فلسطین مسئلے کا 'منصفانہ' حل چاہتے ہیں: سعودی عرب

سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک یو اے ای کے نقش قدم پر نہیں چلے گا جب تک اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ ایک عالمی طور پر تسلیم شدہ امن معاہدے پر دستخط نہیں کرتا۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے (اے ایف پی)

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ ان کا ملک مسئلہ فلسطین کے 'منصفانہ' حل کی حمایت کرتا ہے جبکہ صدر ٹرمپ نے اسرئیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کھولنے پر سعودی عرب کا خیر مقدم کیا ہے۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک یو اے ای کے نقش قدم پر نہیں چلے گا جب تک اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ ایک بین الاقومی طور پر تسلیم شدہ امن معاہدے پر دستخط نہیں کرتا۔ یو اے ای نے گذشتہ ماہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اتوار کو صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک فون کال میں شاہ سلمان نے کہا کہ 'سلطنت فلسطین میں امن لانے کے لیے ایک طویل المدتی اور منصفانہ حل کے لیے کوشاں ہے'

گذشتہ ہفتے سعودی عرب نے یو اے ای سے 'تمام مملک' کو جانے والی پرازوں کو ملک کی فضائی حدود میں سے گزرنے کی اجازت دی جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے اسرائیل سے براہ راست یو اے ای کی پروازوں کے آغاز کا اعلان کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب تل ابیب سے ابو ظہبی جانے والی پہلی کمرشل پرواز سعودی عرب کے فضائی حدود سے ہو کر گزری۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق 'صدر ٹرمپ نے اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان پروازوں کے لیے سعودی فضائی حدود کے کھولنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔'

بیان میں مزید کہا گیا کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان معاہدے کی اہمیت پر زور دیا اور خطے میں سکیورٹی اور خوشحالی بڑھانے کے لیے اقدامات پر بات کی۔'

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا