ایرانی بندرگاہ پر آتشزدگی، متعدد جہاز آگ کی لپیٹ میں آگئے

ایرانی میڈیا پر سامنے آئی تصویر میں دھوئیں کے گہرے بادل آتشزدگی کے مقام سے اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ بندرگاہ پر آگ بجھانے والا عملہ بھی مصروف کار نظر آتا ہے۔

ایران کے خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اس اتشزدگی میں تاحال کسی ہلاکت یا میڈیکل ایمرجنسی کی صورت حال سامنے نہیں آئی ہے۔ (اے ایف پی/ ایچ او /آئی آر آئی بی) 

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بوشہر بندرگاہ پر آتشزدگی کے نتیجے میں وہاں موجود کم از کم سات بحری جہازوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

یہ واقعہ دھماکوں اور آتشزدگیوں کے اس سلسلے میں ایک اور اضافہ بن کے سامنے آیا ہے جن سے ایران حالیہ دنوں میں نبرد آزما رہا ہے۔  

ذرائع ابلاغ پر شائع کی جانے والی تصویر میں دھوئیں کے گہرے بادل آتشزدگی کے مقام سے اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں جبکہ بندرگاہ پر آگ بجھانے والا عملہ بھی مصروف کار ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بدھ کو پیش آنے والے آتشزدگی کے اس واقعے میں تاحال کسی ہلاکت یا میڈیکل ایمرجنسی کی صورت حال سامنے نہیں آئی ہے۔

خیال رہے کہ ایران کا واحد جوہری پاور پلانٹ بوشہر بندرگاہ سے تقریباً 20 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔

اس سے قبل حالیہ ہفتوں میں ایران میں عسکری اور عوامی مقامات پر آتشزدگی اور دھماکوں کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں ایران کے نیوکلیئر کمپلیکس میں پیش آنے والے حادثے سے حکام کے کے مطابق کمپلیکس کو 'بڑا نقصان' پہنچا تھا۔ بعد ازاں ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے ایک مضمون میں اسے امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے ایک ممکنہ سبوتاژ کوشش قرار دیا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم اسرائیل کے وزیر دفاع نے پانچ جولائی کو اپنے ایک بیان میں واضح کر دیا کہ ایران میں ہونے والے ہر مشکوک واقعے کے ’پیچھے ضروری نہیں کہ اسرائیل ہی ہو‘۔

جبکہ جون میں تہران دو دھماکوں ہل کر رہ گیا تھا، ان دھماکوں میں سے ایک فوجی مقام جبکہ دوسرا ہیلتھ سینٹر میں ہوا تھا، جن میں 19 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ہیلتھ سینٹر میں دھماکے کے بارے میں ایرانی حکام کا موقف تھا کہ یہ گیس لیکیج کی وجہ سے ہوا جب کہ 26 جون کو تہران کی عسکری چھاؤنی میں ہونے والا دھماکہ بھی گیس سٹوریج کا دھماکہ ہی بتایا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا