باغ جناح میں ڈیڑھ سو فٹ لمبا، سو فٹ چوڑا گڑھا کیوں کھودا جا رہا ہے؟

باغوں کا شہر کہلانے والے لاہور میں وسیع رقبے پر پھیلا باغ جناح بھی تعمیرات کی نظر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اس ٹینک کی تعمیر رکوانے کے لیے سول سوسائٹی کے نمائندہ قمر زیدی نے ہائی کورٹ اور ایف آئی اے سے رجوع کیا ہے۔(تصویر: ارشد چوہدری)

پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو باغوں کا شہر کہا جاتا ہے لیکن یہاں کئی بڑے باغ تعمیرات کی نظر ہوچکے ہیں اور اب مال روڈ پر واقع وسیع رقبے پر پھیلا باغ جناح بھی تعمیرات کی نظر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

پہلے یہاں سرکاری دفاتر منتقل کرنے کی کوشش کی گئی اور اب واسا کی جانب سے اس میں سیوریج کا پانی جمع کرنے کے لیے زیر زمین بڑا ٹینک بنانے کا کام شروع کردیا گیا ہے، جس کی تعمیر رکوانے کے لیے سول سوسائٹی کے نمائندہ قمر زیدی نے ہائی کورٹ اور ایف آئی اے سے رجوع کیا ہے۔

ان کے مطابق پنجاب کی بیوروکریسی گذشتہ دس سالوں سے اس خوبصورت اور قدیمی باغ میں سرکاری دفاتر تعمیر کرنا چاہتی ہے جس سے یہاں درختوں اور پودوں کا وجود ختم ہوسکتا ہے۔

قمر زیدی کے مطابق پہلے ہی اس کے کئی حصوں پر عمارتیں بنا کر اس سبزہ زار کو نقصان پہنچایا گیا اور اب پانی جمع کرنے کے لیے ٹینک کی آڑ میں اس پر قبضے کی کوشش ہو رہی ہے۔

دوسری جانب جبکہ چیئرمین پارکس اینڈ ہارٹی کلچر (پی ایچ اے) لاہور یاسر گیلانی کا کہنا ہے کہ سابقہ حکومتوں نے لاہور میں مختلف منصوبوں کے دوران سبزہ ختم کیا، جسے بحال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ باغ جناح میں پانی کا ٹینک بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔

لاہور کے باغ کہاں گئے؟

مختلف رپورٹس کے مطابق قیام پاکستان سے قبل انگریز دور میں لاہور شہر میں ہر طرف بڑے بڑے باغ تھے، اسی لیے اسے باغوں کا شہر کہا جاتا تھا۔

جناح باغ بھی 1862میں بنایا گیا تھا، یہاں سو سال سے زائد عمر کے درخت ابھی تک موجود ہیں لیکن اب ناصر باغ، بادامی باغ اور چوبرجی باغ سڑکوں اور عمارتوں کی نظر ہوچکے ہیں جبکہ کئی شاہراہوں پر بنی گرین بیلٹس بھی ختم ہوچکی ہیں۔

اسی طرح مال روڑ اور کینال روڑ پر لگے درختوں کے علاوہ کئی شاہراہوں سے بھی بڑی تعداد میں درخت ہٹا دیے گئے ہیں۔

پی ایچ اے کے ریکارڈ کے مطابق شہر لاہور میں 2007 سے 2015 تک 75 فیصد سبزہ ختم ہوا اور اب اس سے بھی کم ہوگیا ہے۔ 2007 میں لاہور کا 12 ہزار359 ایکڑ رقبہ سرسبز تھا۔ 2010 میں 7 ہزار965 ایکڑ رہ گیا اور 2015 میں صرف 3 ہزار520 ایکڑ رقبے پر ہی سبزہ رہ گیا، جو اب مزید کم ہوچکا ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق فیروز پور روڈ، ملتان روڈ اور جیل روڈ سے تو سبزہ ختم ہوا، رہی سہی کسر شہر کے آس پاس زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں تعمیر ہونے سے نکل گئی۔

تاہم یاسر گیلانی کا کہنا ہے کہ لاہور کی خوبصورتی کو بحال کرنے کے لیے شاہراہوں پر چھوٹے پودے لگائے جارہے ہیں۔

سبزہ بچانے کی کوششیں

لاہور میں گرین ایریا کے تحفظ کی مہم کا حصہ رہنے والے سماجی رہنما قمر زیدی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دستاویزات کے مطابق باغ جناح 177 ایکڑ رقبے پر بنایا گیا تھا، لیکن بعد میں 14 ایکڑ زمین چڑیا گھر کو دے دی گئی، کئی ایکڑ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کو بوٹینکل گارڈن بنانے کے لیے دے دی گئی جبکہ کچھ حصہ وزیراعلیٰ پنجاب آفس 90 شاہراہ، مال روڈ کو کشادہ کرنے میں چلی گئی۔ یوں اب اس کا رقبہ 141 ایکڑ بچا ہے، لیکن اس میں بھی لیڈیز کلب، اوپن ایئر تھیٹر، فٹبال، کرکٹ گراؤنڈ، کاسموکلب اور دربار بھی بنا دیا گیا، جبکہ کئی کنال زمین آس پاس کی سڑکیں کشادہ کرنے پر صرف ہوگئی۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پنجاب کی بیوروکریسی اس باغ کو بھی آہستہ آہستہ دفاتروں اور دیگر عمارتوں کی تعمیر کے لیے حاصل کرنا چاہتی ہے۔ سابقہ حکومت نے یہاں محکمہ پارکس اور زراعت کے دفاتر بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی جبکہ موجودہ دور میں بھی یہاں واسا اور پی ایچ اے نے مل کر زیر زمین 100 فٹ چوڑا، 150 فٹ لمبا اور 20 فٹ گہرا زیر زمین ٹینک تعمیر کا کام شروع کردیا ہے اور یہاں سے لاکھوں روپے کی مٹی بھی فروخت کر دی گئی۔

قمر زیدی کے مطابق سیوریج کے گندے پانی کا ٹینک باغ کو نہ صرف تباہ کرے گا بلکہ یہاں ماحول بھی خراب ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ جس طرح لبرٹی مین بلیوارڈ کا سبزہ بچانے کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا گیا تھا، اب بھی انہوں نے ہائی کورٹ اور ایف آئی اے سے رجوع کیا ہے تاکہ باغ جناح کو بچایا جاسکے۔

کیا موجودہ حکومت سبزہ بحال کرنے میں سنجیدہ ہے؟

حکمران جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے منشور میں گرین پاکستان کا اعلان کیا گیا ہے اور بلین ٹری منصوبہ بھی جاری ہے۔

چیئرمین پارکس اینڈ ہارٹی کلچر لاہور یاسر گیلانی نے انڈپینڈنٹ اردوسے گفتگو میں کہا کہ سابقہ حکومت نے میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، شاہراہوں کی کشادگی اور انڈر پاس اور فلائی اوورز کی تعمیرات کے دوران باغوں کے شہر کو سبزے سے تقریباً محروم کردیا، لہذا اب پودے لگانے اور گرین بیلٹس بحال کرنے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اور نہ صرف پارکس میں سبزہ زیادہ حصے پر لگایا جارہا ہے بلکہ سڑکوں کے اطراف بھی پودے لگائے جارہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابقہ حکومت نے پانچ سال میں صرف سوا سے ڈیڑھ لاکھ پودے لگائے جبکہ انہوں نے ایک سال میں ساڑھے تین لاکھ پودے لگائے اور مزید بھی لگائے جارہے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ باغ جناح میں زیر زمین ٹینک اور تعمیرات کے باعث درختوں اور پودوں کو نقصان ہوگا اور اس کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ ٹینک وارث روڈ، مزنگ اور لارنس روڈ کی آبادیوں میں بارش اور سیوریج کا پانی ختم کرنے کے لیے بنایا جارہا ہے، جسے اوپر سے بند کیا جائے گا اور مٹی ڈال کر سبز گھاس لگائی جائے گی جبکہ یہی پانی صاف کرکے پودوں کو دیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب پروجیکٹ ڈائریکٹر باغ جناح اختر محمود نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ منصوبہ حکومت پنجاب کا ہے، باغ جناح انتظامیہ کا نہیں۔ یہاں تعمیر سے کوئی نقصان نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے پودے یا درخت متاثر نہیں ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا: 'اس منصوبے کو روکنے کا اختیار ہمیں نہیں ہے، یہ پارک پی ایچ اے کے دائرہ اختیار میں ہے، لہذا پی ایچ اے اور واسا نے مل کر یہ منصوبہ شروع کیا ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہاں پانی جمع ہوگا اور اس سے یہیں کے پودے اور درخت سیراب ہوں گے۔'

تاہم قمر زیدی نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس زیر زمین ٹینک کی تعمیر بارش اور سیوریج کے پانی کی نکاسی کے لیے ہے تو باغ جناح کے اندر سے پہلے ہی سیوریج کا ایک بڑا نالہ گزر رہا ہے اور دوسرا نالہ اسی جگہ سے گزرتا ہے جہاں ٹینک تعمیر ہو رہا ہے، لہذا نالے میں پانی ڈالا جاسکتا تھا اور یہیں سے پمپوں کی مدد سے پودے اور درخت سیراب ہوسکتے تھے۔

انہوں نے کہا: 'میری اطلاعات کے مطابق اس ٹینک کی اجازت پنجاب حکومت نے نہیں دی بلکہ واسا اور پی ایچ اے مل کر یہاں قبضہ جمانے کے لیے ایسی تعمیرات کو ڈھال بنا رہے ہیں تاکہ بعد میں یہاں دفاتر تعمیر ہوسکیں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات