انڈیا میں میوزک سسٹم خراب ہونے پر شخص کو مار مار کر قتل: پولیس

مشرقی انڈیا میں ایک شخص کو پیٹ پیٹ کر جان سے مار دیا گیا، جب کہ اس کی بیوی کو زخمی کیا گیا، جب ایک سالگرہ کی تقریب کت دوران میوزک سسٹم میں خرابی پیدا ہوئی اور ایک ہجوم نے جوڑے پر جادو ٹونے کا الزام لگایا۔

انڈین ریاست بہار کے شہر ساسارام ​​میں ایک پولیس اہلکار پرتشدد تصادم کے بعد سڑک سے گزر رہا ہے (اے ایف پی)

مشرقی انڈیا میں ایک شخص کو پیٹ پیٹ کر جان سے مار دیا گیا، جب کہ اس کی بیوی کو زخمی کیا گیا، جب ایک سالگرہ کی تقریب کت دوران میوزک سسٹم میں خرابی پیدا ہوئی اور ایک ہجوم نے جوڑے پر جادو ٹونے کا الزام لگایا۔

پولیس نے بتایا کہ 55 سالہ گیا مانجھی اور ان کی اہلیہ سمندری پر منگل کی شام ریاست بہار کے نوادہ ضلع کے پنچو گڑھ موسیہری گاؤں میں حملہ کیا گیا۔

جوڑے کو ان کے گھر سے گھسیٹ کر لے جایا گیا، حملہ کیا گیا، زبردستی سر مونڈ دیا گیا، چونے کے پتھر کا پیسٹ لگایا گیا اور جوتوں کے ہار پہنا کر سڑکوں پر پریڈ کروائی گئی۔

نوادہ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس ابھینو دھیمان نے بتایا کہ دیہاتی موہن مانجھی کے گھر سالگرہ کی تقریب کے دوران تشدد اس وقت شروع ہوا جب میوزک سسٹم نے کام کرنا چھوڑ دیا۔

انہوں نے انڈین ایکسپریس کو بتایا، ’مشتبہ افراد میں سے ایک، موہن مانجھی، اپنے گھر پر جشن منا رہا تھا اور میوزک سسٹم خراب ہو رہا تھا۔ ملزم نے متاثرین پر الزام لگایا کہ وہ سسٹم کو روکنے کے لیے کالا جادو استعمال کر رہے ہیں۔‘

پولیس کو بدھ کی صبح 8 بجے ہنگامی کال موصول ہوئی اور گیا کو مردہ اور سمندری کو زخمی پایا گیا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خاتون کو ضلع کی ہسپتال لے جایا گیا اور اس کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے

پولیس ذرائع نے بتایا کہ جوڑے کو پہلے بھی جادو ٹونے کے الزام پر ہراساں کیا گیا تھا۔

پولیس نے مزید بتایا کہ اسے قتل کرنے کے بعد گاؤں والوں نے مبینہ طور پر گیا کی لاش کو شمشان گھاٹ لے جانے کی کوشش کی اور اس کی بیوی کو زندہ جلانے کا منصوبہ بنایا۔

ہسوا پولیس سٹیشن کی سب انسپکٹر روپا کماری نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ ’ہمیں اطلاع ملی کہ گاؤں والوں نے ایک جوڑے پر حملہ کیا، شوہر کو مار ڈالا اور بیوی کو زندہ جلانے کے لیے لے جا رہے تھے۔ ہم نے مرد کو مردہ اور عورت کو زخمی حالت میں پایا۔‘

پولیس نے 17 لوگوں کو گرفتار کیا جن میں موہن مانجھی اور نو خواتین بھی شامل ہیں۔ 

دھیمان نے تصدیق کی کہ ’ان کی گرفتاریاں متاثرہ شخص کی بیوی کے بیانات کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔‘ 

پولیس نے مزید کہا کہ گاؤں والوں نے میاں بیوی کو پیشاب پینے پر بھی مجبور کیا اور سڑکوں پر نکلنے سے پہلے ان کے سر منڈوائے۔ کماری نے کہا، ’انہیں جوتوں اور چپلوں کے ہار بھی پہنائے گئے۔‘

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا