بچوں کو جنسی تعلیم دینے کا وقت آ گیا ہے

موجودہ حالات کا تقاضا یہی ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کو برابری کی بنیاد پر ان کے جسم اور جذبات کے بارے تعلیم دی جائے۔

(پکسا بے)

مستنصر حسین تارڑ صاحب سے ایک قول منسوب ہے کہ ’ہو سکتا ہے قیامت گزر چکی ہو اور ہم دوزخ میں رہ رہے ہوں۔‘

موجودہ حالات کے تناظر میں یہ بات بالکل سچ معلوم ہوتی ہے ملک میں آج کل ریپ کیسز کی ایک لہر اٹھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے جنسی تعلیم کا موضوع بھی خبروں میں اِن ہے۔

اس دوران اس مسئلے کی بہت سی وجوہات، اور بہت سے حل پیش کیے گئے ہیں۔

وجوہات پر جو بحث ہوئی اس میں بہت سے لوگوں نے خیال آرائی کی کہ ریپ کے واقعات کے پیچھے دیر سے شادیاں ہونا بڑی وجہ ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر والدین اپنے بچوں کی شادیاں جلد کرنا شروع کر دیں تو ریپ کے واقعات میں بھی کمی آنا شروع ہو جائے گی۔

ان لوگوں کے لیے گزارش ہے کہ زیادہ تر ریپسٹ یا ایسی ذہنیت رکھنے والے لوگ آغازِ  بلوغت سے ہی اپنے اس گھناؤنے کام کو سر انجام دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اب ظاہری بات ہے کہ 13 سے 14 سال کے لڑکے کی شادی تو نہیں کی جا سکتی۔

دوسری طرف، یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ بہت سے ایسے ریپسٹ بھی ہیں جو پہلے سے شادی شدہ ہیں۔ مثال کے طور پر حالیہ موٹر وے ریپ کیس کا مرکزی ملزم، جو تا دمِ تحریر مفرور ہے، نہ صرف شادی شدہ بلکہ ایک بچے کا باپ بھی تھا۔ ان مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ شادی اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مجرموں کو سرِ عام پھانسی دینے کا مطالبہ زروں سے سامنے آیا۔ ہمارے وزیرِ اعظم صاحب نے دو قدم آگے بڑھ کر مجرموں کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی تجویز

پیش کر دی۔

ہمارا خیال ہے کہ یہ اس پیچیدہ مسئلے کا مناسب حل نہیں ہے۔ آج کے دور کا تقاضا یہ ہے کہ اب جنسی تعلیم پر کھل کر بات کی جائے۔

اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کو آغازِ  بلوغت میں ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ کریں اور انہیں جنسی تعلیم بہم پہنچایئں تا کہ وہ وقت پر جان سکیں کہ انھوں نے اپنے اندر اٹھنے والے جذبات کا اظہار مثبت طریقے سے کیسے کرنا ہے۔

ہمارے معاشرے میں اکثر لڑکے اور لڑکیوں کی الگ الگ انداز میں تربیت کی جاتی ہے ان ایک دوسرے سے دور رکھا جاتا ہے اور ایک دوسرے کو جاننے کا بھی کم موقع ملتا ہے۔ چونکہ ہمارا معاشرہ روایتی ہے، اس لیے یہاں صرف ایک لفظ ’مرد‘ گونجتا ہے اور سارا تانا بانا اسی کے گرد بنا جاتا ہے اور لڑکے کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر سلوک ہوتا ہے۔

لیکن دورِ حاضر کا تقاضا یہی ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کی تربیت یکساں بنیادوں پر ہونی چاہیے۔ دونوں کو ایک دوسرے کے قریب ہونے کا بھی موقع ملنا چاہیے تا کہ شروع سے ہی بچے کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ یہ بھی میرے ہی طرح جذبات رکھتی ہے میرے ہی طرح اسے بھی تکلیف ہوتی ہے۔

ہمیں اس معاشرتی ناہمواری سے بچنے کے لیے ٹھوس فیصلے کرنے ہوں گے اور اپنے بچوں کے قریب آنا ہو گا اور انہیں اعتماد میں لینا ہو گا۔ اگر آج ہم اپنے بچوں کے قریب نہیں آئیں گے تو یہ فریضہ باہر کے لوگ سر انجام دیں گے، اور پھر زندگی واقعی دوزخ بنتی جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ