کرونا: بھارتی مزدوروں کے اوورٹائم سے نقصان پورا کرنے کی سازش

’مزدوروں کا خیال تھا کہ فیکٹری مالکان بحران کے دنوں میں انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کررہے ہیں۔ کسی کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ فیکٹریاں بند ہونے پر انہیں ہر کھانے کے پیسے دینے ہوں گے اور ان پر خرچ کی گئی ایک ایک پائی کی تلافی کرنا ہو گی۔‘

(اے ایف پی)

بغیر معاوضے کے اوورٹائم سے لے کر تنخواہوں میں کٹوتی تک، یہ سب کچھ کرونا کے دنوں میں بھی بھارتی گارمنٹس کارکنوں کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ کرونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران مالکان کی جانب سے فراہم کردہ کھانے، رہائش اور تنخواہ کی ادائیگی کے لیے اپنے مالکان کو اس طریقے سے ادائیگی کرنے پر مجبور ہیں۔

مزدوروں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے مالکان کا نقصان پورا کرنے کے لیے کم رقم کے انتخاب یا اضافی شفٹوں میں مفت کام کرنے کی پیش کش کی جارہی ہے۔ انکار کی صورت میں انہیں نوکری سے نکالا جا سکتا ہے۔

مزدور حقوق کارکن مہیش گجیرہ کا اس بارے میں کہنا تھا کہ مزدور جب کام پر واپس آئے تو وہ تنخواہوں میں اس طرح کی ’کرونا کٹوتی‘ ذہن میں رکھ کے نہیں آئے تھے۔

’مزدوروں کا خیال تھا کہ فیکٹری مالکان بحران کے دنوں میں انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کر رہے ہیں۔ کسی کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ فیکٹریاں بند ہونے پر انہیں ہر کھانے کے پیسے دینے ہوں گے اور ان پر خرچ کی گئی ایک ایک پائی کی تلافی کرنا ہو گی۔‘

بھارتی مزدور تنظیموں کے مطابق ’کوویڈ کٹوتیوں‘ نے بھارت بھر میں ہزاروں ٹیکسٹائل کارکنوں کو بھاری قرض میں مبتلا کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو سکولوں سے نکال رہے ہیں ، پیوند لگے کپڑے پہنتے ہیں اور یومیہ کھانے کی مقدار بھی انہوں نے شدید کم کر دی ہے تاکہ یہ قرض اتار سکیں۔

بار بار حکومتی اپیلوں میں فیکٹری مالکان سے لاک ڈاؤن میں پوری اجرت ادا کرنے کو کہا جاتا ہے، وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے بھی کئی مرتبہ کارکنوں کے ساتھ نرمی برتنے کی اپیل کی گئی لیکن اس سب کے باوجود مزدور یونینوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور کٹوتیوں کی بے شمار شکایات ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کرناٹک گارمنٹس ورکرز یونین کے اعزازی صدر سبیسچن دیووراج کے مطابق ’کارکن تمام نقصانات کی تلافی کریں گے اور یہ بات کمپنیوں نے مکمل طور پہ واضح کردی ہے۔‘

’کمپنیوں نے لاک ڈاون میں دی جانےوالی اجرت کی تلافی کے لیے کارکنوں سے درکار اضافی کام کا حساب لگا لیا ہے۔ ان کی مجبوری ہے، انہیں یہ کام کرنا ہی کرنا ہے۔‘

بھارتی لیبر منسٹری  نے بار بار رابطے کے با وجود اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ہندوستان کی ملٹی ملین ڈالر کی گارمنٹس انڈسٹری ، جس میں کم از کم 12 ملین افراد کو ملازمت حاصل ہے ، اس وقت متاثر ہوا جب عالمی برانڈز نے آرڈر منسوخ کردیئے یا چھلکی فروخت سے نمٹنے کے لئے کھڑی چھوٹ کا مطالبہ کیا۔

سدرن انڈیا ملز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ، کے سلوراجو نے ان الزامات کی تردید میں کہا کہ فیکٹری مالکان نے اپنے نقصانات کے باوجود مزدوروں کی دیکھ بھال کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔

’آجر بنیادی طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ڈوب رہے ہیں اور کارکنوں کو انہیں بچانا چاہئے یا پھر وہ بھی ڈوب جائیں گے۔ یہ درحقیقت کارکنوں کو ملفوف دھمکی دے کر ڈرانے والی بات ہے، وہ شکایت کرنے سے بھی خوفزدہ ہیں۔ بھارتی وکیل امریش پٹیل نے کہا کہ فیکٹریوں کی جانب سے اجرت میں کٹوتی کرنا اور لوگوں کو اوور ٹائم کرنے پر مجبور کرنا غیرقانونی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا