سکون چاہیے؟ دماغوں اور گھروں میں سامان کم کریں!

باتھ روم میں جو بوتلیں کام کی نہیں ہیں انہیں پھینکیں، جو فالتو بالٹیاں ہیں ان سے جان چھڑائیں، ربڑ کا پائپ جو باہر اکڑا ہوا پڑا ہے، اگر کام نہیں آتا تو اسے مردہ سانپ کی طرح پالنے کا فائدہ نہیں، وہ جو نیا لیا ہے اسے استعمال بھی کریں۔

ہمارے دماغوں پہ دو چیزوں کا پریشر ہے۔ ایک ٹیکنالوجی کا اور دوسرے اپنے ہی سامان کا۔ ہم یا اپنے گھر میں رہتے ہیں اور یا اپنے موبائل میں رہتے ہیں۔ دونوں چیزیں ہی فل بھری ہوئی ملتی ہیں ہمیشہ، ہم کہاں رہیں گے؟  (پکسابے)

میرا خیال ہے کہ ہم اپنی الماری سے وہ تمام کپڑے نکال کر کسی غریب آدمی کو دے سکتے ہیں جو ہم نے یہ سوچ کر جمع کیے ہوئے ہیں کہ وزن کم ہو گا تو ضرور پہنیں گے۔ پچھلے پانچ سال میں کم ہوا کوئی کلو دو کلو؟ نہیں ہوا، تو کسی کو دے کیوں نہیں دیتے؟

وہ جو ٹول باکس میں پینتیس قسم کے اوزار پڑے ہیں، جنہیں زنگ لگ گیا ہے، جنہیں چھونے سے بھی ہاتھوں میں وہ سمیل آتی ہے جو ٹرین کے نان اے سی ڈبے میں گرمیوں کا ایک سفر کرنے کے بعد کپڑوں میں بس جاتی ہے، تو ان کا زندگی میں اور سٹور میں اب کیا مقصد باقی ہے؟ 

وہ میز جو آپ نے اس لیے رکھی تھی کہ اس پر بیٹھ کے پڑھائی لکھائی کرنی تھی، پھر وہ جو بڑا سا کمپیوٹر اس پہ لا کے رکھ دیا، نہ آپ نے اس پہ کچھ لکھا پڑھا، نہ بچے اس پہ بیٹھے، لیپ ٹاپ اور موبائل کے بعد وہ کمپیوٹر اور وہ میز اب کس کا راستہ دیکھ رہے ہیں؟ اسے فارغ کرا دیں تو کیا گھر کھلا کھلا نہیں لگے گا؟ 

پچھلے بیس سال سے ہارڈ ڈسک میں جو گند بلا آپ جمع کر رہے ہیں، جو کلاؤڈ پر بھی چڑھا دیا، جس کا بیک اپ بھی بنا دیا، جو گوگل ڈرائیو پر بھی موجود ہے آخر اسے اپنے ساتھ کیوں لیے پھر رہے ہیں؟ وہ ساری فلمیں جو اب آن لائن دیکھی جا سکتی ہیں، سارے گانے جو اب یوٹیوب پہ موجود ہیں، جو ایک کلک کے فاصلے پہ ہیں، وہ کیوں آخر ڈیلیٹ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی؟ چار چار ہارڈ ڈسکیں بھر گئیں لیکن ڈیٹا کبھی ارینج نہیں ہو سکا، آج بھی کوئی چیز ڈھونڈنی ہو تو باری باری سب کو لگا کے دیکھنا پڑتا ہے، زندگی ایسی جھنڈ کیوں ہے؟ 

وہ کتابیں جو نہ کبھی پڑھیں اور نہ کبھی اگلے تیس سال میں پڑھی جانی ہیں، وہ آخر کیوں سنبھالی ہوئی ہیں؟ جو پسند ہیں ان کی بات الگ، لیکن باقی کتابیں اگر کم کر لی جائیں تو کیا کمرے میں کھلے پن کا احساس تھوڑا زیادہ نہیں ہو جائے گا، اگلی شفٹنگ آسان نہیں ہو گی؟ 

کچن میں وہ مصالحے جو شاپروں میں پڑے پڑے گل گئے، ڈیپ فریزر کی وہ تھیلیاں جو چھ مہینے سے کھلی تک نہیں، شوکیس کے وہ برتن جو تین نسلوں سے جمے ہوئے ہیں، کیا ان سے نجات نہیں حاصل کی جا سکتی؟ ان گنت چمچوں اور کانٹوں کی جگہ اگر مختصر کٹلری ہو تو کیا اسے سنبھالنا آسان نہیں ہو گا؟ 

باتھ روم میں جو بوتلیں کام کی نہیں ہیں انہیں پھینکیں، جو فالتو بالٹیاں ہیں ان سے جان چھڑائیں، ربڑ کا پائپ جو باہر اکڑا ہوا پڑا ہے، اگر کام نہیں آتا تو اسے مردہ سانپ کی طرح پالنے کا فائدہ نہیں، وہ جو نیا لیا ہے اسے استعمال بھی کریں۔ گاڑی پہ کپڑا نہیں چڑھانا تو اسے ڈکی سے نکال کے باہر پھینکیں، مان لیا کہ شوق سے لیا تھا پیسے خرچے تھے لیکن یہ بھی مان لیں کہ روز روز اب یہ کھیچل برداشت نہیں ہوتی اور ڈکی بھی گندی بھری ہوئی لگتی ہے۔ موبائل سے فالتو کی ڈاؤن لوڈ ہوئی واٹس ایپ ویڈیوز نکالیں، انرجی سیور ایک بار ختم ہو گیا تو اس کا کچھ نہیں ہو سکا، اب تو پتنگ تک نہیں اڑ سکتی کہ ڈور کے مانجھے میں اس کا شیشہ کام آ جائے، پھینک دیں ان سب کو خدا کے واسطے۔ پرفیوم کی خالی بوتلوں سے جان چھڑائیں ۔۔۔ یہ سب پتہ ہے کیوں ضروری ہے؟ 

ہمارے دماغوں پہ دو چیزوں کا پریشر ہے۔ ایک ٹیکنالوجی کا اور دوسرے اپنے ہی سامان کا۔ ہم یا اپنے گھر میں رہتے ہیں اور یا اپنے موبائل میں رہتے ہیں۔ دونوں چیزیں ہی فل بھری ہوئی ملتی ہیں ہمیشہ، ہم کہاں رہیں گے؟ نتیجہ یہ ہو گا کہ زندگی آہستہ آہستہ کاٹھ کباڑ میں دب جائے گی۔ اس کے بعد کیا ہو گا؟ کسی چیز کا مزہ نہیں لے سکیں گے آپ۔ پیسہ بڑا ہے پر سکون نئیں اے جی۔ یہ ایک پرانا ڈائیلاگ ہوتا تھا۔ تو اس بے سکونی کی ایک بہت زیادہ بڑی وجہ بے ترتیب زندگی اور چیزوں کا پھیلے ہونا ہے۔

دیکھیں ہمارے دماغ تو وہی ہیں جو دو تین سو برس پہلے ہمارے پردادوں یا ان کے نانوں دادوں کے تھے لیکن اب ان پر بوجھ کتنا بڑھ گیا ہے یہ سوچیں۔ ان کی زندگی میں فریج، ٹی وی، اے سی، فالتو برتن، گاڑی، واشنگ مشین، ریڈیو، گیزر، لائٹیں، پنکھے، بلب، گھڑیاں کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ نہ انہیں یہ سب خریدنا پڑتا تھا نہ مرمت کروانی ہوتی تھی اور نہ پرانا ہونے کی صورت میں یہ سب ان کے سٹور میں ڈھیر ہونا ہوتا تھا۔ اسی طرح نہ موبائل نہ کمپیوٹر، کچھ بھی ان کے پاس نہیں تھا، اندازہ کریں کہ ان کا دماغ کیسے ہلکا پھلکا اور آزاد ہوتا ہو گا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہمارے پاس یہ سب کچھ ہے تو، لیکن اسے مینٹین کرنے کا پریشر بھی اسی حساب سے ہے۔ اب دماغ تو ہمارا سائز میں اتنا ہی ہے جتنا دادوں پردادوں کا تھا لیکن ڈیٹا بہت زیادہ ہے، یاد رکھنے کا بہت کچھ ہے، تو جب یہ سب ہو گا تو ڈپریشن، بے آرامی، نیند کی کمی اور بے چینی، کیا یہ سب نہیں ہو گا؟ یہ تو ہو گا! جب ملکیتی چیزیں بڑھتی جائیں گی تو یہ سب بھی بڑھتا جائے گا۔

اسے کم کرنے کی پہلی صورت یہ ہے کہ فالتو چیزوں سے جان چھڑا لی جائے۔ جتنی زیادہ چیزیں آپ کی ملکیت میں ہوں گی اتنا ان کا خیال رکھنا پڑے گا۔ اب وہ چاہے ڈیجیٹل ڈیٹا ہو یا اصل زندگی کا سامان، کھلارا جتنا بڑھتا جائے گا، سمیٹنا اتنا مشکل ہو گا۔ میں خود ایک کباڑیا ہوں۔ مجھے علم ہے کہ پرانی چیزوں سے جان چھڑانا کیسا مشکل ہے۔ لیکن جو چیز پچھلے تین سال سے آپ کے کام نہیں آئی وہ اگلے تیس سال بھی نہیں آئے گی۔ چاہے وہ ڈیجیٹل ڈیٹا ہو چاہے گھر کا سامان ہو۔ کوشش کریں، بات بہت سامنے کی ہے لیکن سمجھ میں تب تک نہیں آتی جب تک تجربہ نہ کیا جائے۔ آزمائش شرط ہے! 

ایک مرتبہ افلاطون کہیں شہر سے باہر آرام کر رہا تھا۔ چند لوگ اس کے پاس آئے، لیٹے دیکھا تو ایک طرف ہو کے بیٹھ گئے۔ اس کی آنکھیں کھلی تھیں لیکن وہ کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ وہ دیر تک اسے دیکھتے رہے اور انتظار کرتے رہے کہ افلاطون کی توجہ ان کی جانب ہو تو وہ سوال کریں۔ کافی دیر کے بعد جب اسے لوگوں کی موجودگی کا احساس ہوا تو اس نے ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ لوگوں میں سے ایک نے بڑے ادب سے سوال کیا کہ اے محترم بزرگ، میری زندگی میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے لیکن بے سکونی نہیں جاتی۔ افلاطون نے منہ دوبارہ پھیر لیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے جواب دیا۔ ’تم سب اپنے فریج اور الماریاں خالی رکھا کرو۔ فالتو سامان ہرگز مت بھرو۔‘ 

اگر میں کالم ایسے شروع کرتا تو سب نے مان لینا تھا، کدی کسے عام انسان دی نارمل گل وی من لئی دی اے! 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ