نیا مالی سالی: 'ٹیکسوں سے آمدنی بڑھانے کی کوشش کریں گے'

پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے دوران معاون خصوصی برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ 'ہم لوگوں کی جیبوں میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتے۔نہ ہمارے یا ہمارے رشتہ داروں کے کاروبار ہیں جنہیں ہم تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔'

پوسٹ بجٹ نیوز کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافے کی خواہش مند ہے  (فائل تصویر: پی آئی ڈی)

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ مالی سال 21-2020 کے دوران تحریک انصاف حکومت پاکستانی عوام کو سہولیات دیتے ہوئے ٹیکسوں سے آمدنی بڑھانے کی کوشش کرے گی۔

اسلام آباد میں ہفتہ کے روز پوسٹ بجٹ نیوز کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافے کی خواہش مند ہے اور اس کے لیے ہر قسم کے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ ملک میں کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کی وجہ سے حالات مختلف ہیں اور ہر طبقہ معاشی طور پر دباؤ کا شکار ہے۔

ایسے میں ہم لوگوں کو ٹیکس اکٹھا کرنے کی خاطر بہت زیادہ تکلیف میں نہیں ڈالنا چاہتے بلکہ ان کو زیادہ سے زیادہ آسانی دینا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ٹیکس میں اضافے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

عبدالحفیظ شیخ نے بتایا: 'آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ان دو باتوں کا خصوصی طور پر خیال رکھا گیا ہے کہ ٹیکس کی آمدن میں اضافہ ہو لیکن اس سے پاکستانی عوام اور کاروباری طبقے پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔'

'یہی وجہ ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے کوئی نیا ٹیکس لگانے کی بجٹ میں تجویز پیش نہیں کی گئی۔ بلکہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں میں کمی کی گئی ہے۔'

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا: 'ہم لوگوں کی جیبوں میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتے۔نہ ہمارے یا ہمارے رشتہ داروں کے کاروبار ہیں جنہیں ہم تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔'

قومی شناختی کارڈ کی شرط سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ خریداری کی حد کو پچاس ہزار سے ایک لاکھ کرنے کی تجویز ثابت کرتی ہے کہ حکومت عوام کو سہولت فراہم کرتے ہوئے ٹیکس اکٹھا کرنا چاہتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف حکومت کا آئندہ مالی سال کے بجٹ میں واحد مقصد لوگوں کو سہولتیں فراہم کرنا ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ نے مزید کہا کہ دنیا کے بڑے ادارے پاکستانی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ہماری حکومت ایک منظم انداز میں چیزوں کو آگے لے کر چل رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسوں اور ڈیوٹی کے خاتمے اور کمی کی شکل میں بہت بڑی سہولت فراہم کی جارہی ہے، جس کا مقصد ملک میں نجی شعبہ کو فروغ دینا اور کاروبار کرنے کو آسان سے آسان تر بنانا ہے۔

حفیظ شیخ نے مزید کہا کہ حکومت کے لیے اتنی بڑی تعداد میں نوکریاں دینا ممکن نہیں ہوتا اور کرونا وائرس کی وبا کی موجودگی میں معاشی صورت حال مزید بری ہو گئی ہے، ایسے میں صرف نجی شعبے کو مراعات دے کر ہی ملک میں روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وبا کے باعث پیدا ہونے والے برے حالات کی ذمہ داری حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ حکومت ان حالات کو بہتر بنانے اور لوگوں کو سہولتیں دینے کے لیے پالیسیاں بنا رہی ہے۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ملک میں فی کس آمدن بڑھانے کا طریقہ یہی ہے کہ یا تو لوگوں کی مجموعی آمدنی میں اضافہ ہو اور یا آبادی میں کمی کی جائے۔

منی بجٹ کے امکانات سے متعلق سوال کے جواب میں عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ بجٹ پورے سال کے لیے ہوتا ہے اور منی بجٹ کسی غیر معمولی صورت حال میں ہی متعارف کروایا جاتا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال غیر یقینی ہے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ کیا صورت حال بنے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر صورت حال کا تقاضا ہوا تو بجٹ کی تجاویز میں تبدیلی کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف یا بین الاقوامی ادارے ہمیشہ چاہتے ہیں کہ حکومتیں اپنی پالیسیاں خود بنائیں اور ایسی موثر پالیسیاں بنائیں جو ان کے لیے فائدے کا باعث بنیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت