میری طالبان رہنما سے بہت اچھی بات چیت ہوئی: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی افغان طالبان رہنما کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کی طالبان رہنما سے ’بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے۔‘

یہ امریکہ اور طالبان کی اعلی ترین قیادت کے درمیان پہلا رابطہ قرار دیا گیا ہے (اے ایف پی)

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلامی تحریک کے رہنما ملا عبدالغنی برادر کے ساتھ ٹیلیفون پر دوحہ میں طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق بات کی ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر نے بدھ کی سہہ پہر پانچ بجے تقریبا 35 منٹ تک طالبان تحریک کے قطر میں سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر کے ساتھ بات کی ہے۔ اس موقع پر امریکی صدر کے افغانستان سے متعلق خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد بھی موجود تھے۔ طالبان نے اس موقع پر ایک تصویر بھی جاری کی ہے۔

یہ امریکہ اور طالبان کی اعلی ترین قیادت کے درمیان پہلا رابطہ قرار دیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس ٹیلی فونک گفتگو کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کی طالبان رہنما سے ’بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میری طالبان رہنما سے بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے۔‘ انہوں نے ملا برادر کا نام نہیں لیا لیکن ملا برادر ہی امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان وفد کی قیادت کرتے رہے ہیں۔

طالبان کے بیان کے مطابق ملا بردار نے اس موقع پر واضح کیا کہ اگر امریکہ ان کے ساتھ معاہدے پر عمل کرتا ہے تو ان کے مستقبل میں مثبت دو طرفہ تعلقات قائم ہوں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کے اس معاہدے پر عمل درآمد کے بعد امریکہ افغانستان میں تعمیر نو میں حصہ بھی لے گا۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک ٹوئٹ میں اس بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ معاہدے پر عمل درآمد کے بارے میں بات ہوئی۔

یہ بات چیت طالبان کی جانب سے افغان سکیورٹی فورسز پر حملے کے دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کے بعد ہوئی۔

اس سے قبل افغان حکام کا کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد منگل کو افغان فوجی اڈوں پر ایک درجن سے زیادہ حملے کیے گئے ہیں جس سے کابل حکومت اور طالبان کے درمیان مجوزہ امن مذاکرات خطرے میں پڑ گئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہفتے کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت افغان دھڑوں کے درمیان 10 مارچ سے مذاکرات کا آغاز ہونا ہے تاہم قیدیوں کے تبادلے پر پیدا ہونے والے تنازع سے ان مذاکرات پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

معاہدے کے مطابق طالبان نے اپنے پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی کے بدلے ایک ہزار افغان فوجی رہا کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا اور قیدیوں کا تبادلہ ان کی اولین شرائط میں شامل تھا، تاہم صدر اشرف غنی نے بین الافغان مذاکرات سے قبل ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب پیر کو تشدد میں کمی (عارضی جنگ بندی) کے ہفتے کی معیاد ختم ہونے کے بعد طالبان، افغان فورسز کے خلاف حملوں میں تیزی لے آئے۔

افغان وزارت دفاع کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر  اے ایف پی کو بتایا کہ گذشتہ شب سے ملک کے 34 صوبوں میں سے 13 میں حکومتی فورسز پر حملے کیے گئے ہیں۔

ایک حکومتی بیان کے مطابق قندھار میں کیے گئے حملے میں افغان فوج کے دو اہلکار مارے گئے۔

افغان صوبے لوگر کے گورنر کے ترجمان دیدار لوانگ نے اے ایف پی کو بتایا کہ صوبے میں ہونے والے حملوں میں پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں شامل نہیں ہیں۔

22 فروری کو ہونے والی عارضی جنگ بندی کے بعد افغان عوام نے مسرت کا اظہار کیا تھا جو دہائیوں سے جاری جنگ سے عاجز آ چکے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ عبوری جنگ بندی کا اقدام حیران کن نہیں تھا کیوں کہ فریقین ایک دوسرے کی کمزوری کا فائدہ اٹھانا اور اس دوران اپنی طاقت جمع کرنا چاہتے تھے۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر فیلو فیلبیب براؤن نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’یقینی طور پر تشدد میں اضافہ ہو گا اور یہ ہو کر رہے گا۔ مجھے حیرت نہیں ہے کہ صدر غنی قیدیوں کی رہائی میں ہچکچاہٹ ظاہر کر رہے ہیں۔۔۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کابل سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار احمد سعیدی نے اے ایف پی کو بتایا کہ حالیہ حملوں میں تیزی سے ظاہر ہوتا ہے کہ عسکریت پسند میدان جنگ اس لیے گرم رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مذاکرات کی میز پر فتح یاب ہو سکیں اور ایسا ہی طرز عمل انہوں نے امریکہ سے مذاکرات کے دوران اپنایا تھا۔

دوسری جانب صدر اشرف غنی کی جانب سے گذشتہ ہفتے طالبان سے ابتدائی روابط استوار کرنے کے لیے قطر بھیجوائے گئے وفد سے طالبان نے ملنے سے انکار کر دیا۔ طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے منگل کو کہا ہے کہ وہ قیدیوں کی رہائی کے علاوہ افغان حکومت سے کسی دوسرے معاملے پر بات نہیں کریں گے۔

دوحہ معاہدے اور کابل میں امریکہ اور افغان حکومت کے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیوں میں واضح اختلافات موجود ہیں جس سے مذاکرات کاروں کو درپیش مشکلات کا پتہ چلتا ہے۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان طے شدہ معاہدے میں قیدیوں کی رہائی کا عہد کیا گیا ہے جبکہ کابل اعلامیے میں صرف دونوں اطراف سے ’قیدیوں کی رہائی‘ کے امکانات کا تعین کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے افغانستان مشن نے ایک بیان میں بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے لیے سازگار ماحول برقرار رکھنے اور اعتماد بڑھانے کے لیے تشدد کو کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوحہ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد سے طالبان عوامی سطح پر امریکہ کے خلاف ’فتح‘ کے دعوے کر رہے ہیں۔

دوسری جانب فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے طالبان کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔

پومپیو کا کہنا تھا: ’بہت سے بیانات میری نظر سے بھی گزرے ہیں۔ ابھی دیکھنا ہے کہ اصل میں ہوتا کیا ہے۔ بیانات پر کم توجہ دیں، لوگوں کی باتوں پر کم توجہ دیں۔‘

دوحہ معاہدے کی شرائط کے تحت غیر ملکی افواج 14 ماہ کے اندر اندر افغانستان سے رخصت ہوجائیں گی جب کہ طالبان سکیورٹی کی گارنٹی اور کابل حکومت سے مذاکرات کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا