پاکستان میں دل لگ گیا ہے، نہ نکالا جائے: اٹک کے افغان پناہ گزین واپسی پر افسردہ

اٹک کے ’منی افغانستان‘ میں مقیم افغان پناہ گزین پاکستانی حکومت کی جانب سے وطن واپسی کے لیے دی گئی 31 اگست کی ڈیڈ لائن قریب آتے ہی افسردہ ہیں۔

31 اگست کی ڈیڈ لائن قریب آتے ہی اٹک شہر کی فضاؤں میں ایک غیر معمولی اداسی اور جذباتیت محسوس کی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں مقیم لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے عمل نے نہ صرف ان کے دلوں کو چیر دیا ہے بلکہ پاکستانی شہریوں کو بھی ایک گہری سوچ میں ڈال دیا ہے۔

حکومت پاکستان نے پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ رکھنے والے افغان پناہ گزیوں کی وطن واپسی کے لیے 31 اگست 2025 کی ڈیڈ لائن مقرر کر رکھی ہے، جس کے بعد ان کی رجسٹریشن ختم کر دی جائے گی۔

پاکستان نے 2006 میں افغان پناہ گزینوں کو پی او آر کارڈ جاری کیا تھا، جو ان کے لیے پاکستان میں قیام کی ایک قانونی دستاویز تھی۔ یہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے پاکستانی شناختی کارڈ کی طرز کا ایک کمپیوٹرائزڈ کارڈ ہے، جس پر افغان پناہ گزینوں کو مختلف بنیادی سہولیات تک رسائی ممکن تھی۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین ’یو این ایچ سی آر‘ کے مطابق تقریباً 15لاکھ افغان پناہ گزینوں کے پاس پی او آر کارڈ ہے، جنہیں اب پاکستان سے نکالا جائے گا۔

اٹک جو کئی دہائیوں سے افغان پناہ گزین کا دوسرا گھر بنا ہوا تھا، اب جدائی کے مناظر کا گواہ بن رہا ہے۔

اٹک شہر کے محلہ بجلی گھر، اعوان شریف اور دیگر کئی علاقے دہائیوں سے افغان پناہ گزینوں کی آماج گاہ رہے ہیں۔ مقامی لوگ ان محلوں کو محبت سے ’منی افغانستان‘ بھی کہتے تھے۔

یہاں نہ صرف افغان ثقافت اور زبان زندہ رہی بلکہ افغان پناہ گزینوں نے یہاں محنت مزدوری، کاروبار اور روزگار کے ذریعے معاشرے میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔ کچھ نے اپنے خاندان بسائے تو کچھ نے تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔

اٹک کے اکثر افغان نوجوان وہ ہیں، جن کی پیدائش پاکستان میں ہی ہوئی، انہوں نے پاکستان میں ہی تعلیم حاصل کی اور ان کا افغانستان سے صرف اتنا تعلق ہے کہ ان کے بزرگ وہاں سے نقل مکانی کر کے یہاں آئے تھے۔

آج یہ نوجوان، جو خود کو پاکستانی سمجھتے ہیں، اچانک ایک ایسے وطن کی طرف روانہ ہو رہے ہیں جسے انہوں نے صرف بزرگوں کی باتوں میں سنا یا تصاویر میں دیکھا ہے۔

ان ہی میں سے ایک رحمت اللہ بھی ہیں، جو یہیں پیدا ہوئے، یہیں جوان ہوئے اور اب خود صاحبِ اولاد ہیں۔

گذشتہ 17 سال سے وہ اٹک شہر کی ایک فارمیسی پر ملازمت کر رہے ہیں۔ نہ صرف وہ اس کام کو اپنی روزی روٹی کا ذریعہ سمجھتے ہیں بلکہ اس جگہ کو اپنا دوسرا گھر کہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں یہاں بہت پیار، بہت محبت ملی۔ ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن ہمیں اس ملک کو چھوڑ کر جانا پڑے گا، جسے ہم نے اپنا مان لیا تھا۔‘

ان کے مطابق پاکستان سے جانے کا تصور ہی انہیں آبدیدہ کر دیتا ہے کیونکہ یہ صرف واپسی نہیں بلکہ اپنی پہچان، اپنی زمین اور اپنی جڑوں سے بچھڑنے کا عمل ہے۔

رحمت اللہ کے بقول جس فارمیسی میں وہ کام کرتے ہیں، اس کے مالکان کو وہ اپنا بزرگ اور محسن مانتے ہیں۔ ’میرے سگے بھائی بھی جس وقت ساتھ چھوڑ گئے، ان دنوں میرے مالکان میرے ساتھ کھڑے رہے۔ کوئی غمی ہو یا خوشی وہ سب سے پہلے پہنچتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکومتِ پاکستان کی ہدایت پر جب افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا اعلان ہوا، تب سے رحمت اللہ کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’ہم نے آج تک افغانستان دیکھا ہی نہیں، وہاں جائیں گے تو کہاں رہیں گے، نہ کوئی جاننے والا نہ نوکری، نہ سہولت۔‘

رحمت اللہ کے آباؤ اجداد کا تعلق افغانستان کے دیہی علاقے سے ہے، جہاں بجلی ہے، نہ گیس اور نہ ہی روزگار۔ بڑے شہروں میں رہائش اختیار کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔

ان کی زبان پر ایک ہی فریاد ہے کہ خدارا ہمیں مت نکالیں۔ ’افغانستان ہمارا وطن ضرور ہے لیکن وہاں زندگی ممکن نہیں۔ یہاں ہم نے اپنی محنت سے جگہ بنائی، اپنا سب کچھ بنایا، ہمیں یہیں رہنے دیں۔‘

اٹک میں 40 سال سے فارمیسی کے شعبے سے وابستہ عدنان صدیقی کہتے ہیں کہ ان کے والد فارمیسی کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ ’اب ہم بھائی اس کاروبار کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اٹک شہر میں ہمارے تین میڈیکل سٹور ہیں، جہاں اس وقت بھی 16 کے قریب افغان سیلز مین ملازمت کرتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا: ’کئی دہائیوں سے افغان لڑکے ہمارے پاس بطور سیلز مین کام کرتے چلے آرہے ہیں۔ کچھ یہاں سے کام سیکھ کر بیرون ملک اور کچھ پاکستان کے دیگر شہروں میں بہتر مستقبل کے لیے نقل مکانی کرگئے۔‘

افغان پناہ گزینوں کے پاکستان چھوڑ کر جانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمارا دل بھی ان کے جانے سے افسردہ ہے۔ ’اب تک جتنے بھی افغان لڑکے ہمارے پاس ملازمت کی غرض سے آئے، انہیں انتہائی ایماندار اور محنتی پایا، یہی وجہ ہے کہ ان کے جانے سے ہمیں دلی افسوس ہے۔‘

عدنان صدیقی بتاتے ہیں کہ افغان نوجوانوں سے انہیں بھی بہت فائدہ حاصل ہوا۔ ’ان کی زبان فارسی اب ہم بھی کسی حد تک بول اور سمجھ لیتے ہیں، جس کی وجہ سے افغان شہریوں کی بہت بڑی تعداد ہمارے سٹور کا رخ کرتی ہے کیونکہ ہم انہیں دوا لینے کے اوقات اور ڈاکٹر کی دی گئی دیگر ہدایات ان ہی کی زبان میں سمجھا دیتے ہیں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مستقبل میں حکومت اگر کوئی ایسی پالیسی بنائے کہ افغان شہری پاکستان آسکیں تو وہ انہیں ہر طرح کی سپورٹ اور سپانسر فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

عدنان اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ ان کے میڈیکل سٹورز صرف روزگار کی جگہ نہیں رہے بلکہ افغان نوجوانوں کے لیے عملی تربیت کا ایک ادارہ بنے۔ ’ہم نے ان افغان لڑکوں کو صرف ملازمت نہیں دی بلکہ انہیں مکمل کام سکھایا۔ دوائیوں کی شناخت، مریضوں سے ڈیلنگ، سسٹم کی سمجھ، سب کچھ۔‘

انہوں نے بتایا کہ فارمیسی پر کام کرنے والے افغان نوجوانوں کی اپنے وطن روانگی سے قبل انہوں نے ایک نجی ہوٹل میں ایک پروقار الوداعی تقریب کا اہتمام بھی کیا، جس میں ان نوجوانوں کو فارمیسی پر کام کرنے اور تجربے کے باقاعدہ سرٹیفیکیٹ بھی دیے گئے تاکہ جب وہ مستقبل میں کسی اور جگہ یا ملک میں روزگار کے لیے جائیں، تو ان کے پاس ایک مستند حوالہ اور مہارت کا ثبوت ہو۔

عدنان نے مستقبل میں افغانستان جا کر اپنے پاس کام کرنے والے افغان شہریوں سے ملاقات کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی