امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے سربراہ کاش پٹیل نے سرکاری طیارے کو اپنی دوست کے ساتھ ’ذاتی سیر و تفریح‘ کے لیے استعمال کرنے کے ان دعوؤں کے ردعمل میں کہا ہے لپ ان کے سفر نے درحقیقت عوام کے ٹیکس کا پیسہ بچایا ہے اور یہ کہ انہیں ’ذاتی زندگی گزارنے کا بھی حق ہے۔‘
منگل کی شب فاکس نیوز کی اینکر لورا اِنگرام نے کاش پٹیل سے ادارے کے طیارے کے استعمال کے حوالے سے جاری کانگریسی تحقیقات سے متعلق سوال کیا۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کی عدلیہ کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے پیر کو جاری ایک خط میں کہا تھا کہ وہ ان اطلاعات کا جواب چاہتے ہیں کہ کاش پٹیل نے طیارے کو اپنی دوست گلوکارہ الیکسس وِلکنز کے ساتھ’ڈیٹ نائٹ‘، ٹیکساس میں پرتعیش شکار کے سفر اور سکاٹ لینڈ میں گالف کے دورے کے لیے استعمال کیا۔
لورا اِنگرام نے پوچھا: ’ان کا دعویٰ ہے کہ آپ نے طیارہ ’ذاتی سیر و تفریح‘ کے لیے استعمال کیا۔ کیا یہ درست ہے؟‘
جس پر پٹیل نے جواب دیا: ’بات بالکل سادہ ہے۔ ایف بی آئی کے تمام سربراہان کے لیے ادارے کا طیارہ استعمال کرنا لازم ہے۔ وہ مجھے تجارتی پروازوں پر سفر کرنے ہی نہیں دیتے۔ لیکن میرے پیشروؤں نے محض اس لیے کروڑوں ڈالر ضائع کیے کہ وہ 20 منٹ مزید گاڑی چلا کر اینڈریوز ایئرپورٹ تک جانے کے لیے تیار نہیں تھے۔ انہوں نے ڈی سی ریگن نیشنل ایئرپورٹ کو اپنا ذاتی مرکز بنا رکھا تھا، جس سے چار کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔ میں نے وہ پالیسی ختم کی اور سرکاری فضائی اڈوں کے استعمال کو لازمی قرار دیا۔‘
سابق عوامی وکیل دفاع اور وزارتِ انصاف کے پراسیکیوٹر کاش پٹیل نے کہا کہ انہیں اپنے عہدے کے علاوہ ’ذاتی زندگی گزارنے‘ کا حق بھی حاصل ہے۔
انہوں نے کہا: ’میں نے اپنے دو پیشروؤں کی نسبت طیارے کا کم استعمال کیا ہے۔ اور ہاں، مجھے اپنی ذاتی زندگی گزارنے کا حق ہے، بالکل اسی طرح جیسے دیگر اداروں کے سربراہان کو اپنے رفقا کے ساتھ ہوتا ہے۔ کیا میں اپنی دوست کا ساتھ دیتا ہوں؟ یقیناً۔ کیا میں اس کے ساتھ سفر کرتا ہوں؟ بالکل۔‘
لورا اِنگرام نے کاش پٹیل سے نیویارک پوسٹ کی اس نئی رپورٹ کے بارے میں بھی سوال کیا جس میں دو درجن موجودہ اور سابق ایف بی آئی ملازمین نے ان کی ناگوار خصوصیات بیان کی ہیں۔
کانگریس کے لیے تیار کی گئی 115 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں ادارے کو کاش پٹیل کی قیادت میں ’بے سمت جہاز‘ اور ’بالکل بگڑا ہوا‘ قرار دیا گیا ہے۔ ایک سورس نے، جو خود کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حمایت یافتہ بتاتے ہیں، کہا کہ پٹیل ’درکار تجربے سے محروم ہیں‘ اور ’کچھ خاص اچھے نہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لو اِنگرام نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ یہ صرف ناراض سرکاری اہلکار ہیں۔ لیکن آپ ٹرمپ انتظامیہ کے 10 ماہ کے اندر ایف بی آئی کی صورت حال پر کیا کہتے ہیں؟‘
کاش پٹیل نے جواب دیا: ’دیکھیں، نامعلوم ذرائع ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں، نتائج جھوٹ نہیں بولتے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی قیادت میں ادارہ ’تاریخ میں کامیاب ترین‘ ہے۔
نیویارک پوسٹ کی رپورٹ اور ڈیموکریٹک تحقیقات کاش پٹیل کے گرد حالیہ تنازعات کی تازہ ترین کڑی ہے۔
جنوری سے لے کر اب تک انہیں چارلی کرک کے قتل کی تحقیقات، درجنوں ماتحتوں کی برطرفی اور اپنی دوست وِلکنز کو سرکاری حفاظتی عملہ فراہم کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔
کاش پٹیل نے منفی خبروں کو نظرانداز کرتے ہوئے وال سٹریٹ جرنل کی نومبر کی رپورٹ کو’بکواس‘ قرار دیا۔
وہائٹ ہاؤس نے بھی یہی مؤقف اپنایا۔ ٹرمپ کے ترجمان نے پہلے کہا تھا کہ پٹیل ’بہترین کام‘ کر رہے ہیں۔ نومبر کے آخر میں وہائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اس خبر کی تردید کی کہ ٹرمپ انہیں عہدے سے ہٹانے پر غور کر رہے ہیں۔
انہوں نے ایکس پر لکھا: ’یہ خبر مکمل طور پر من گھڑت ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جب یہ خبر سامنے آئی، وہ صدر اور کاش پٹیل کے ساتھ صدارتی دفتر اوول آفس میں ایک میٹنگ میں موجود تھیں۔
’میں نے صدر کو یہ سرخی پڑھ کر سنائی تو وہ ہنس پڑے۔ انہوں نے کہا: کیا؟ یہ بالکل غلط ہے۔‘
© The Independent