ڈاکٹر سلیم باجوہ کا پراسرار قتل: معمہ آج بھی حل طلب

جنرل (ر) عاصم سلیم باوجوہ کے والد ڈاکٹر سلیم باجوہ 1976 میں قتل کیے گئے تھے، لیکن آج تک نہ تو قاتلوں کا سراغ مل سکا نہ ہی قتل کی وجہ معلوم ہو سکی۔

ڈاکٹر سلیم باجوہ کے قتل کے بارے میں اداریہ (اسلامی جمہوریہ)

جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو ہر کوئی جانتا ہے لیکن شاید بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہو گا کہ ان کے والد ڈاکٹر سلیم باجوہ کو قتل کیا گیا تھا، اور ان کے قاتلوں کا آج تک سراغ نہیں مل سکا۔  

چیئرمین سی پیک اتھارٹی، سابق کمانڈر سدرن کمانڈ، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ اور ان کے خاندان کے کاروبار سے متعلق خبریں سامنے آنے کے بعد موضوعِ بحث ہیں۔ اس حوالے سے مستند تحریری مواد کی تلاش شروع ہوئی کیونکہ سینہ گزٹ سے یہ تو سن رکھا تھا کہ جنرل عاصم باجوہ کے والد کو قتل کیا گیا تھا۔ نیز ان کا سیاسی لگاؤ جماعت اسلامی سے تھا اور شاید انہیں اسی سیاسی جھکاؤ کی وجہ سے ہی نشانہ بنایا گیا۔

اس ضمن میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت کے آخری سالوں کے اخبارات و جرائد تک رسائی کی کوشش کی۔ آخرکارمعروف صحافی اور کالم نگار مجیب الرحمٰن شامی کے ہفت روزہ ’اسلامی جمہوریہ‘ کے (یکے از مطبوعاتِ نئی زندگی پبلی کیشنز)12 تا 18 دسمبر 1976 کے شمارے میں ڈاکٹر سلیم باجوہ کے قتل پر ایک تفصیلی اداریہ مل گیا۔

چونکہ اس دور میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو، اپوزیشن اور صحافت دونوں سے سختی سے نمٹ رہے تھے۔ اس لیے مجیب الرحمٰن شامی کے رسائل کے ڈیکلریشن منسوخ کر دیے جاتے۔ وہ کچھ عرصہ بعد کسی اور نام سے ہفت روزہ شائع کرتے لیکن اس پر بھی پابندی لگ جاتی اس لیے اس دور میں مجیب الرحمن شامی کئی ناموں سے ہفت روزہ جرائد شائع کرتے رہے۔

جن دنوں ڈاکٹر سلیم باجوہ قتل ہوئے، ان دنوں مجیب الرحمن شامی ہفت روزہ ’اسلامی جمہوریہ‘ کے نام سے نیوز میگزین شائع کر رہے تھے۔ اس طرح زندگی پبلی کیشنز کا نام بھی کسی نہ کسی طرح شائع کیا جاتا تھا تاکہ عوام یہ جان سکیں کہ یہ اسی سلسلے کی نئی کڑی ہے۔ مجیب الرحمٰن شامی کے علاوہ بھی اس میگزین کی مجلس ادارت میں شامل کئی ناموں نے بعد ازاں صحافت میں خاصا نام کمایا۔ ان میں مختار حسن مرحوم، سعود ساحر، سجاد میر، امان اللہ شادیزئی شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس دور میں پیپلز پارٹی مخالف خبروں کی اشاعت اور اپوزیشن کی ترجمانی کے حوالے سے یہ ہفت روزہ خاصا مشہور تھا۔ اسی لیے اس میگزین میں ڈاکٹر سلیم باجوہ کے قتل کو خاصی اہمیت کے ساتھ نمایاں طور پر شائع کیا گیا۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ کے والد ڈاکٹر سلیم باجوہ کے سیاسی افکار پر ہفت روزہ ’اسلامی جمہوریہ‘ میں اس طرح سے تبصرہ کیا گیا:

’سلیم باجوہ کا ہاتھ معاشرے اور حالات کی نبض پر بھی تھا، وہ معاشرے کے امراض اور فساد پر بھی نظر رکھتا تھا، اور اس کے علاج کی بھی اسے فکر رہتی تھی، اسی لیے وہ جماعت اسلامی کا ہمدم تھا، کارکن تھا، اور اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں کا شیدائی و قدر دان۔ ۔ ۔ ان پر اپنا سب کچھ نچھاور کر دینے کوہر وقت تیار، اور بڑے سے بڑے جرثوموں سے بھی آمادہ پیکار۔‘

اداریے میں ڈاکٹر سلیم باجوہ کی شخصیت اور ذاتی زندگی پر کچھ اس طرح سے روشنی ڈالی گئی: ’صادق آباد کے کم ہی دل ایسے ہوں گے جہاں سلیم باجوہ کا گھر ہو، اس کی حکومت نہ ہو۔ سلیم باجوہ نے اپنے بعد کوئی بینک بیلنس، کوئی روپیہ، کوئی پیسہ نہیں چھوڑا، ہاں نیک نامی کی ایسی دولت چھوڑی ہے کہ پورے شہر میں بھی بانٹی جائے تو ہر دل غنی ہو جائے۔‘

 ہفت روزہ اسلامی جمہوریہ میں ’لہو پکار ہی اٹھے گا‘ کے نام سے اداریہ تحریر کیا گیا۔ جس میں بتایا گیا:

’ڈاکٹر محمد سلیم باجوہ۔ ۔ ۔ شہر صادق آباد کا یہ مرد صادق کئی دن پہلے خون میں نہلایا گیا، اس کا خون چلتی گاڑی میں بہایا گیا۔ وہ کراچی ایکسپریس پر لاہور آنے کے لیے سوار ہوا تھا۔ لیکن یہ سفر آخری سفر ثابت ہوا اور دنیا پور کے قریب صداقت کی یہ دنیا گولیوں نے لوٹ لی۔ حملہ آور چلتی گاڑی سے کودے تو گر پڑے، زخمی ہوئے اور پکڑے گئے۔ لیکن ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ حملہ آور کیوں ڈاکٹر کی جان کے درپے تھے۔ کیوں انہوں نے دنیا کو ایک سعادت اور صداقت سے خالی کر دیا۔‘

ڈاکٹر سلیم باجوہ کے قتل کی تفتیش کے حوالے سے اداریے میں مزید لکھا تھا:

’ایک اخبار کے مکتوب نگار نے خبر دی، پولیس نے زیر حراست ملزموں کا جسمانی ریمانڈ لینے کی بجائے انہیں بہاولپور جیل میں بھیج دینے میں عجلت دکھائی، اور آلۂ قتل کے بارے میں تفتیش کرنے کے لیے جسمانی ریمانڈ لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ یہ سب تفصیلات اس واردات کو پراسرار بنا دیتی ہیں، بنا رہی ہیں۔ اسرار کے پردے اس لیے بھی معنی خیز ہو جاتے ہیں کہ مرنے والا کو ئی معمولی آدمی نہیں تھا، وہ صادق آباد کا نامی گرامی طبیب تھا۔۔۔ اس قتل کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا اہتمام کیا جائے، اعلان کیا جائے، تاکہ زیر حراست ملزموں کے پیچھے کوئی اور ملزم ہے تو وہ بھی بے نقاب ہو، وہ بھی سزا پائے۔ ورنہ پھر آستین کا لہو پکار ہی اٹھے گا، پکار ہی رہا ہے۔‘

چونکہ ڈاکٹر سلیم باجوہ جماعت اسلامی کے سرگرم کارکن تھے اس لیے ان کی وفات کا تذکرہ جماعت اسلامی پاکستان کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کی کارروائی کی رپورٹ مختلف اضافی موضوعات کے ساتھ شائع بھی کی جاتی ہے۔

اس میں ڈاکٹر سلیم باجوہ کے قتل کا تذکرہ 22 جنوری 1978 کو کچھ اس طرح سے لکھا گیا:

’25 نومبر 1976 کو ڈاکٹر سلیم باجوہ کو ریل کے ایک سفر کے دوران گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔ آپ کا قتل پاکستان کے سیاسی قتلوں میں ایک اور کا اضافہ کر گیا۔ اس سے پہلے ایک سال کی مدت میں جماعت کو کبھی اتنے قیمتی جان نثاروں سے محروم نہیں ہونا پڑا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ان حضرات کی اور دوسرے جو رفقا ہم سے بچھڑ کراپنے رب کے پاس جا چکے ہیں ان سب کی مغفرت فرمائے۔ ان کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور انہیں اعلیٰ اعلین میں جگہ دے اور جماعت کی ایسے مزید مجاہدوں سے مدد فرمائے۔‘

جہاں تک کیس کی تحقیقات کا معاملہ ہے تو فائرنگ کرنے والے ملزم نے چلتی ٹرین سے چھلانگ لگا دی تھی، جسے پولیس نے زخمی حالت میں گرفتار کر لیا تھا لیکن اس کا جسمانی ریمانڈ لے کر تفتیش کی بجائے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ بالآخر کئی سماعتوں کے بعد شک کی بنیاد پر ملزم کو بری کر دیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ