرف جتوئی تنقید کی زد میں کیوں؟

پاکستان پیپلز پارٹی نے سینیٹ کی جنرل نشست کے لیے پانچ دوسرے امیدواروں کے علاوہ کراچی کے بڑے بزنس مین کے بیٹے اشرف جتوئی کو بھی ٹکٹ دیا ہے، جس پر عوامی اور سیاسی حلقوں میں تنقید ہو رہی ہے۔

کراچی سے سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی جانب سے جنرل نشستوں پر کھڑے کیے گئے امیدواروں میں ایک اشرف جتوئی بھی ہیں (فائل فوٹو/ اشرف جتوئی/ انسٹاگرام)

پاکستان پیپلز پارٹی نے شاہ زیب قتل کیس کے ملزم شاہ رخ جتوئی کے بھائی کو سینیٹ کی جنرل نشست پر انتخاب لڑنے کا ٹکٹ دیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے کراچی سے سینیٹ میں جنرل نشستوں پر کھڑے کیے گئے امیدواروں میں سے ایک صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی سکندر جتوئی عرف ڈی بلوچ کے صاحبزادے اشرف جتوئی ہیں۔

ڈی کنسٹرکشن کمپنی کے مالک ڈی بلوچ کے دوسرے صاحبزادے کا نام شاہ رخ جتوئی ہے، جو شاہ زیب قتل کیس میں ملزم تھے۔

کراچی کے نوجوان رہائشی شاہ زیب خان کو 24 دسمبر 2012 کی شب روشنیوں کے شہر میں ڈیفنس کے علاقے میں قتل کیا گیا تھا اور اس میں شاہ رخ جتوئی مرکزی ملزم تھے۔

ٹرائل کورٹ نے شاہ رخ اور اُن کے ساتھی سراج تالپور کو سزائے موت جبکہ دیگر دو مجرموں سجاد تالپور اور غلام مرتضیٰ لاشاری کو عمر قید کی سزائیں سُنائی تھیں۔ تاہم بعد ازاں ملزمان کی سزا عمر قید میں تبدل کر دی گئی تھی۔ 

اشرف جتوئی کو پاکستان پیپلز پارٹی کا ٹکٹ ملنے پر سیاسی و سماجی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں ہیں۔ 

تاہم رہنما پیپلز پارٹی سعدیہ جاوید نے انڈیپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’شاہ رخ جتوئی کا جرم اشرف جتوئی پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ شاہ رخ کو سزا مل چکی ہے حالانکہ شاہ زیب کے گھر والے دیت بھی لے چکے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’سکندر جتوئی بزنس مین ہیں لیکن شاہ رخ جتوئی کی سزا انہیں یا اشرف جتو ئی کو نہیں دی جا سکتی۔‘

سعدیہ جاوید کا کہنا تھا: ’خیبرپختونخوا کے موجودہ وزیر اعلی پر بھی قتل کا الزام ہے لیکن وہ پھر  بھی صوبے کے وزیر اعلی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سینیئر صحافی آصف محمود نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ڈی بلوچ کے آصف علی زرداری سے ذاتی تعلقات ہیں اور 2013 میں جب آصف علی زرداری کا دور صدارت ختم ہوا تو وہ ڈی بلوچ کے جہاز اور ہیلی کاپٹرز استعمال کرتے رہے تھے۔‘

آصف محمود کے خیال میں اشرف جتوئی پر شاہ رخ جتوئی کا بھائی ہونے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنانا درست نہیں۔

’ان کے بھائی نے جرم کیا ہے اور وہ سپریم کورٹ سے بری ہو چکے ہیں۔‘

صحافی آصف محمود کے مطابق: ’سیاست کی دنیا میں  کئی اور ایسی مثالیں موجود ہیں۔‘

اس سلسلے میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے امتیاز شیخ کی مثال دی، جن کے بھائی مقبول شیخ مخالف جماعت میں رہے ہیں جو اب پیپلز پارٹی میں ہیں، جب کہ گجرات کے چوہدری برادران میں چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی الگ الگ جماعتوں کے ساتھ ہیں۔

آصف محمود نے بتایا کہ ’اشرف جتوئی کا پیپلز پارٹی کے شرجیل میمن کے ساتھ قریبی رشتہ ہے۔ اشرف کی بہن شرجیل میمن کی بہو ہیں۔‘

سینیٹ انتخابات کے لیے پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ کی جنرل نشستوں پر کاظم شاہ، اشرف جتوئی، مسرور احسن، ندیم بھٹو، سرفراز راجڑ، دوست علی اور مسرور احسن امیدوار ہوں گے جب کہ ٹیکنوکریٹ کے لیے بیرسٹر ضمیر گُھمرو اور سرمد علی، خواتین کی نشست پر قراۃالعین عینی اور روبینہ قائمخانی اور اقلیت کی سیٹ پر پونجو مل بھیل کے کاغذات منظور ہوئے ہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست