امریکہ صحافیوں کے خلاف طاقت کا استعمال روکے: اقوام متحدہ کا مطالبہ

حالیہ دنوں میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف ہونے والے ملک گیر تاریخی مظاہروں کی کوریج کرنے والے کئی صحافیوں کو امریکی حکام کی جانب سے گرفتار کیا گیا ہے۔

(اے ایف پی)

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ امریکہ میں مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو حملوں اور گرفتاری کے خوف کے بغیر اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

حالیہ ہفتوں میں امریکی حکام  کی جانب سے صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے کریک ڈاؤن کا مشاہدہ کیا گیا ہے جب کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ان متعدد شہروں میں وفاقی ایجنٹوں کو تعینات کر دیا ہے جہاں مظاہرین نسلی امتیاز کے خاتمے اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی ترجمان لز تھروسل نے صحافت کے تحفظ کی بات کی ہے۔

لز تھروسل نے جینیوا میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا: ’احتجاج کو ان میں شریک مظاہرین اور ان کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے بغیر بھی جاری رہنا چاہیے، صحافیوں کو غیر منطقی طور پر غیر متناسب اور طاقت کے امتیازی سلوک کا نشانہ بننے یا اپنے حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں اور من مانی گرفتاریوں یا نظربندیوں کے خطرے کا سامنا ہے۔‘

عالمی ادارے کی ترجمان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہفتوں پہلے سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف ہونے والے ملک گیر تاریخی مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو امریکی حکام کی جانب سے گرفتار کیا گیا۔

یکم جولائی کو دی انڈپینڈنٹ کے نمائندے اینڈریو بن کامبی کو سیئٹل میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا، جب پولیس کیپیٹل ہل آرگنائزڈ پروٹسٹ (سی ایچ او پی) میں شامل مظاہرین کو منتشر کر رہی تھی۔

خود کو بار بار بطور صحافی متعارف کرانے کے باوجود ان پر منتشر نہ ہونے کا الزام عائد کیا گیا اور رہا کرنے سے پہلے انہیں کم از کم آٹھ گھنٹے تک قید میں رکھا گیا تھا۔

اس کے جواب میں دی انڈپینڈنٹ نے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ’جرنلزم از ناٹ آ کرائم‘ کے نام سے ایک مہم کا آغاز کیا تھا۔

اس اقدام کا اعلان کرتے ہوئے دی انڈپیںڈنٹ نے اپنے اداریے میں لکھا: ’جو کچھ ہم آج دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ امریکہ میں پولیس فورس کے ہاتھوں متعدد افراد، بشمول صحافیوں کے حقوق کو کتنی ہی بار نظرانداز کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں پراسیکیوشن سے غیر معمولی استثنیٰ حاصل ہے۔ ایک مخصوص ادارہ جاتی اصول بنا لیا گیا ہے کہ پولیس قانون سے بالاتر ہے، حالانکہ پریس کی تحقیق سے اتنا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ صحافیوں کو سزا دینے کے لیے انہیں قید کر سکتے ہیں۔‘

’محض سڑکوں کو مظاہرین سے صاف کرنے کے لیے پولیس افسران کے لیے انصاف اور عدالتی حکم کی روایت کو غیر ضروری سمجھنا فائدہ مند نہیں ہے۔‘

امریکہ میں 70 سے زیادہ صحافیوں کو نسلی امتیاز کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ربڑ کی گولیوں، مرچوں کے سپرے اور آنسو گیس کی وجہ سے درجنوں دیگر صحافی زخمی ہو چکے ہیں۔

صحافیوں کے لیے کام کرنے والے ادارے ’دا یو ایس پریس فریڈم ٹریکر‘ نے مئی کے آخر تک جارج فلائیڈ کے قتل کے تناظر میں بدامنی کے دوران پولیس کی جانب سے صحافیوں کو نشانہ بنانے کی 500 سے زیادہ رپورٹس جمع کیں۔

امریکہ میں برطانیہ کے سفیر کیرن پیئرز نے جمعے کو دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ امریکہ میں میڈیا کی آزادی سے متعلق ایک بہت مضبوط ٹریک ریکارڈ ہے اور فطری طور پر ہم اس کو جاری رکھنے کے منتظر ہیں۔

انہوں نے امریکہ میں صحافیوں پر حملوں میں اضافے کے بارے میں دی انڈپینڈنٹ کے ایک سوال کے جواب میں کہا: ’میں نے اینڈریو اور دیگر برطانوی صحافیوں کا معاملہ  امریکی محکمہ خارجہ اور وائٹ ہاؤس کے ساتھ اٹھایا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی ترجمان لز تھروسل نے ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا کہ پورٹ لینڈ میں نامعلوم وفاقی افسران نے لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔

انہوں نے کہا: ’یہ ایک پریشانی کی بات ہے کیوں کہ اس سے ان افراد کو قانون کے تحفظ سے محروم کیا جا سکتا  ہے اور یہ صورت حال غیر قانونی حراست اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کو جنم دے سکتی ہے۔‘

ٹرمپ انتظامیہ کے پورٹ لینڈ اور متعدد دوسرے امریکی شہروں میں وفاقی ایجنٹوں کو بھیجنے کے فیصلے نے حالیہ دنوں میں نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے اعلان کیا ہے کہ وہ شکاگو اور البوکر اور نیو میکسیکو میں وفاقی ایجنٹوں کو بھیجیں گے کیوں کہ وہ ’امن و امان‘ کو اپنی 2020 کی انتخابی مہم کا مرکزی موضوع بنانا چاہتے ہیں۔

وفاقی عمارتوں کی حفاظت کے لیے امریکی کسٹم اور بارڈر پروٹیکشن، امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ اور ہوم لینڈ سکیورٹی کی فیڈرل پروٹیکٹیو سروس کے ایجنٹوں کو پورٹ لینڈ میں تعینات کیا گیا تھا لیکن حالیہ دنوں میں ویڈیو اور گواہوں کے بیانات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ لوگوں کو فیڈرل پراپرٹی کے قانون کی خلاف ورزی کے بغیر گرفتار کر رہے ہیں اور پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کا استعمال کر رہے ہیں۔

جمعرات کو پورٹ لینڈ میں ایک جج نے وفاقی قانون نافذ کرنے والے افسران کو جرائم کا ارتکاب نہ کرنے والے صحافیوں اور قانونی مبصرین کو احتجاج میں شرکت کرنے سے روکنے یا ان کے خلاف جسمانی طاقت کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔

وفاقی جج مائیکل ایچ سائمن نے اپنے فیصلے میں کہا: ’جب غلط کام جاری ہو تو حکام کو میڈیا کی آنکھوں پر پٹی باندھنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ آزاد پریس عوامی مفادات کا نگہبان ہے اور عدلیہ پریس کی نگہبان ہے۔‘

پورٹ لینڈ کے میئر نے احتجاج کو روکنے کے لیے وفاقی ایجنٹوں کے استعمال کو جمہوریت کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا ہے۔

دوسری دو وفاقی نگران تنظیموں نے پورٹ لینڈ اور واشنگٹن ڈی سی میں وفاقی ایجنٹوں کی جانب سے مظاہروں کے دوران طاقت کے استعمال کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ