خیبر پختونخوا کے دو ’مجرم‘ جو سو سو سال سے قید کاٹ رہے ہیں

پاکستان میں عمر قید کی سزا 14 سال ہے لیکن اسی ملک کے ایک صوبے میں دو قیدی ایسے بھی ہیں جو 19ویں صدی سے اب تک زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

شبقدر کا یہ برگد صدیوں سے رہائی کا منتظر ہے (سدھیر احمد  آفریدی)

پاکستان میں یہ شاید کوئی عجیب بات نہیں ہے کہ قیدی سزا کی مدت پوری ہونے کے باوجود جیلوں میں ہوں۔

لیکن پاکستان میں دو ایسے قیدی بھی ہیں جن کو ایک سو سال کی سزا سنائی گئی اور جو اپنی سزا پوری ہونے کے باوجود اب تک زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

یہ دونوں قیدی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں قید ہیں۔ ایک ہے برگد کا درخت اور دوسرا ہے قلعے کا دروازہ۔ برگد کا درخت گذشتہ 122 سال سے زنجیروں میں ہے جبکہ قلعے کا دروازہ 1840 سے قید کاٹ رہا ہے۔

پشاور سے طورخم بارڈر کی طرف سفر کرتے ہوئے گرینڈ ٹرنک روڈ پر نوآبادیاتی ماضی کے آثار جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ کہیں پر انگریزوں کی بچھائی ٹرین کی پٹڑی دیکھنے کو ملتی ہے تو کہیں پر انگریزوں کی رجمنٹوں کے نشان پہاڑوں پر نصب نظر آتے ہیں جو اس علاقے میں تعینات رہیں۔

جرنیلی سڑک سے تھوڑا ہٹ کر لنڈی کوتل کنٹونمنٹ ہے۔ ایک قیدی اسی کنٹونمنٹ میں قید ہے۔

کہا جاتا ہے کہ سنہ 1898 میں انگریز افسر جیمز سکوئڈ یہاں تعینات تھا۔ ایک دن وہ نشے کی حالت میں تھا اور اس نے دیکھا کہ درخت اپنی جگہ سے ہل رہا تھا۔ اس نے میس سارجنٹ کو حکم دیا کہ برگد کے اس درخت کو گرفتار کر لیا جائے۔

وہ دن اور آج کا دن یہ درخت زنجیروں میں ہے اور کسی کو اس بات کا خیال نہیں آیا کہ اس قیدی کو آزاد کر دے اور 122 سال گزرنے کے بعد بھی یہ بےزبان جابرانہ نوآبادیاتی حکمرانی کی زنجیروں کا بوجھ اٹھائے کھڑا ہے۔

اس درخت پر ایک تختی لگی ہے جو یہ قصہ درخت کی زبانی بتاتی ہے۔ ’ایک شام نشے میں دھت ایک برطانوی فوجی افسر کو ایسا محسوس ہوا کہ میں اپنی جگہ سے ہل رہا ہوں اور اس نے میس سارجنٹ کو حکم دیا کہ مجھے گرفتار کر لیا جائے اور تب سے میں زیر حراست ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس قیدی نے زنجیروں میں قید کئی سلطنتوں کو لڑتے دیکھا ہے۔

ریٹائرڈ کرنل اکرم خان کہتے ہیں کہ ان کو نہیں معلوم کہ یہ کہانی سچی ہے یا نہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ برگد کا درخت لنڈی کوتل میں خیبر رائفلز کے میس میں زنجیروں میں قید ہے۔

’میں نے یہ درخت سب سے پہلے دس سال کی عمر میں دیکھا تھا اور یہ تصویر میرے ذہن میں نقش ہو گئی۔ کئی برس بعد میں کئی بار ایک فوجی افسر کی حیثیت سے یہاں گیا۔ یہ درخت باعثِ کشش بن چکا ہے جس کو لوگ دیکھنے آتے ہیں۔‘

لیکن ضلع خیبر کے لوگوں سے بات کی جائے تو وہ اس کو برطانوی فوجی افسر کی آمرانہ سوچ کی نشانی سمجھتے ہیں جس کا قوانین، ضابطوں اور قواعد سے کوئی تعلق نہیں۔

مقامی آبادی اس کو اب بھی انگریز حکومت میں عائد کردہ ظالمانہ فرنٹیئر کرائم ریگولیشن کی نشانی کے طور پر دیکھتے ہیں، جس کے تحت ایک افسر کسی بھی فرد کو گرفتار کرنے کا حکم دے سکتا تھا اور اس حکم کے خلاف اپیل بھی نہیں کی جاسکتی تھی۔

دروازے کو سو سال قید کی سزا

یہ تو ایک قیدی ہے جو نشے کی بھینٹ چڑھ گیا اور اب بھی سزا بھگت رہا ہے۔ لیکن خیبر پختونخوا ہی میں دوسرا قیدی نشے نہیں بلکہ قربانی کا بکرا بنائے جانے کی سزا کاٹ رہا ہے۔

یہ قیدی ہے پشاور کے قریب علاقے شبقدر قلعے کا دروازہ۔ یہ دروازہ جس کو ’شبقدر کا بید‘ The Weeping Willows of Shabqadar کہا جاتا ہے۔

تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ سکھوں کی موجودہ پاکستان کے علاقوں پر حکومت میں کئی عجیب فیصلے کرنے کی تاریخ پائی جاتی ہے اور شاید اسی لیے اردو اور پنجابی میں کہا جاتا ہے ’سکھا شاہی،‘ جس کا مطلب ہے کہ افراتفری کی حکومت یا وہ حکومت جو کسی قسم، گروہ یا کلاس کی نمائندگی نہ کرتی ہو۔ اس صورت میں جب یہ جانا جائے کہ اس دور میں ایک دروازے کو مجرم ٹھہرایا گیا اور اس کو سزا دی گئی تو آپ کہتے ہیں یہ سکھا شاہی کی ایک مثال ہے۔

پشاور سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر شبقدر قلعہ واقع ہے جس کے اندر واچ ٹاور سے دروازے کے دو کواڑ زنجیروں سے بندھے کھڑے ہیں۔

اس دروازے کے اوپر ایک تختی نصب ہے جس پر تحریر ہے: ’سنہ 1840 کے موسم سرما میں مہمند لشکر یہ دروازہ توڑنے میں کامیاب ہوئے۔ اس وقت کے سکھ مہاراجہ شیر سنگھ (رنجیت سنگھ کا بیٹا) نے اس بید کی لکڑی کے درخت کا غداری کے الزام میں کورٹ مارشل کیا۔ فرانسیسی جنرل ونچورا نے کورٹ مارشل کی کارروائی کی صدارت کی جو دو دن جاری رہی جس میں اس دروازے پر الزامات درست ثابت ہوئے اور اس کو 100 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ دروازہ تب سے زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔‘

اس کورٹ مارشل سے قبل کی کہانی کچھ یوں ہے کہ 1840 میں مہمند لشکر نے شبقدر قلعے پر حملہ کیا جس کو اس وقت شنکر گڑھ قلعہ کہا جاتا تھا۔ سخت لڑائی کے بعد لشکر قلعے کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو گیا۔ لڑائی ساری رات جاری رہی لیکن شیر سنگھ کی قیادت میں سکھوں نے لشکر کو قلعے سے باہر دھکیل دیا۔

شہزادہ شیر سنگھ کو اس بات پر بہت جلال آیا اور اس نے تحقیقات کا حکم دیا کہ اس بات کا تعین کیا جائے کہ مہمند لشکر قلعے کے اندر کیسے داخل ہوا۔ جنرل ونچورا نے دو دن میں تفصیلی جانچ پڑتال کی۔

دو دن کی کارروائی کے بعد جب ونچورا نے فیصلہ سنایا تو سب لوگ ششدر رہ گئے۔ جنرل نے فیصلہ سنایا کہ بید کی لکڑی سے بنے قلعے کے دروازے کی غلطی ہے کہ مہمند لشکر قلعے کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوا اور اس دروازے کو ایک سو سال قید کی سزا سنائی گئی۔

جنرل ونچورا ان یورپی فوجی افسروں میں سے ایک تھے جن کو رنجیت سنگھ نے رکھا کہ وہ اس کو فوج کو یورپی طرز جنگ کے طریقے سکھائیں۔ ونچورا ’فوج خاص‘ کے کمانڈر ہونے کے ناطے جنرل کے رینک تک پہنچے اور بعدازاں انہیں پہلے قاضی اور پھر لاہور کا گورنر بنا دیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ