وارسا جنگ نے اشتراکیت کے بڑھتے قدم کیسے روکے؟

وارسا جنگ اس قابل ہے کہ اسے ڈی ڈے کے مساوی قرار دیا جائے کیونکہ یورپ میں اشتراکیت کے خلاف جنگ میں یہ ایک اہم موڑ تھا۔

وارسا جنگ کے دوران ایک سپاہی پوزیشن سنبھالے نظر آ رہا ہے (وکی کامنز)

تاریخ میں ایسے اہم لمحات ہوتے ہیں جو دنیا کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔ 20 ویں صدی میں پولینڈ اور یورپ کے لیے ان لمحات میں سے ایک 15 اگست، 1920 کا دن تھا۔

یہ وہ موقع تھا جب 1918 میں دوبارہ وجود میں آنے والے ملک نے بولشویک فوجوں کے خلاف ایک فیصلہ کن اور فتح یاب جنگ لڑی۔ اس جنگ کا مقصد اشتراکی انقلاب کی آگ کو پورے یورپ میں پھیلانا تھا جو پہلی عالمی جنگ کے نتیجے میں انسانی جانوں اورمادی وسائل کے ضیاع کی وجہ سے تباہ ہو چکا تھا۔

برطانوی سفارت کار ایڈ گرڈابرنن کے مطابق دنیا کی تاریخ میں یہ اٹھارہویں فیصلہ کن جنگ تھی۔ جنگ وارسا اس قابل ہے کہ اسے ڈی ڈے (چھ جون، 1944 کا دن جب اتحادی فوجوں نے شمالی فرانس پر چڑھائی کی) کے مساوی قرار دیا جائے کیونکہ یورپ میں اشتراکیت کے خلاف جنگ میں ایک اہم موڑ تھا۔ آہنی پردے  کی وجہ سے، جس نے یالٹا کانفرنس کے نتیجے میں یورپ کو تقسیم کر دیا تھا، یہ خاص واقعہ عالمی حافظے پر اس طرح نمایاں طور پر نقش نہیں ہوا جیسا اس کا حق تھا۔

اس کا تعلق عوامی تہذیب اور تاریخ کی کتابوں دونوں سے ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یورپی باشندوں کےاجتماعی حافظے میں ان خالی جگہوں کو بالآخر بھر دیا جائے۔ جنگ وارسا کی سالگرہ نہ صرف پولینڈ بلکہ پورے یورپ میں منائی جانی چاہیے۔ اگرچہ یہ پولینڈ ہی تھا جس نے'دریائے وسچولا'کے کنارے پر فتح حاصل کی لیکن اس فتح کا بڑی حد تک تعلق یورپی قوم کی آزادی کے ساتھ ہے۔ ان کی اشتراکیت سے پیدا ہونے والی مطلق العنانیت کی تاریکی سے آزادی۔

تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو 1920 کے  سال میں ایسے بہت سے واقعات اپنے انجام کو پہنچے جن کا آغاز 18 ویں صدی کے آخر میں جرمن ریاست پرشیا، روس اور آسٹریا کی جانب سے پولینڈ کو حصوں میں تقسیم کرنے سے ہوا تھا۔ جنگ وارسا یورپ اور عالمی تاریخ میں ایک جدید قوم کی تعمیر کے نمایاں واقعات میں سے ایک واقعے کی انتہا تھی۔

وہ قوم جس کے پاس ملک نہیں تھا وہ فوجی و سیاسی شکست ( جس میں پولینڈ کی کئی تحریکیں اور ریاست کے متبادل کے طور پر یکے بعد دیگرے آنے والے نظاموں کی ناکامی شامل ہے) کے ملبے سے اٹھی تھی۔ اس وقت پولینڈ کو یورپ کے اس نقشے سے مٹا دیا گیا جو 18 ویں صدی کے آخر سے پہلی عالمی جنگ کے آخر تک پھیلا ہوا تھا۔

پولینڈ کی پہلی حقیقت جو قابل ذکر ہے وہ پولینڈ کے جاگیردارانہ معاشرے کا یورپ کی سب جدید سول سوسائٹیوں میں تبدیل ہونے کا بڑے پیمانے پر ہونے والا عمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ریاستی اداروں کی عدم موجودگی میں ہوا۔ سماجی، ثقافتی، کھیلوں کے ادارے جیسے کہ 'سوکول' جمناسٹک ایسوسی ایشن، مالیاتی اتحادوں، سائنسی سوسائیٹیوں اور ازخود تعلیم کی تنظمیوں پر مشتمل بڑے نیٹ ورک کا مقابلہ صرف جاپان کے بادشاہ میجی کے دورمیں ہونے والی اصلاحات سے کیا جا سکتا ہے طاقت ور مرکزی نظام کے تحت کی گئی تھیں۔

پولینڈ میں 19 ویں صدر کے دوسرے نصف میں نچلی سطح پر آنے والے بڑے انقلاب میں ملک پر قابض قوتوں کو للکارا گیا تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پولینڈ کی عوام اپنی ہی تاریخ سے سبق سیکھنے اور عقلیت پسندی، جمہوری اصلاحات، خواتین اور عام لوگوں کو بااختیار بنانے کے جدید ترین اصولوں سے کام لے کر مضبوط ہونے کے قابل تھی۔

اگر تعلیم، سائنس اور سماجی فکر کے روشن خیالی پر مبنی محاذ پر فتح نہ ملتی تو فوجی محاذوں پر بھی کوئی فتح نہ ہوتی۔ پولینڈ کے پہلے جمہوری انقلاب کی نمایاں تاریخ کو یورپ میں بڑے پیمانے پر نہیں جانا جاتا۔ افسوس کی بات ہے کہ ایسا اس لیے ہے کہ یہ وہ قصہ ہے جو فرانسیسی دانش ور توک ویل کی کتاب 'امریکہ میں جمہوریت' جیسے ادبی شاہکاروں کے ہم پلہ ہے۔

1981 میں دوبارہ آزادی حاصل کرنے کے فوری بعد پولینڈ نے سماجی اور انتخابی شعبے میں مغربی دنیا کے بعض جدید ترین قانون وضع کیے۔ دوبارہ حاصل ہونے والی آزادی کے احساس نے تعصب معاشرے کے بڑے طبقات کو امتیاز کا نشانہ بنانے کے رجحان پر غلبہ پا لیا۔

پولینڈ نے معاشرے میں اتحاد اور پوری قوم میں یکجہتی پیدا کرنی تھی۔1918 کے بعد ریاستی ادارے دوبارہ وجود میں آ گئے جس کے بعد 19 ویں صدی کے آخر میں دانش وروں کی طرف کیا جانے والا کام ریاست کے حق میں کی جانے والی کوششوں کا حصہ بن گیا۔

اس طرح پولینڈ کی حقیقت جموری نظام کے قیام کی وہ کہانی ہے جو مغربی یورپ کی داستان سے مختلف ہے۔ یہ جمہوریت کی وہ داستان ہے جو پولینڈ کے سماجی و سیاسی ملک ہونے کی حیثیت سے دوبارہ آزادی اور اہمیت حاصل کرنے کے عمل کے ساتھ ساتھ وجود میں آئی۔ یہ جدت پسندی کی داستان ہے جو 19 صدی کے یورپ پر چھائی طاقتوں کی سامراجیت، آمریت اور استبداد کو للکارتے ہوئے بنی۔

اس داستان کا، جس کا عروج ریاست کی بالغ نظری کی بہت سخت آزمائش میں سامنے آیا، یعنی دوبارہ آزادی ہونے کے بعد دو سال سے بھی کم عرصے میں پولینڈ کو بولشویکوں کی جانب سے اشراکیت کے خطرے کا سامنا تھا۔  

بولشویکوں کے ساتھ جنگ پولینڈ کی عوام کے غیرمعمولی سیاسی اتحاد کا مظہر تھی۔ جولائی 1920 میں قومی دفاع کی حکومت قائم ہو گئی۔ کسان تحریک کے رہنما ونسنٹی ویٹوس وزیراعظم بن گئے۔ پولینڈ میں بائیں بازو کے رہنما اگنیسی ڈیزنسکی نائب وزیراعظم مقرر ہوئے۔ نئے حاصل ہونے والے ملک کے وجود کے ہی دفاع کی ضرورت کے پیش نظر پولینڈ کی آزادی کے بڑوں کے درمیان موجود سیاسی اختلافات پس منظر میں چلے گئے۔

اہم موقعے پر پولینڈ کی سیاسی اشرافیہ نے بالغ نظری کا امتحان پاس کرلیا۔ کیتھولک کلیسا کی بھرپور حمایت کے ساتھ پولینڈ کے عوام بڑے پیمانے پر جنگی کوشش کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ بولشویک فوج کو ایک ایسی قوم کا سامنا کرنا پڑا جو اپنی مشکل حاصل کی گئی آزادی سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں تھی۔

بولشویکوں اور پولینڈ کی جنگ کا مرکزی نکتہ وارسا کی جنگ تھی۔ یہ کمانڈروں کی جانب سے وسطی پولینڈ کی طرف پیش قدمی کرنے والی بولشویک فوجوں پر ایک دلیرانہ جوابی حملہ تھا۔ یہ حملہ مارشل جوزف پلسوڈسکی، چیف آف سٹاف ٹیڈیوزروزواڈوسکی اور آپریشنل کمانڈروں جنرل ولادیسلاسکروسکی اور ایڈورڈ سمگلی رڈز نے کیا۔

فوجی تاریخ کے مشہور فرانسیسی مؤرخ ہبرٹ کیمون نے اس ہمہ گیر حملے کو، جس نے پولینڈ کو وارسا کی جنگ میں فتح دلوائی فرانس کے نپولین بوناپارٹ کے حملے جیسا دیکھا۔ کم از کم نقصان کے ساتھ پولینڈ کی فوج نے بہت بڑی بولشویک فوج کوشکست دے دی جو بڑی تیزی سے مغربی یورپ کی جانب بڑھ رہی تھی۔

جنگ کی وجہ سے پولینڈ کے معاشرے میں آنے والی بیداری کی لہرقابل دید تھی حالانکہ پولینڈ پہلی عالمی جنگ میں سب سے زیادہ تباہ ہونے  والےملکوں میں سے ایک تھا۔ پولینڈ کا جواب اس لحاظ سے نمایاں تھا کہ جنرل ہیلر کی رضاکار فوج کتنی تیزی سے بنائی گئی جس کی تعداد جلد ہی ایک لاکھ سے زیادہ ہو گئی۔

ذرائع ابلاغ نے پہلی جنگ عظیم کے ’معجزہِ مارن‘ کا حوالہ دیتے ہوئے پولینڈ کی فتح کو ’معجزہ وسچلا‘ قرار دیا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران  فرانسیسی اور برطانوی افواج نے جرمن فوج کی پیش قدمی کو دریائے مارن کے کنارے روک دیا تھا جیسے ’معجزہِ مارن‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پولش بلشویک جنگ نہ صرف بڑی افواج کے درمیان جھڑپوں، معاشرے کی شاندار کاوشوں یا کمانڈروں کی سٹریٹجک ذہانت کے بارے میں تھی بلکہ یہ انٹیلیجنس سروسز کے درمیان ذہانت اور ہوشیاری کے مقابلے بازی کے لحاظ سے بھی یاد رکھی جائے گی۔

سوویت خفیہ کوڈ توڑنے والے پولینڈ کی فوجی انٹلیجنس کے افسر جان کووالیوسکی وارسا کی لڑائی کے خفیہ محاذ کے عظیم ہیرو بن کر سامنے آئے تھے۔ یہ ان کا ہی کام تھا جنہوں نے پولش آپریشنل حکمت عملی بنانے کے لیے درکار کلیدی معلومات حاصل کرنے میں مدد کی۔ اس خفیہ محاذ کے ہیرو نے 1920 میں یورپ کے خلاف سوویت جارحیت روکنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

مزید برآں دوسری جنگ عظیم کے دوران وہ سہہ فریقی کارروائی کی ایک اہم شخصیت تھے جس کا خفیہ منصوبہ پولینڈ کی جلاوطن حکومت نے لندن میں تیار کیا تھا اور اس کا مقصد اٹلی، رومانیہ اور ہنگری کو ایکسز پاور کے اتحاد سے نکال کر بلقان خطے پر حملہ کرنا تھا۔ لیکن افسوس سویت یونین کے رہنما سٹالن کے دباؤ میں روزویلٹ نے ونسٹن چرچل کا بلقان پر چڑھائی کا منصوبہ ترک کردیا۔ اگر تاریخ نے کوئی دوسرا راستہ اختیار کیا ہوتا تو جان کوالیسوکی دو بار مشرقی اور وسطی یورپ کو غاصب سوویت تسلط سے بچا سکتے تھے۔

وارسا کی جنگ کی صد سالہ سالگرہ آج کے آزاد یورپ کے لیے سب سے اہم ایونٹ ہے۔ پولینڈ نے مغرب کو نسل کشی کے تجربے سے بچایا جیسا کہ فرانسیسی مورخین نے مشہور ’بلیک بُک آف کمیونزم‘میں اسے بیان کیا ہے۔ پولینڈ اور اس کے عوام کے لیے کمیونزم کے تجربے اور اس کے افسوس ناک اور طویل مدتی نتائج کو اکثر غلط سمجھا گیا۔ کمیونزم کی میراث ایک حقیقی مسئلہ ہے جس نے خاص طور پر جمہوری تبدیلیوں سے گزرنے والے ممالک کی معاشرتی اور ادارہ جاتی حقیقت کی شکل بگاڑ دی۔

ادب کے نوبل انعام یافتہ عظیم پولش ناول نگار اور وڈیسلا ریمونٹ نے اپنے ناول ’دا ریولٹ پولش: بنٹ‘ میں وارسا کی جنگ کے خاتمے کے بعد جانوروں کے ذریعے انسان کے خلاف اٹھائے جانے والے بغاوت کا نظریہ پیش کیا اور اس میکانزم کی تصویر کشی کی۔ انہوں نے جارج اورول اور ان کے معروف ناول ’انیمل فارم‘ سے 20 سال پہلے یہ کتاب تحریر کی تھی۔

ریمونٹ یہ کتاب اس لیے لکھ پائے کیونکہ پولینڈ نے مغرب سے بہت پہلے کمیونزم کے ساتھ محاذ آرائی کا سامنا کر لیا تھا۔ وارسا کی لڑائی کی پانچ دہائیوں بعد پولینڈ نے عوامی سطح پر جمہوری انقلاب کا عروج دیکھا جو 19 ویں صدی کے دوسرے نصف حصے اور 20 ویں صدی کے اوائل میں یورپ کی ایک انتہائی غیر معمولی تاریخ تھی جسے کبھی تحریر نہیں کیا گیا۔ یہ عظیم حب الوطنی، مذہبی عقیدت، فوجی حکمت عملی اور خفیہ کوڈز کی اہمیت کی داستان ہے۔

زیادہ آگاہی نہ ہونے کے باوجود پولش بلشویک جنگ نہ صرف جدید پولینڈ  کی تشکیل کے لیے ایک اہم لمحہ تھا بلکہ یہ اس کی اہمیت پورے یورپ کے لیے اہمیت کا حامل واقعہ تھا۔

یہ دو متنوع تہذیبوں کا اصل نقطہ تصادم تھا اور اس بارے میں 1920 میں پیدا ہونے والے پوپ جان پاؤل سے بہتر کوئی نہیں جانتا جن کا کہنا ہے کہ ’وہ جب سے پیدا ہوئے ہیں وہ ان لوگوں کے مقروض ہیں جنہوں نے حملہ آوروں کے خلاف جنگ لڑی اور اس کی بھاری قیمت ادا کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔‘

اس قرض کو ادا کرنے کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ آج  وارسا جنگ کی فتح کے ایک سو سال بعد  اپنے آپ کو اور پورے یورپ کو اس کے بارے میں یاد دلانے کا یہ ایک بہترین موقع ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ