ایشیا کی بڑی چراگاہوں میں سے ایک وادی چوڑ متنازع کیوں ہے؟

انگریز دور سے کولائی پالس کوہستان کے مکینوں اور ضلع بٹگرام کے آلائی اقوام کے درمیان وادی چوڑ پر تنازع ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے۔

اس متنازع اراضی پر مسئلہ کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے اور اس کا ذکر ایک انگریر محقق آر نڈسن نے پالس پر لکھے گئے ایک تحقیقی مقالے Violence and Belonging  میں بھی کیا (انور یوسفزئی)

خیبر پختونخوا کے ضلع کولائی پالس کوہستان میں گذشتہ رات یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ متنازع وادی چوڑ میں فریقین مسلح ہیں اور کسی بڑے تصادم کا خطرہ موجود ہے۔ 

وادی بندوبستی علاقے سے کئی میل دور ہے تو اس بات کی تصدیق ممکن نہیں تھی کہ آیا واقعے اس علاقے میں کوئی تصادم کا خطرہ ہے یا نہیں۔ تاہم اس بارے میں جب انڈپینڈنٹ اردو نےکولائی پالس کوہستان پولیس کے ترجمان اعظم خان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ پولیس اس وادی میں موجود ہے اور ابھی تک کسی تصادم کے اطلاعات نہیں ہیں۔

اعظم خان نے بتایا: 'یہ افواہ سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی تھی کہ وہاں پر کوئی خونریز تصادم کا خطرہ ہے، تاہم ہماری ٹیم اور اس تنازعے کو حل کرنے کے لیے بنائی گئی کمیشن اس علاقے میں موجود ہے اور ایسی اطلاع اب تک ہمیں نہیں پہنچی ہے کہ کوئی تصادم کی صورت حال پیدا ہوئی ہے۔'

وادی چوڑ کی زمین پر تحصیل کولائی پالس کے مکینوں اور ضلع بٹگرام کی آلائی قوم کے درمیان تنازع ہے۔ پالس کے لوگ اس زمین کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں اور یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ان کے پاس اس زمین کے سارے قانونی دستاویزات بھی موجود ہیں جبکہ آلائی قوم کا ماننا ہے کہ یہ زمین ان کی ملکیت ہے۔

وادی چوڑ کا شمار ایشیا کی بڑی چراگاہوں میں کیا جاتا ہے جو کئی کلومیٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ہے جہاں پر لوگ بھیڑ بکریاں چراتے ہیں۔

اس وادی پر پالس کے رہائشی اور پالس کی طرف سے بنائے گئے اس مسئلے کے حل کے لیے 80 رکنی جرگے کے ممبر مستان پالس کے مطابق یہ تنازع انگریز دور سے تقریباً 1895 سے چلا آرہا ہے اور بعد میں مختلف مواقع پر اس متنازع زمین پر خونریز لڑائیاں بھی ہوئیں ہیں جس میں دونوں اطراف سے لوگ ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

مستان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سب سے بڑا تصادم 1930 میں ہوا تھا جس میں کئی لوگ ہلاک ہوئے۔ حالیہ تنازع تب سامنے آیا جب پالس کے لوگوں نے اس وادی میں منظور شدہ روڈ اور اس کو سیر وسیاحت کے لیے ایک نیا سپاٹ بنانے کی منظوری کی مخالفت کی۔

مستان کے مطابق پالس کے لوگوں نے اس کی مخالفت اس لیے کی کیونکہ وادی کی طرف روڈ ضلع بٹگرام کے زیر سایہ تعمیر کی جا رہی تھی اور پالس کے لوگوں کو یہ قبول نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مستان نے بتایا: 'پالس کے لوگوں کا مطالبہ یہ ہے کہ زمین ہماری ہے تو بٹگرام کے منتخب اراکین اور ضلعی انتظامیہ اس روڈ کو تعمیر نہیں کر سکتے اور یہ کام ضلع کوہستان کی انتظامیہ کو کرنا ہوگا۔'

انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ تنازع اس لیے بھی شروع ہوا کہ وادی چوڑ کے تنازعے کو حل کرنے کے لیے ایک صوبائی حکومتی کمیشن بنایا گیا ہے جس میں بٹگرام اور کولائی پالس کے ڈپٹی کمشنرز بھی شامل ہیں۔ وہ آلائی کے راستے وادی چوڑ داخل ہو رہے تھے جو پالس کی طرف جاتے تھے لیکن یہ افواہ آگئی کے آلائی میں ان کو آگے نہیں چھوڑا جا رہا تھا اور وہاں ہوائی فائرنگ کی گئی۔

مستان نے بتایا کہ اس فائرنگ کی خبر اہل علاقہ میں پہنچ گئی تو وہ بھی وادی کی طرف بڑھنے لگے تاہم بعد میں حالات پر قابو پا لیا گیا اور کوئی تصادم نہیں ہوا۔

اس متنازع اراضی پر مسئلہ کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے اور اس کا ذکر ایک انگریر محقق آر نڈسن نے پالس پر لکھے گئے ایک تحقیقی مقالے میں بھی کیا، جس کو بعد میں کتابی شکل بھی دی گئی۔ اس کتاب کا نام 'Violence and Belonging: Land, Love and Lethal Conflict in the North-West Frontier Province of Pakistan' ہے۔

اس کتاب کے مطابق اس چراگاہ پر تنازع 19ویں صدی کے وسط میں شدت اختیار کرگیا تھا جو کوہستان پالس کے اقوام اور آلائی کے خوانین کے درمیان ہے ۔

مقالے کے مطابق اس چراگاہ کے زیادہ تر علاقے پر آلائی کے اقوام جبکہ کچھ علاقوں پر پالس کے لوگوں کا قبضہ ہے جہاں گرمیوں کے موسم میں لوگ بھیڑ بکریاں چرانے آتے ہیں۔

مستان کے مطابق گرمیوں میں پنجاب سے بھی گجر لوگ یہاں آکر بھیڑ بکریاں چراتے ہیں اور دو تین مہینے اسی وادی میں گزارتے ہیں جن سے باقاعدہ راہداری کے پیسے لیے جاتے ہیں جو آلائی کے اقوام لیتے ہیں۔

مستان کے مطابق اس چراگاہ کی ملکیت پر آلائی کی دعویداری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ ہم اس زمین کی راہداری کے پیسے لیتے ہیں تو اس لیے یہ زمین ان کی ملکیت ہے۔

سجمل یادون کوہستان کے مقامی صحافی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تنازع کئی دہائیوں سے  چلا آرہا ہے اور پہلے بھی ایک کمیشن بنایا گیا ہے تاکہ اس مسئلے کو حل کیا جا سکے اور ابھی دوبارہ کمشنر ہزارہ اور کمشنر ملاکنڈ کی ہدایت پر صوبائی کمیشن بنایا گیا ہے جو آج کل وادی چوڑ کے دورے پر ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر آلائی بٹگرام نور محمد آفریدی جو اس کمیشن کا حصہ ہیں اور وادی چوڑ میں موجود ہے، نے وہاں کے مقامی میڈیا کو بتایا کہ کمیشن کے ممبران وادی چوڑ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا دورہ کریں گے اور اس کے بعد کمشنرز کو اپنی تجاوزیر پیش کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ کمیشن ٹیم کے ساتھ رونیو ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار بھی موجود ہیں جو اس متنازع زمین کو دیکھیں گے اور اپنی رپورٹ افسران بالا کو پیش کریں گے۔

آلائی سے تعلق رکھنے والے لوگ وادی چوڑ کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں اور اس وادی کے زیادہ تر علاقے پر آلائی کے لوگ آباد ہیں۔ آلائی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وادی چوڑ میں برسوں سے آلائی قوم کے لوگ آباد ہیں اور وہاں پر ان کے لوگوں کی قبریں بھی کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات