کیا فوج پنجاب کی ہے؟

عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ فوج پنجابی ہے۔ کیا یہ تاثر درست ہے؟ ہم اس سوال کا جواب تاریخی طور پر تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

(کری ایٹو کامنز)

پاکستان کے سماجی، سیاسی، لسانی اور معاشی مباحث میں ایک بات تواتر سے سننے کو ملتی ہے کہ وفاق پر پنجابیت اس لیے غالب ہے کہ سب سے طاقتور ادارہ فوج کا ہے اور فوج پنجابی ہے۔ یہ بات کہاں تک درست ہے؟

پی ڈی ایم کی حالیہ تحریک میں بالخصوص یہ سوال اور بھی زیادہ شدت سے اٹھایا جا رہا ہے۔

ہم اس سوال کا جواب تاریخی طور پر تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

نامور سکالر اور مصنف سٹیون فلپ کوہن نے اپنی کتاب ’دا پاکستان آرمی‘ میں لکھا ہے کہ جب پاکستان قائم ہوا تو اس کی ڈیڑھ لاکھ بری فوج کے لیے چار ہزار کے لگ بھگ افسران کی ضرورت تھی جن میں سے صرف اڑھائی ہزار دستیاب تھے بقیہ کمی عارضی کمیشنڈ اور شارٹ سروس افسران کے علاوہ تقریباً پانچ سو برطانوی افسروں سے پوری کی گئی۔ دراصل اہم عہدوں پر برطانوی افسران ہی تعینات تھے کیونکہ پاکستانی افسران میں سے صرف ایک میجر جنرل، دو بریگیڈیئر اور 53 کرنل شامل تھے۔ چنانچہ برطانوی افسروں نے اس کمی کو پورا کیا اور وہ 50 کی دہائی کے ابتدائی سالوں تک اپنی خدمات دیتے رہے۔ پاک فوج کے پہلے کمانڈرانچیف بھی برطانوی ہی تھے۔

سٹیون پی کوہن آگے چل کر لکھتے ہیں کہ آزادی کے بعد سے یہ حساب لگایا گیا کہ جو علاقے پاکستان میں شامل ہوئے ان میں جنگ کے زمانے سے 77 فیصد بھرتیاں پنجاب سے، 19.7 فیصد خیبر کختونخوا سے، 2.2 فیصد سندھ سے اور صرف 0.06 فیصد بلوچستان سے ہوئیں۔

آج بھی یہ شرح کم و بیش یہی ہے۔ تمام فوجیوں میں 75 فیصد کا تعلق پنجاب کے چار ضلعوں راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال اور خیبر پختونخوا کے دو اضلاع کوہاٹ اور مردان سے ہے۔ پاکستان میں پنجاب پر جتنا زور دیا جاتا ہے اس کا جواز عسکری حوالے سے بھی پیش کیا جاتا ہے۔ سٹاف کالج کوئٹہ میں افسران کو جغرافیائی سیاسی نصاب پڑھایا جاتا ہے کہ ہر ملک کا ایک اہم مرکزی علاقہ ہوتا ہے جس میں آبادی کے عسکری مراکز، سیاسی حاکمیت اور اقتصادی زندگی کے بنیادی دھارے ہوتے ہیں اور فوجی اعتبار سے ان سے محرومی عموماً قومی مزاحمت کے خاتمے پر منتج ہوتی ہے۔ تو اگر پنجاب کا کوئی اہم مرکزی علاقہ ہے تو بلاشبہ وہ پنجاب ہی ہے اور باقی تین صوبے ’حملے کے راستے‘ ہیں۔

پاک فوج میں شامل ہونے والے افسران کی علاقائی وابستگی کے بارے میں کوہن نے لکھا کہ ’پاکستان میں ہر سال 17 سے 22 سال کے 320 کے قریب افسران تلاش کیے جاتے ہیں جنہیں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے لیے چنا جاتا ہے۔ یہ ایک کڑا انتخابی عمل ہوتا ہے جس میں کامیاب ہونے والے اگلے 30 سالوں میں پاکستانی فوج کے اعلیٰ ترین عہدوں پر براجمان ہوتے ہیں اور سیاست پر بھی حاوی ہو سکتے ہیں۔ ان کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ 1970 کے گروپ میں تقریباً 70 فیصد پنجابی تھے، خیبر پختونخوا کے 14 فیصد، سندھ کے 9 فیصد، بلوچستان کے 3 فیصد اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے 3.1 فیصد تھے۔‘

آج پاک فوج میں تمام صوبوں کا تناسب کیا ہے، اس حوالے سے جو آخری معلومات دستیاب ہیں وہ ستمبر 2007 کو آئی ایس پی آر کی جانب سے تب فراہم کی گئیں جب عائشہ صدیقہ کی کتاب ’ملٹری اِنک‘ آئی جس میں اس بارے میں بعض سوال اٹھائے گئے تھے۔

آئی ایس پی آر نے ایک تحریری جواب میں بتایا تھا کہ2001 تک پنجابی فوج کا 71 فیصد تھے، تاہم اگلے سالوں میں اسے کم کر کے 57 فیصد تک لایا گیا ہے جبکہ 2011  تک پنجاب کا حصہ مزید تین فیصد کم کر دیا جائے گا۔ 2001 سے 2011 تک پٹھانوں کی شمولیت میں بھی ایک فیصد اضافہ کیا جائے گا جو بڑھ کر 14.5 فیصد ہو جائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سندھیوں کی تعداد میں بھی دو فیصد اضافہ کیا جائے گا جو 2011 تک 17 فیصد ہو جائے گا۔ بلوچوں کی تعداد جو کہ 2001 میں صفر تھی و ہ اب 3.2 فیصد ہے جسے 2011 تک بڑھا کر 4 فیصد کر دیا جائے گا۔ اسی طرح آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا شیئر جو 9.11 فیصد ہے اسے 2011 تک نو فیصد پر لایا جائے گا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 2017 میں خضدار میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاک فوج میں بلوچستان کے 20 ہزار سپوت خدمات سرانجام دے رہے ہیں جن میں سے 603 افسر ہیں جبکہ 232 کیڈٹ پی ایم اے میں زیر تربیت ہیں۔

کیا فوج کی اعلیٰ ترین قیادت پنجابی ہے؟ یہ کہنا اس لیے بھی درست نہیں کیونکہ آزادی سے لے کر اب تک 16 جرنیلوں نے پاکستان آرمی کی قیادت کی ہے جن میں سے جنرل فرینک میزروی اور جنرل گریسی برطانوی، جنرل گل حسن اور جنرل موسیٰ بلوچستان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ٹکا خان، جنرل آصف نواز، جنرل اشفاق پرویز کیانی، جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ پنجاب، جنرل ضیا الحق، جنرل اسلم بیگ، جنرل مشرف مہاجر، جنرل ایوب خان، جنرل جہانگیر کرامت، جنرل وحید کاکڑ پٹھان تھے۔ جبکہ جن چار فوجی جرنیلوں نے پاکستان پر طویل سال حکمرانی کی ان میں جنرل ایوب، جنرل یحییٰ خان، جنرل مشرف میں سے کوئی بھی پنجابی نہیں تھا۔ 

جنرل یحیٰی خان چکوال میں پیدا ضرور ہوئے جہاں ان کے والد اپنی سرکاری نوکری کے سلسلے میں مقیم تھے تاہم وہ نسلاً کرلانی پشتون تھے

جنرل ضیاء الحق البتہ ارائیں پنجابی تھے اور وہ جالندھر میں پیدا ہوئے تھے جو موجودہ مشرقی پنجاب میں ہے۔

پاکستان کے چھوٹے صوبوں کی قوم پرست قیادت پنجاب پر ایک الزام یہ بھی لگاتی ہے کہ پنجابی ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھی رہے اور تاریخ نے جب بھی انہیں پکارا وہ بیرونی حملہ آوروں کے آلہ کار ثابت ہوئے یا پھر وہ فوجی حکمران کے آلہ کار ثابت ہوئے۔

اس الزام کا جواب حنیف رامے نے اپنی کتاب ’پنجاب کا مقدمہ‘ میں دیا ہے۔ صفحہ 16 پر وہ لکھتے ہیں کہ ’بیشک مہا بھارت سے پانی پت کی لڑائیوں تک پنجاب مسلسل اور متواتر میدان کارزار بنا رہا ہے اور تاریخ میں صدیوں تک شمال سے جنوب کی طرف جانے اور ادھر سے واپس آنے والوں کے قدموں تلے روندا گیا ہے لیکن اس کا اصل کردار یہ نہ تھا کہ اس نے حملہ آوروں کی توپیں کھینچ کر انہیں دلی کی راہ دکھا دی ہو اور پھر انہیں واپس شمال تک پہنچنے کے لیے باربرداری مہیا کر دی ہو۔ پنجاب کو موقع پرست گرداننے والوں کو یہ حقیقت نظر انداز نہ کرنی چاہیے کہ اسی پنجاب نے فاتح اعظم سکندر اعظم کے ٹڈی دل لشکروں کے خلاف ڈٹ جانے کی جرات کی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ پنجاب کے کردار کو راجہ پورس سے پہچاننے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ پورس کے ہاتھیوں سے۔ ہاتھیوں کے پسپائی کے باوجود پورس کی نگاہ اتنی بلند اور جاں اتنی پر سوز تھی کہ جب سکندر نے پوچھا کہ بتاؤ تم سے کیا سلوک کیا جائے تو پورس نے سکندر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا تھا کہ وہی جو ایک خودمختار اور غیرت مند قوم کے حکمران کے شایان شان ہو۔

’پنجاب کی مزاحمت کا یہ سلسلہ مغلوں کے دور کے دلا بھٹی اور انگریزوں کے احمد خان کھرل تک جاری رہا۔ یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ برصغیر ہند میں انگریزوں کا تسلط سب سے آخر میں جا کر پنجاب میں ہوا۔ پنجاب نے ایک سو سال سے کم عرصہ غلامی کا طوق پہنا جب کہ بنگال سمیت برصغیر کے کئی دوسرے صوبوں نے دو دو سو سال غلامی میں کاٹے۔ چنانچہ لاہور کے شاہی قلعے پر انگریزی راج قائم ہونے کی تاریخ 1849 درج ہے جب کہ موجودہ پاکستان کے دوسرے صوبوں میں پنجاب سے پہلے قبضہ ہو گیا تھا۔ سندھ 1843، بلوچستان 1840 اور جہاں تک صوبہ خیبر پختونخوا کا تعلق ہے یاد رہے کہ وہ 1849 تک پنجاب ہی کا حصہ تھا جس کی سرحدیں کابل تک پھیلی ہوئی تھیں۔‘

 اس وقت پاک فوج میں کم و بیش صوبوں کا تناسب ان کی آبادی سے مطابقت رکھتا ہے۔ 2017 کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کل آبادی کا 52.95 فیصد ہے اور فوج میں بھی اب اس کا اتنا ہی حصہ ہے۔ خیبر پختونخوا کل آبادی کا 14.59 فیصد ہے اور اس کا فوج میں تناسب بھی اتنا ہی ہے۔ سندھ کا فوج میں تناسب 2011 تک 17 فیصد کرنے کا ہدف تھا جبکہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق اس کا آبادی میں تناسب 23.04 فیصد ہے۔ اسی طرح بلوچستان جو کل آبادی کا 5.94 فیصد ہے اس کا فوج میں تناسب بھی مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ فوج پنجابی ہے درست نہیں بلکہ فوج پاکستانی ہے اور اس میں پاکستان کے تمام یونٹوں کا تناسب آبادی سے یا تو مطابقت رکھتا ہے یا ایسا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لہٰذا فوج نہ پنجابی ہے نہ اسے اس تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

پاور پالیٹکس کی اپنی الگ حرکیات ہوتی ہیں جس میں کئی عناصر کا عمل دخل ہوتا ہے۔ پاک فوج کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اس میں لسانیت کا عنصر اتنا نہیں جتنا بڑھا چڑھاکر پیش کیا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ