وبا کے دنوں میں شاہراہِ قراقرم سے سنائی دیتی آوازِ دوست

شعور و احساس کے لیے ہمیں سمند پار کی مثالوں کی ضرورت نہیں، یہ مثالیں اسلام آباد سے صرف 12 گھنٹے کی مسافت پر بکھری پڑی ہیں۔

پسو کونز(کری ایٹو کامنز)

ایک طرف نیچے اسلام آباد شہر میں سناٹا بول رہا ہے، دوسری طرف پختونخوا وطن کے گم سم پہاڑ بدھا جیسی خاموشی اوڑھے بیٹھے ہیں۔ پہاڑ کی چوٹی سے شہر کا ہر منظر صاف دکھائی دے رہا ہے۔ پہلے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی، اب سوئی بھی گرجائے تو جنگل سانس کھینچ لیتا ہے۔ فیصل مسجد کے سفید مینار اتنے واضح ہیں، جیسے کھسک کر آگے آگئے ہوں۔

آج پہلی بار اقتدار کے ایوانوں کے اُس پار راول جھیل ایسے نظر آرہی ہے جیسے چمکتا ہوا ایک بڑا شیشہ سامنے ہی رکھا ہو۔ آس پاس کے درختوں کا لرزتا ہوا عکس بھی جھیل کی سطح پر صاف صاف دکھائی دے رہا ہے۔

فطرت انسانی اشرافیہ کو یہ تجویز تو نہیں دے سکتی کہ کھانا پینا چھوڑ دے اور انڈسٹری لگانا بند کر دے۔ انسان سے اور خاص طور سے ہم وطن انسان سے یہ تو کہہ سکتی ہے کہ ڈکارنے پھونکنے، کھانے پینے، چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے اور جینے مرنے کا کوئی طریقہ سلیقہ بھی ہوتا ہے۔ چلنا پھرنا تو سمجھ آتا ہے، مگر روندنے مسلنے سے آپ کو کیا ملتا ہے۔ کھانے کی بات اور ہے مگر آپ ہڑپنے پہ کیوں تل گئے ہیں۔ بیٹھنے سے کون روک سکتا ہے، مگر آپ تو ہتھیانے سے کم پر راضی ہی نہیں ہوتے۔ بیٹھے بیٹھے دھول اڑا دینا تو جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔

وہ تو کرونا نے روک لیا ورنہ آپ تو دھول جھونکنے بھی لگے تھے۔ رک کر گھڑی دو گھڑی ہماری بھی سن لیں، آخر اتنی ہوا کس بات کی بھری ہے۔ اتنی سی بات پر اتنی اکڑ کہ بولنے لکھنے پر تمہیں قدرت حاصل ہے؟ بات تو تب تھی کہ زبانِ بے زبانی کو سمجھنے کا بھی جناب کو کچھ ہنر ہوتا۔   

کسی سے دوستی کا معاملہ قانونی نہیں ہوتا۔ ڈںڈے کے زور پہ جو کروائی جائے وہ دوستی کیسے ہو سکتی ہے۔ فطرت اور ماحول سے دوستی پر دل مائل ہوگا تو ہی سکوتِ لالہ وگُل سے کلام پیدا ہو گا۔ شعور اور احساس نہیں ہو گا تو بات نہیں بنے گی۔ پسماندگی کا یہ عالم ہے کہ شعور و احساس کے لیے ہمیں دور پار کی مثالیں دینی پڑتی ہیں، جبکہ مثالیں اسلام آباد سے صرف 12 گھنٹے کی مسافت پر بکھری پڑی ہیں۔ شمال کے کسی گھر، درس گاہ، دانش کدے یا ادارے کا حوالہ دینا نہیں چاہتا۔ فطرت سے دوستی کے دوچار چھوٹے چھوٹے سبق دہرا لینے دیجیے جو وقت نے شاہراہ قراقرم پر یونہی چلتے چلتے پڑھا دیے تھے۔  

وقت کم تھا اور مجھے وقارملک کے پاس ہنزہ بالا پہنچنا تھا۔ ٹیکسی ڈرائیور سے کہا: ’ہنزہ چل سکتے ہو؟‘

بیچارا سوچ میں پڑگیا۔ جیسے وہ مجھے لے جانا بھی چاہتا ہو مگر کوئی عذر بھی لاحق ہو۔ میں نے کہا: ’نہیں جا سکتے تو کوئی بات نہیں، میں تو بس پوچھ رہا تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کی مدد سے اٹھا کر مجھے دکھایا اور بولا: ’میرا یہ والا ہاتھ ٹھیک نہیں ہے سر۔ گاڑی خود چلا سکتے ہو تو چلتے ہیں سر۔‘ میں نے ہامی بھری، سیٹ سنبھالی اور گاڑی شاہراہ قراقرم پر ڈال دی۔

اسد بتا رہا تھا کہ اس کا تعلق نلتر سے ہے۔ حالات نے سکول جانے نہیں دیا۔ بچپن دانہ پانی کرنے میں گزر گیا۔ فالج حملہ آور ہوا تو بستر کا ہوکر رہ گیا۔ ’کچھ دن پہلے ہی یہ آٹومیٹک گاڑی لی ہے۔ خدا کا شُکر ہے گزارا ہو جاتا ہے۔ کم از کم کسی پر بوجھ تو نہیں ہوں نا سر۔۔۔۔۔ یہ دیکھو سر، لوگ پڑھ لکھ کر بھی ایسا کیوں ہوتے ہیں سر؟‘

میں سٹپٹا گیا کہ اسد تو اپنی داستان سنا رہا تھا، اچانک پڑھے لکھوں پر سوال کہاں سے آ گیا؟ دراصل ہماری گاڑی کے آگے کالے رنگ کی ایک ویگو جا رہی تھی۔ گاڑی کا دایاں شیشہ نیچے ہوا، سگریٹ کا خالی پیکٹ اڑتا ہوا باہر آیا، جسے ہوا نے لڑھکاتے ہوئے پہاڑ کی اوٹ میں پہنچا دیا۔ اسد نے کہا: ’اتنی بڑی گاڑی ہے، تعلیم ہے، دماغ ہے سب ہے، یہ لوگ کچرا گاڑی کے اندر کسی تھیلی میں کیوں جمع نہیں کرتے سر؟‘

اسد کا شکوہ جاری تھا کہ ویگو گاڑی کا بایاں شیشہ بھی اتر گیا۔ زیور سے آراستہ پیراستہ ایک زنانہ بازو باہر آیا، اطمینان سے بسکٹ کا ریپر باہر پھینکا، واپس اندر چلا گیا۔ اسد نے ماتھے پر ہاتھ مارا اور غصے کو ہنسی میں دباتے ہوئے بولا: ’اب یہ کیا ہے سر؟ یہ لوگ تو کچرا مچرا سڑک پر ایسے پھینکتے ہیں جیسے نہ پھینکنا قانون کے اندر جرم ہو۔ کیا کہتے ہو سر؟‘

میں اسد کو کیا جواب دیتا۔ میں تو خود اُس کے ناخواندہ دل و دماغ سے احساس کی پھوٹنی والی شعاعوں کو اپنے مزاج میں جذب کررہا تھا۔ بس اتنا ہی کہہ پایا: ’ٹھیک کہتے ہو اسد!‘

شاہراہ قراقرم پر گُلمت سے پہلے آپ آسمان کی وسعتوں کو سمیٹتے ہوئے ایک تنگ و تاریک سرنگ میں چلے جاتے ہیں۔ اس طویل ترین سُرنگ کے اگلے سرے کے پار ہوتے ہی آپ نیلے پانیوں کی ہوا دار بہشت میں نکل جاتے ہیں۔ اسے عطا آباد جھیل کہتے ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کے ارمانوں پر پانی پھر جانے کو ہم عطا آباد جھیل کہتے ہیں۔ وقت اور زمانے کا چلن بس کچھ ایسا ہی ہے۔ بالکونی میں بیٹھ کر جسے ہم حسین موسم کہتے ہیں، کچی بستیوں میں اسے خراب موسم کہا جاتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جن کے گھر یہاں ڈوب گئے تھے وہ در در رسوائی کاٹ رہے ہیں۔ جو ان کا حق مانگ رہے تھے وہ آشفتہ سر غذر کی جیلوں میں پڑے ہیں۔ جو بے خبر ہیں وہ جھیل کے سینے کو واٹر بائیک سے چیر کر پانی اڑا رہے ہیں۔  

شاہراہ قراقرم پر سے گزرتے ہوئے بائیں جانب نیلے رنگ کے ایک صاف ستھرے بورڈ پر نظر پڑی جو جھیل کے داخلی راستے پر نصب تھا۔ بورڈ پر خبردار کیا گیا تھا کہ پلاسٹک کے تھیلوں کا استعمال ہنزہ میں ممنوع ہے۔ اسلام آباد جیسے شہر میں پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی اس کے ٹھیک ایک سال بعد کی بات ہے۔ آج یہ پابندی بھی اسلام آباد شہر میں دیگر کاغذی پابندیوں کی طرح ایک پابندی ہی رہ گئی ہے۔ مگر کیوں؟ کیونکہ معاملہ تو قانون کا ہے ہی نہیں۔ معاملہ تو سارا شعور کا ہے اور احساس کا ہے، جو بڑے شہروں میں کبھی آیا نہیں اور شمال سے کبھی گیا نہیں۔

آپ گُلمت سے آگے ہنزہ بالا کی طرف بڑھتے ہیں تو پسو کا علاقہ آتا ہے۔ اس علاقے میں اترتے ہیں تو دائیں جانب گوجال کے پہاڑ دریائے ہنزہ میں پاؤں دھوتے نظر آتے ہیں اور سامنے پسو کونز کی چوٹیاں آسمان سے سرگوشیاں کر رہی ہوتی ہیں۔ بائیں جانب شاہراہ قراقرم کے کندھے سے جڑی ہوئی ایک آرام گاہ کو پسو اِن ہوٹل کہتے ہیں۔ وقار ملک نے کبھی شہری زندگی تیاگ کر یہاں بیٹھک جمائی ہوئی تھی۔ یہ پاگل پن کی ایک داستان ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ مستنصر حسین تارڑ نے اپنی کتاب ’حراموش ناقابلِ فراموش‘ کا انتساب وقار کے نام کیا ہے۔ نفسیات ان کا موضوع ہے، صحافت ان کا پیشہ ہے، تلہ گنگ ان کا علاقہ ہے اور گلگت بلتستان ان کا عشق ہے۔ تازہ زمانے میں لکھنے والے اور بھی بہت ہوں گے، مگر پُنیال کے انگوروں سے کشیدے ہوئے پانی جیسی سکون آور تحریر تو وقار ملک کی ہی ہوتی ہے۔ 

ہم شام گئے پسو اِن کے لان میں بیٹھے شیرباز صاحب کا انتظار کر رہے تھے۔ وقار ملک نے بتایا: ہوٹل کے پچھواڑے میں ایک سپاٹ لائٹ لگائی گئی، جس کی گھومتی ہوئی روشنی سامنے پہاڑوں پر پڑتی تھی۔ صبح تڑکے گاؤں کے منتظم نے آ کر کہا: برا مت منائیے گا لیکن اس لائٹ کے لیے آپ کو گاؤں کی انتظامی کمیٹی سے بات کرنی ہو گی۔ بات پہنچا دی گئی، جواب میں انتظامیہ نے احترام و محبت سے بھری ایک معذرت بھیج دی۔ بلاشبہ آپ کی لائٹ سے اس علاقے میں سماں پیدا ہوتا ہے، مگر پہاڑی علاقے میں اس کی روشنی ماحول دوست نہیں ہے۔ بہت کم ہی سہی، مگر اس بات کا امکان رہتا ہے کہ سامنے پہاڑوں سے رات دس بجے کے بعد مارخور اتریں۔ اس لائٹ کی تیز روشنی مارخور کو بہت پریشان کرتی ہے۔

شام گہری ہوئی تو شیرباز صاحب پورے ٹبر کے ساتھ پہنچ گئے۔ ان کا آنا ایک پوری داستان ہے، کبھی موقع بنا تو سناؤں گا۔ یہ پورا گھرانہ ہی محبت سے اتنا لبریز تھا کہ محفل سمیٹنے کا دل نہیں تھا۔ شیرباز محکمہ تعلیم کے آدمی ہیں اور اگلے دن انہیں تاجکستان جانا تھا۔ وقتِ رخصت انہوں نے کہا: ’جاتے جاتے ایک سگریٹ ہو جائے؟‘

سگریٹ چھوڑے ہوئے مجھے آٹھ ماہ ہو چکے تھے، مگر محبت میں ہم نے کیا کچھ نہیں پیا۔ ہم شاہراہ قراقرم کے کنارے تمباکو پھونک رہے تھے اور وقار ملک بے تکان گفتار کیے جا رہے تھے۔ شیرباز کی سگریٹ ختم ہوئی تو انہوں نے جیب سے ٹشو پیپر نکالا۔ سگریٹ کو ٹشو سے بجھایا، اسی ٹشو میں سگریٹ کو لپیٹا اور آرام سے جیب میں رکھ دیا۔ قلندر کی یہ بات مجھے پانی پانی کر گئی۔ سگریٹ کے اُس ٹوٹے کو دیکھ دیکھ کر شرمندگی ہو رہی تھی جو نیچے پھینک کر میں نے جوتے سے مسل دیا تھا۔ آج تک یہی تو ہم نے کرتے دیکھا تھا اور یہی تو ہم کرتے آئے تھے۔

میں اسی اُدھیڑ بُن میں تھا کہ وقار ملک نے شیرباز کے عمل کو امرِ الہیٰ جان لیا۔ جھک کر وقار نے اپنی مسلی ہوئی سگریٹ اٹھائی تو مارے شرمندگی کے مجھے بھی ٹوٹا اٹھانا ہی پڑ گیا۔ اپنے کیے پر ہمیں اتنی شرمندگی نہیں ہوئی، جتنا شیرباز کو اس بات پر افسوس رہا تھا کہ بے دھیانی میں ایسا کر کے میں نے مہمانوں کو الجھن میں کیوں ڈال دیا۔ معاشرہ اپنے غلط کو جب ٹھیک سمجھ کر اپنا لیتا ہے تو اچھائی کرتے ہوئے بھی اچھے اچھوں کو ہچکچاہٹ ہونے لگتی ہے۔

عطا آباد جھیل کے کنارے لکڑی کی دکانیں اور کچھ چائے خانے بنے ہوئے ہیں۔ بائیں ہاتھ پر پہلی یا دوسری دکان میں کچی عمر کا ایک لڑکا کام کرتا ہے۔ اس کی چال میں کچھ عذر ہے اور بولتے ہوئے اسے دقت ہوتی ہے۔ سیاحت پہ نکلے ہوئے ایک بھرپور کنبے کو ہم نے سامنے سے آتا ہوا دیکھا۔ زرق برق پہناووں میں لپٹا ہوا اور خوشبوؤں میں نہایا ہوا۔ چال میں تہذیب کے رنگ بھرے ہوئے اور مادری گفتار میں بھی انگریزی جڑی ہوئی۔ مضبوط اعصاب کے ایک نستعلیق جوان نے منرل واٹر کی بوتل منہ کو لگائی، آخری گھونٹ بھرا، بوتل کو ہوا میں اچھالا، آگے بڑھ کے رونالڈو کی طرح پینلٹی کِک ماری اور بوتل گھومتی ہوئی وہ جا گری۔ دکان کے باہر خستہ سی کرسی پر بیٹھا معذور لڑکا یہ سب دیکھ کر کھلکھلا اٹھا۔ وہ باقاعدہ ہنسا، مگر اس کی ہنسی میں تہذیب کا ماتم نہیں تھا۔ اسے واقعی یہ منظر بہت اچھا لگا تھا۔ جوان جب گزر گئے تو گونگا سا یہ لڑکا اٹھا، لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ گیا اور خاموشی سے بوتل اٹھا لی۔

وہ پلٹا ہی تھا کہ شوخ رنگ جینز ٹی شرٹ پہنی نوعمر لڑکی نے جوس کا ڈبہ پھینک دیا۔ لڑکی ڈبے پر اچھل اچھل کر اپنے ماحول کا سیکھا آزمانے لگی۔ دھان پان لڑکی کی کم وزنی کی وجہ سے ڈبہ یکبارگی میں نہ پھٹ سکا۔ جب تک ڈبہ پھٹ نہیں گیا پراگندہ حال لڑکا وہیں کھڑا رہا اور مسکراتا رہا۔ بمشکل تمام ڈبہ دھماکے سے پھٹ ہی گیا، جوس کے کچھ قطرے دائیں بائیں بکھرگئے اور لڑکی ٹھنڈے دل کے ساتھ اپنی راہ نکل گئی۔

معذور لڑکے نے مسکراتے ہوئے جوس کا پھٹا ہوا ڈبہ بھی اٹھایا اور دکان کے پاس پڑے کوڑے دان میں جاکر پھینک دیا۔ واپس اپنی خستہ و شکستہ سی کرسی پر بیٹھا اور تہذیب و اخلاق، شائستگی و شستگی، تعلیم وتربیت، شعور و احساس، صحت اور ذہانت کے اعلیٰ نمونوں کو آتا جاتا دیکھ کر محظوظ ہونے لگا۔  

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ