بلوچ نوجوان کا مبینہ قتل، ایف سی اہلکار سات روزہ ریمانڈ پر

بلوچستان کے شورش زدہ علاقے ضلع کیچ میں نوجوان کے مبینہ قتل کے الزام میں فرنٹیئر کور کے اہلکار کو سات روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ 

حیات مرزا کراچی یونیورسٹی میں شعبہ فزیالوجی کے فائنل ایئر کے طالبعلم تھے (تصویر بشکریہ حیات فیملی)

بلوچستان کے شورش زدہ علاقے ضلع کیچ میں نوجوان کے مبینہ قتل کے الزام میں فرنٹیئر کور کے ایک اہلکار کو سات روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ 

ایس ایس پی تربت نجیب قمبرانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو  تصدیق کی کہ نوجوان حیات مرزا کے قتل کے الزام میں زیر حراست ایف سی اہلکار شاہدی اللہ کو سات روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔ 

نجیب قمبرانی کے مطابق مقتول کے بھائی مراد کی مدعیت میں نامعلوم ایف سی اہلکار کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

حیات مرزا کے چھوٹے بھائی نسیم مرزا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے والد کجھور کے ٹھیکدار ہیں اور انہوں نے ایک باغ کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ 

نسیم کے مطابق کرونا کے باعث تعلیمی ادارے بند ہیں اس لیے حیات بھی ان دنوں گھر پر ہی تھے۔ 

’اس روز حیات نے مجھے کہا کہ والد اور والدہ کے لیے ناشتہ لے جاؤ میں نے کچھ سستی دکھائی اور کہا کہ آپ  لے جائیں۔‘ 

نسیم کے مطابق حیات ایک فرمانبردار بیٹا اور بھائی تھا اس لیے انہوں نے کسی چوں چرا کے بغیر ناشتہ اٹھایا اور پیدل باغ کی طرف چلے گئے۔ 

ان کے مطابق بلوچی بازار کے قریب شاہراہ کے نزدیک کجھور کا باغ ہے جہاں میرے والد اور والدہ سمیت دیگر لوگ کام کر رہے تھے۔ 

’حیات بھی ناشتہ لے کر ان کے پاس پہنچ گیا اور بعد میں ان کا ہاتھ بٹھانے لگا اس دوران شاہراہ پر ایک دھماکہ ہوا جس میں ایف سی کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔‘ 

حیات کے بھائی نے بتایا کہ ’دھماکے کے بعد فرنیٹیئر کور کے دو اہلکار باغ میں گھس آئے اور انہوں نے حیات کو پکڑ کر اسے کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور والدین کے سامنے گھسیٹتے ہوئے لے کر چلے گئے۔‘ 

نسیم کہتے ہیں کہ ’میرے والدین کے روکنے کے باوجود ایف سی اہلکاروں جن میں سے ایک اہلکار نے سادہ سفید کپڑے پہن رکھے تھے نے میرے بھائی حیات کو سڑک پر گر کر اس کو آٹھ گولیاں مار دیں جس سے وہ موقع پر ہلاک ہو گیا۔‘ 

’اس دوران میرے بھائی پر فائر کرنے والے ایف سی اہلکار نے میرے والد اور والدہ پر بندوق تان لی تھی لیکن اسے اس کے ساتھیوں نے فائر کرنے سے روک دیا۔‘ 

واضح رہے کہ 13 اگست کو بلوچستان کے ضلع کیچ میں آبسر کےعلاقے میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں فرنٹیئرکور کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں چھ اہلکار زخمی ہوئے تھے۔  

مقتول حیات مرزا کراچی یونیورسٹی کا طالبعلم تھا اور چھٹیاں گزارنے اپنےآبائی علاقے تربت آیا ہوا تھا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حیات کے قتل کا مقدمہ تربت پولیس تھانے میں اس کے بھائی کی مدعیت میں نامعلوم ایف سی اہلکار کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ 

ایف آئی آر کے مطابق مقتول کے بھائی مراد محمد نے بتایا کہ وہ گورنمںٹ ٹیچنگ ہسپتال تربت کا ملازم ہے اور وقوعہ کے روز بھی وہ اپنی ڈیوٹی کر رہا تھا۔ 

مراد نے پولیس کو بتایا کہ دوران ڈیوٹی اسے اطلاع دی گئی کہ ان کے بھائی کو قتل کر دیا گیا ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ وہ ایک دوسرے عزیز کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو دیکھا کہ ان کا بھائی (حیات) خون میں لت پت سڑک پر پڑا ہے۔ 

ایف آئی آر کے مطابق حیات کے والدین نے کہا کہ اگر وہ ’ایف سی اہلکار جس نے حیات کو گولیاں ماری ہیں ان کے سامنے آجائے تو وہ اس کو پہچان لیں گے۔‘ 

تربت میں حیات کے قتل کی نیشنل پارٹی نےمذمت کرتے ہوئے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی نے حیات مرزا  کے قتل کو انصاف کا قتل قرار دیا ہے۔ 

حیات مرزا کراچی یونیورسٹی میں شعبہ فزیالوجی کے فائنل ایئر کے طالبعلم تھے۔ 

تربت کی رہائشی اقرا جنہوں نے حیات سے ایک کوچنگ سینٹر میں تعلیم حاصل کی تھی کہتی ہیں کہ انہوں نے حیات جیسا استاد نہیں دیکھا۔ 

اقرا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حیات نہ صرف ایک اچھے استاد بلکہ ہر ایک طالبعلم خصوصاً میرے لیے بھائی کی حیثیت رکھتے تھے۔ 

انہوں نے بتایا کہ حیات نہ صرف ایک اچھے استاد تھے بلکہ وہ محنتی طالبعلم بھی رہ چکے تھے کیونکہ انہوں نے غربت کے باوجود تعلیم حاصل کی۔ 

اقرا کے مطابق حیات مستقبل میں بلوچ قوم کے لیے اثاثہ ثابت ہو سکتے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان