کرونا وبا کے دوران ارب پتیوں کی دولت میں بڑا اضافہ

کرونا کی وبا کے دوران جہاں دنیا بھر کو بےروزگاری اور غربت کا سامنا ہے، سات امریکیوں نے دونوں ہاتھوں سے دولت اکٹھی کی ہے۔

بلوم برگ انڈیکس کے مطابق ایمازون کمپنی کے بانی جیف بیزوس اور مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس ہی ایلون مسک سے آگے ہیں۔ (تصاویر: اے ایف پی)

اس سال کے آغاز کے بعد سے اپنی دولت میں چوگنے سے زیادہ اضافے کے بعد ایلون مسک دنیا کے تیسرے امیر ترین فرد بن گئے ہیں۔ ان کے اثاثے 115 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔

ارب پتی افراد کے اشاریے بلوم برگ بلینیئر انڈیکس کے مطابق ٹیسلا اور سپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے اپنی ذاتی دولت میں 11 ارب 70 کروڑ ڈالر کے اضافے کے بعد فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کو اس پیر کو پیچھے چھوڑ دیا۔

اس اشاریے پر اب صرف ایمازون کمپنی کے بانی جیف بیزوس اور مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس ہی ایلون مسک سے آگے ہیں۔ دنیا کے ان چار مالدار ترین افراد کی مشترکہ دولت 500 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

ان چاروں امریکی ارب پتیوں کی دولت میں کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کے دوران زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، کیوں کہ اس دوران عمومی رجحان کے برخلاف ان کی کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں بڑھی ہیں۔

ان کے علاوہ اگر گوگل کے بانی لیری پیج اور سرگے برن اور مائیکروسافٹ کے سابق سی ای او سٹیو بالمر کو بھی شامل کر لیا جائے تو ٹیکنالوجی کی دنیا سے تعلق رکھنے والے یہ ساتوں ارب پتی دنیا کے دس مالدار ترین افراد کی فہرست میں جگہ بنا لیتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2020 کے آغاز کے بعد سے ان سات افراد کی دولت میں مشترکہ طور پر 267 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے اور ان کے اثاثوں کی مالیت کل ملا کر 780.6 ارب ڈالر بنتی ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق ان سات افراد کی کل دولت جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا کے چوٹی کے 20 ملکوں میں آتی ہے اور یہ سعودی عرب اور سوئٹزرلینڈ سے آگے ہیں۔    

وبا کے دنوں میں ان امیروں کی دولت میں اضافے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاست دانوں نے نکتہ چینی کی ہے۔

امریکی سینیٹروں برنی سینڈرز، کرسٹین گلیبرینڈ اور ایڈ مارکی نے مطالبہ کیا ہے کہ ان ارب پتیوں کی غیر متوقع دولت پر ایک بار کا وبائی ٹیکس لگایا جائے۔

ان کے تجویز کردہ ’میک بلینیئرز پے ایکٹ‘ کے تحت مارچ کے بعد سے کمائی گئی دولت کا 60 فیصد لے کر اسے سب لوگوں کو صحت کی سہولیات دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

سینیٹر سینڈرز نے اگست میں کہا تھا، ’زبردست معاشی تکلیف اور اذیت کے دوران ہمیں ایک بنیادی انتخاب کرنا ہے۔ یا تو ہم انتہائی امیروں کو امیر تر ہونے دیں جبکہ غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے یا پھر ہم مٹھی بھر ارب پتیوں کی وبا کے دنوں میں حاصل کردہ دولت پر ٹیکس لگا دیں تاکہ کروڑوں امریکیوں کی صحت اور فلاح میں بہتری لائی جا سکے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا