گٹار اور رباب سے چترالی موسیقی کو زندہ رکھنے کی کوشش

 خیبر پختونخوا کے ضلع چترال سے تعلق رکھنے والے نوجوان موسیقار میر سلیم 'قشقارین' بینڈ کے بانی ہیں، جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ علاقائی موسیقی کو نیا رنگ دینے میں مصروف ہیں۔

'چترالی موسیقی کے کچھ گیت اب ختم ہوتے جارہے ہیں۔ میں کوشش کر رہا ہوں کہ اس موسیقی میں جدت لا کر اسے رباب، گٹار اور دیگر جدید موسیقی کے آلات کے ساتھ بجا سکوں۔'

خیبر پختونخوا کے ضلع چترال سے تعلق رکھنے والے نوجوان موسیقار میر سلیم چترالی لوک موسیقی کو زندہ رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

پشاور یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کرنے والے میر سلیم 'قشقارین' بینڈ کے بانی ہیں، جس میں ان کے ساتھ چار ساتھی بھی شامل ہیں۔

وہ اب تک چترالی موسیقی کے پرانے گیت نئے انداز میں بجا چکے ہیں، جس میں انہوں نے گٹار اور رباب استعمال کیا ہے۔

میر سلیم کی مشہور کمپوزیشن میں 'عاشقی انگار' شامل ہے جو کھوار زبان کے جانے پہچانے گلوکار علی عرفان تاجک نے گائی ہے اور جسے یوٹیوب سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بہت پذیرائی ملی ہے۔

میر سلیم اپنے سٹوڈیو نما چھوٹے سے کمرے میں بیٹھے ستھار پر چترالی موسیقی کے پرانے گیت بجا رہے تھے۔ اس کمرے میں گٹار، رباب، پیانو اور کی بورڈ سمیت ڈھولک اور موسیقی کے دیگر آلات بھی موجود تھے۔

انہوں نے مسکراتے ہوئے بتایا: 'یہی آلات ہیں، جن کی مدد سے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ پرانی موسیقی کو نئے انداز میں کمپوز کر سکیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سلیم نے بتایا کہ چترالی موسیقی میں چترالی ستھار کو اعلیٰ مقام حاصل ہے اور زیادہ تر کھوار زبان کی موسیقی لوگ اسی پر بجا چکے ہیں تاہم وہ پرانے گیت آہستہ آہستہ معدوم ہوتے جا رہے ہیں اور اس کی حفاظت کرنا نہایت ہی اہم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پرانی موسیقی اب کیسٹوں تک محدود ہو چکی ہے اور لوگ اس کو بھول چکے ہیں لیکن میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ وہی گیت دوبارہ گٹار اور رباب پر بجائے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ چترالی موسیقی میں پرانے زمانے میں کون سے آلات استعمال ہوتے تھے تو انہوں نے بتایا کہ پہلا تو ستھار ہے اور اس کے ساتھ دف ہے جبکہ بعد میں جیپوں کے پیچھے تیل سٹور کرنے والے ڈبے (جیری کین) کو بھی چترالی موسیقی میں شامل کرلیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا: 'اب ہم نے جدید دور کی دف کو اس موسیقی میں شامل کیا ہے، جس کے ساتھ گٹار یا رباب بجایا جاتا ہے اور وہ چترالی موسیقی میں بہت فٹ ہو گیا ہے۔ سن کر مزا آتا ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی