نوکری چھوڑ کر ہچ ہائیکنگ سے شمالی علاقہ جات گھومنے والی ماریہ

کراچی کی ماریہ سومرو نے مارچ میں شمالی علاقوں کا رخ کیا تاہم ان کے سفر کا طریقہ ہچ ہائیکنگ ہے یعنی لوگوں سے لفٹ مانگ کر سفر کرنا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی ماریہ سومرو نے اپنی پانچ سال پرانی بینک کی نوکری چھوڑ کر رواں سال مارچ میں پاکستان کے شمالی علاقوں کا سفر شروع کیا جو پانچ ماہ بعد بھی جاری ہے۔

سیاحت کے موسم میں سفر تو کئی لوگ کرتے ہیں لیکن ماریہ کا سفر کرنے کا انداز نہ صرف منفرد ہے بلکہ سستہ بھی ہے۔ ماریہ خود کو ایک ٹریول کانٹینٹ کریٹر، بیک پیکر اور ہچ ہائیکر کہتی ہیں۔ وہ ہچ ہائیکنگ یعنی لوگوں سے لفٹ مانگ کر اسلام آباد سے سوات پھر چترال تک کا سفر کر چکی ہیں، جہاں انہوں نے مختلف پہاڑوں پر ٹریکنگ کی اور شندور پاس پار کیا، جہاں سے وہ غذر ویلی میں داخل ہوئیں۔ اس کے بعد انہوں نے نانگا پربت بیس کیمپ اور راکاپوشی بیس کیمپ تک کا سفر بھی کیا۔

ماریہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہچ ہائیکنگ یعنی لفٹ مانگ کر سفر کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے اور کیا کیا چیزیں ساتھ رکھنی چاہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق: 'یہ ضروری ہے کہ آپ جس سے بھی لفٹ مانگیں اسے ہچ ہائیکنگ کا مطلب سمجھا دیں کیوں کہ اکثر لوگوں کو اس بارے میں معلوم نہیں ہوتا اور کئی لوگ سفر کے اختتام پر پیسے بھی مانگ لیتے ہیں۔'

ماریہ نے مزید بتایا: 'ہچ ہائیکنگ کرنے والے افراد ایک کارڈ بورڈ پر اپنی منزل کا نام لکھ کر اپنے ساتھ ضرور رکھیں۔ اس کے علاوہ رات میں سونے کے لیے ٹینٹ، سلیپنگ بیگ اور اپنی حفاظت کے لیے چھری اور مرچوں کا سپرے بھی لازمی رکھیں۔'

پاکستان میں خواتین کے لیے لمبے سفر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ماریہ کہتی ہیں: 'پاکستان میں سفر کرنا خواتین کے لیے محفوظ ہے۔ میں نے اب تک جن علاقوں میں سفر کیا وہاں کے مقامی لوگوں نے مجھے بہت محفوظ محسوس کروایا۔ لڑکیاں اگر ہچ ہائیکنگ یا اکیلے سفر کرنا چاہتی ہیں تو وہ پہلے مختلف گروپس کے ساتھ سفر کریں تاکہ اس سے ان میں سفر کرنے کی ہمت پیدا ہو۔'

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا