ایک دن میں 30 ہلاکتیں: پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر خطرناک؟

پاکستان میں کرونا وائرس کے اعداد و شمار فراہم کرنے والی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 1376 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد کیسز کی کل تعداد تین لاکھ 40 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

حکام کی جانب سے مسلسل عوام سے احتیاط کی اپیل کی اور ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی درخواست کی جا رہی ہے(اے ایف پی)

پاکستان میں کرونا وائرس کی دوسری لہر میں کیسز کی تعداد خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 30 افراد اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام کی جانب سے مسلسل عوام سے احتیاط کی اپیل کی اور ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی درخواست کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس کے تازہ کیسز فراہم کرنے والی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 1376 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد کیسز کی کل تعداد تین لاکھ 40 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

اس کے علاوہ اب تک اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد چھ ہزار نو سو 23 ہو  گئی ہے۔

صوبائی اور وفاقی دونوں حکومتوں نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کی دوسری لہر کی وجہ سے کیسز میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے تاہم حکام کی کوشش ہے کہ ملک میں لاک ڈاؤن نہ لگایا جائے، بازار، تعلیمی ادارے اور دفاتر کو بند کرنا نہ پڑے جس کے لیے ایس او پیز پر عمل کرنا لازمی ہے۔

اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ملک میں کرونا کی دوسری لہر میں کیسز کس حساب سے بڑھ رہے ہیں اور کیا دوسری لہر پہلی کی طرح خطرناک ثابت ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے حکومت کو دوبارہ لاک ڈاؤں کی جانب جانا پڑ سکے۔

ملک میں مجموعی صورتحال کیا ہے؟

ملک کی مجموعی صورتحال پر اگر نظر ڈالی جائے تو مارچ سے جولائی تک کیسز میں بہت اضافہ ہوا تھا اور اس کے بعد اموات کا گراف نیچے آنا شروع ہو گیا تھا۔

جولائی کی 11 تاریخ کو ملک بھر میں 65 اموات سامنے آئیں جبکہ جولائی کی 30 تاریخ کو گراف مزید نیچے آکر اموات کی تعداد 32 ہوگئی تھی۔ اسی طرح  اگست میں گراف مزید نیچے آیا۔

تاہم آکتوبر میں اموات کی تعداد ایک بار پھر سے بڑھنا شروع ہوگئی۔ اکتوبر کی 31 تاریخ کو ملک بھر میں کرونا سے 17 افراد ہلاک  ہوئے جبکہ پچھلے دو مہینوں کے مقابلے میں نومبر کی چار تاریخ کو ملک میں کرونا سے 26 ہلاکتیں ہوئیں جو گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں اموات میں تقریباً دو گنا اضافہ ہے۔

اگر ملک میں کیسز کا گراف دیکھا جائے تو اس میں بھی پچھلے ہفتے سے مسلسل اضافہ دیکھنے کو آ رہا ہے۔ اکتوبر کی 31 تاریخ کو ملک بھر میں 24 گھنٹوں میں 977 کیسز سامنے آئے جبکہ نومبر کی یکم کو 1123، دو تاریخ کو 1167، تین تاریخ کو 1313 جبکہ نومبر کی چار تاریخ کو  1302 کیسز سامنے آئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح سے یہ بات مزید واضح ہو جائے گی کہ کیسز کس حساب سے بڑھ رہے ہیں۔ 

ملک میں سرکاری اعدادو شمار کے مطابق اکتوبر کے 19 تاریخ کو ہر کرونا کے نمونوں میں دو افراد میں کرونا پایا جاتا تھا لیکن یہ اب زیادہ ہو گیا ہے اور نومبر کی چار تاریخ کو ہر سو افراد کے نمونوں میں سے چار افراد  کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیسز کی تعداد پچھلے ہفتے کے مقابلے میں اب دوگنی ہوگئی ہے۔

خیبرپختونخوا کی تازہ صورتحال

خیبر پختونخوا کی اگر بات کی جائے تو جب سے کرونا کی وبا پھیلنا شروع ہوئی ہے  اس وقت سے  بدھ یعنی پانچ نومبر تک صوبے  بھر میں 40 ہزار کرونا کے مثبت کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد اب تک 1284 ہیں۔ ان مثبت کیسز میں 37 ہزار سے زائد صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ 909 کرونا کے شکار افراد زیر علاج ہیں۔

تاہم محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں کرونا کی دوسری لہر اکتوبر کے پہلے ہفتے سے شروع ہوئی  کیونکہ اس وقت سے کیسز کی تعداد میں پچھلے مہینوں کے مقابلے میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے ہسپتالوں کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں مثبت کیسز کی شرح پچھلے مہینے کے مقابلے میں زیادہ ہو رہی ہے۔

خط کے مطابق  گذشتہ ماہ صوبے میں سو میں سے ایک یا دو افراد کا کرونا ٹیسٹ مثبت آتا تھا لیکن اب ایسے افراد کی تعداد دو سے تین ہو گئی ہے۔ صوبے میں شرح اموات تین فیصد ہے جبکہ پورے ملک میں شرح اموات دو فیصد ہے۔

مثبت  کیسز کی شرح کے بارے میں  صوبے میں کرونا ٹیسٹ کرنے والی سرکاری لیب جو خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے تحت کام کرتی ہے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر یاسر یوسفزئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سرکاری لیب میں مثبت کیسز کی شرح پانچ فیصد تک پہنچ گئی ہے یعنی اب ہر 100 ٹیسٹ کے نمونوں میں سے پانچ افراد میں کرونا پایا جاتا ہے جبکہ یہ شرح پچھلے مہینے دو سے تین فیصد تھی۔

 

ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ ’ہم نے دوسری لہر میں ایک نیا ٹرینڈ جودیکھا ہے وہ یہ ہے کہ اب رینڈم نمونے مختلف اداروں جیسے کے سکولز اور کالجز سے لے کر حکومت بھیجواتی ہے اور ان نمونوں میں مثبت کیسز کی شرح بہت زیادہ ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کمیونٹی میں یہ وائرس اب بھی موجود ہے اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن مین مرض کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

’پہلی لہر میں ہم نے یہ دیکھا تھا کہ رینڈم نمونوں میں مثبت کیسز کی شرح بہت کم تھی جبکہ ٹارگٹ نمونوں یعنی جب کسی شخص کو کرونا ہو جاتا تھا تو ان کے قریب لوگوں کے ٹیسٹ کرائے جاتے تھے تو ان میں مثبت کیسز کی شرح زیادہ ہوتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے بلکہ رینڈم میں بھی یہ شرح زیادہ ہو گیا ہے۔‘

تاہم ڈاکٹر یاسر کے مطابق مشاہدے میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ دوسری لہر میں پہلے کے مقابلے میں کیسز ڈبل ہونے کے دن یعنی اگر آج دو کیسز ہیں تو کل یا دو دن بعد چار کیسز ہو جاتے تھے، کا دورانیہ زیادہ ہے اور کیسز میں اضافے کی رفتار کم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’پہلی لہر جب مارچ میں شروع ہوئی تو جون تک کیسز کی تعداد بہت جلدی سے ڈبل اور ٹرپل ہوتی گئی لیکن اس مرتبہ پچھلے ایک مہینے کے کیسز کو اگر دیکھا جائے تو یہ رفتار اتنی تیز نظر نہیں آ رہی جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ دوسری لہر میں کیسز زیادہ ہونے میں بہت وقت لگے گا۔‘

احتیاطی تدابیر نہ اپنانے سے کیا نقصان ہو سکتا ہے؟

خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیا الحق کرونا کی وبا آنے سے لے کر اب تک وائرس پر مختلف تحقیق کا حصہ بھی رہے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ موسم سرما میں چونکہ سینے کے انفیکشن سمیت نزلہ اور زکام زیادہ ہوتا ہے اس لیے یہ خطرہ ضرور موجود ہے کہ اس موسم میں کرونا زیادہ لوگوں تک پھیلے۔

’موسم سرما میں لوگ زیادہ تر گھروں تک محدود ہوتے ہیں اور اگر گھر میں نزلہ اور زکام کی علامات کسی میں ہوں اور اس میں کرونا بعد میں پایا جائے تو وہ وائرس کے قطرے زیادہ لوگوں تک منتقل کر سکتا ہے۔‘

ان کے مطابق اگر عوام آسان سی احتیاطی تدابیر جس میں ماسک پہننا، ہاتھوں کو دھونا اور سماجی فاصلہ رکھنا شامل ہیں، اپنائیں تو اس وائرس سے بچ سکتے ہیں۔

ری انفیکشن کے بارے ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو کرونا سے صحت یاب ہو چکے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ یہ وائرس دوبارہ کسی کو متاثر نہیں کر سکتا۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت