خیبر پختونخوا: آئی سی یو میں مریضوں کی تعداد 44 فیصد کم

محکمہ صحت کی رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق ہائی ڈیپینڈینسی بیڈز جس پر انتہائی نگداہشت کے مریضوں سے کم سیریس مریض رکھے جاتے ہیں کی تعداد میں بھی 45 فیصد کمی آئی ہے۔

پاکستان میں لوگوں کی قوت مدافعت پر بھی بحث ہو رہی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ یہاں لوگوں میں قوت مدافعت مضبوط ہے (اے ایف پی)

خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کی کرونا کے حوالے سے تازہ ترین رپورٹ کے مطابق انتہائی نگہداشت مریضوں میں گذشتہ ایک مہینے کے دوران 44 فیصد کمی دیکھی گئی ہے جبکہ وینٹی لیٹر پر موجود مریضوں کی تعداد میں تقریباً 54 فیصد کمی ہوئی ہے۔

محکمہ صحت کی رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق ہائی ڈیپینڈینسی بیڈز جس پر انتہائی نگداہشت کے مریضوں سے کم سیریس مریض رکھے جاتے ہیں کی تعداد میں بھی 45 فیصد کمی آئی ہے۔

اگر ان اعدادوشمار کو دیکھا جائے تو 21 جون کو صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں (آئی سی یو) انتہائی نگداشت بیڈز پر کرونا کے 113 مریض تھے جبکہ 21 جولائی کو ان مریضوں کی تعداد کم ہو کر 74 رہ گئی ہے جبکہ اگر گراف کو دیکھیں تو ان مریضوں کی تعداد میں 21 جولائی سے کمی نظر آ رہی ہے۔

اسی طرح ایچ ڈی یو بیڈز جو کم انتہائی نگہداشت مریضوں کے لیے ہوتے ہیں پر 21 جون کو 321 مریض زیر علاج تھے جو اب کم ہو کر 180 رہ گئے ہیں جبکہ ہسپتالوں میں 21 جون کو 78 مریض وینٹی لیٹر ہر تھے جو 21 جولائی کو کم ہو کر 36 رہ گئے ہیں اور 247 وینٹی لیٹر زیر استعمال نہیں ہیں۔

مجموعی طور پر سرکاری اعدادو شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں 22 جولائی تک کرونا مریضوں کی تعداد 32 ہزار 753 ہے جس میں 25 ہزار 713 مریض صحت یاب جبکہ 1158 افراد کی اس مرض سے موت واقع ہوئی ہے۔

صوبے میں ان اعدادوشمارکا اگر تجزیہ کیا جائے تو صحت یاب مریضوں کی شرح میں بھی واضح اضافہ دیکھا گیا ہے جو 78 فیصد ہے جبکہ یہ شرح تقریباً ڈیڑھ مہینہ پہلے 30 فیصد تھی۔ صوبہ بھر میں کرونا کے موجودہ زیر علاج مریضوں کی تعداد پانچ ہزار 882 ہے۔

اس کمی کے وجوہات کیا ہیں؟

انتہائی نگہداشت مریضوں سمیت وینٹی لیٹر پر موجود مریضوں کی تعداد میں کمی کی وجوہات کے بارے میں صوبائی کرونا ریسپانس ٹیم کے رکن زین رضا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہم اس کمی کو دیکھ  رہے ہیں اور اس کا تجزیہ کر رہے ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس کمی کی ایک وجہ نہیں بلکہ مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان وجوہات میں ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ لوگوں نے کرونا کو اب بہت حد تک سیریس لینا شروع کیا ہے اور انھوں نے احتیاطی تدابیر جیسا کے ماسک پہننا، سماجی دوری برقرار رکھنا اور ہاتھ دھونا پر عمل کرنا شروع  کیا ہے۔

زین رضا کہتے ہیں کہ ’لوگوں نے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا شروع کیا ہے اور اب یہ لوگوں کا طرز زندگی بن چکا ہے اور یہی مریضوں کی تعداد میں کمی کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔‘

ان کے مطابق دوسری وجہ سمارٹ اور ٹارگٹڈ لاک ڈاؤن ہے جس میں حکومت نے ان جگہوں پر جہاں کرونا کے مریض موجود تھے کو بند کیا تھا تاکہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے جبکہ تیسری وجہ موسم  بھی ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انھوں نے مزید بتایا کہ کچھ سائنسی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ گرم مرتوب موسم کرونا کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے اور ’ہم سمجھتے ہیں کہ مریضوں کی کمی میں ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی لیکن واضح طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ابھی ان پر مزید تحقیق ہونا باقی ہے۔‘

پاکستان میں لوگوں کی قوت مدافعت پر بھی بحث ہو رہی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ یہاں لوگوں میں قوت مدافعت مضبوط ہے اسی وجہ سے کرونا سے ہلاکتیں اور مریضوں کی تعداد اتنی نہیں بڑھی جس طرح دیگر ممالک میں بڑھی تھی۔

کرونا پر مکمل کنٹرول کے حوالے سے زین رضا نے بتایا کہ فی الحال کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے کہ کب کرونا مکمل طور پر ختم ہو جائے گا لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ کرونا کچھ عرصے کے لیے موجود ہوگا اور ہمیں اس کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’بہتر تجزیہ یہی ہو سکتا ہے کہ کرونا کچھ عرصے کے لیے رہے گا لیکن اگر ہم اس کو اتنا کنٹرول کر سکے کہ صحت کا نظام کولیپس نہ کر جائے اور اس کو منیج کریں اور نارمل زندگی کی طرف لوٹ جائیں تو یہی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت