کرونا ویکسین کی تیاری میں پیش رفت لیکن غریب ملک مایوس

ویکسین کو محفوظ رکھنے کے لیے منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ کی ضرورت ہوگی جبکہ انتہائی سرد ڈیپ فریزروں کی عدم دستیابی کے سبب خدشہ ہے کہ بہت سے ایشیائی ممالک کرونا ویکسین مارکیٹ میں آنے کے باوجود بھی بحران سے نہیں نکل سکیں گے۔

دوا ساز کمپنی فائزر نے کرونا کی ایسی ویکسین بنانے کا اعلان کیا  ہے جو ابتدائی آزمائشی نتائج کی بنیاد پر 90 فیصد سے زیادہ موثر ہے (تصویر: روئٹرز)

دور دراز غیر ترقی یافتہ علاقوں اور انتہائی سرد ڈیپ فریزروں کی عدم دستیابی کے سبب خدشہ ہے کہ بہت سے ایشیائی ممالک کرونا (کورونا) ویکسین مارکیٹ میں آ جانے کے باوجود بھی اس بحران سے نہیں نکل سکیں گے۔

پیر کو دنیا بھر میں اس وقت بے تحاشا خوشی کا اظہار کیا گیا جب دوا ساز کمپنی فائزر نے کرونا کی ایسی ویکسین بنانے کا اعلان کیا جو ابتدائی آزمائشی نتائج کی بنیاد پر 90 فیصد سے زیادہ موثر تھی، تاہم پھر بھی ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ ویکسین اگر منظور ہو بھی گئی تو کوئی ایسا جادو نہیں کر سکے گی کہ کرونا کو صفحہ ہستی سے مٹا دے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ویکسین جس جینیاتی مواد سے تیار کی گئی ہے، اسے منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے بھی کم درجہ حرارت پر محفوظ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ (یاد رہے کہ پاکستان میں پولیو ویکسین کو سب سے ٹھنڈے درجہ حرارت میں رکھا جاتا ہے جو منفی دو سے منفی آٹھ ڈگری ہوتا ہے۔)

ویکسین کے ساتھ جڑی یہ شرط ایشیائی ممالک کے ساتھ ساتھ افریقہ اور لاطینی امریکہ جیسی جگہوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے جہاں شدید گرمی کے دوران ’کولڈ چین‘ کو برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اندازے کے مطابق اس وبائی بیماری کے خاتمے کے لیے دنیا کے تقریباً 70 فیصد افراد کو یہ ٹیکہ لگایا جانا چاہیے اور ایشیا میں دنیا کی ایک تہائی آبادی پہلے ہی موجود ہے۔

فلپائن کے محکمہ صحت کے سیکرٹری فرانسسکو ڈوکی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’منفی 70 درجے والی کولڈ چین کی ضرورت ناممکن حد تک مشکل امر ہے۔ ہمارے پاس ایسی سہولت نہیں ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہمیں ابھی انتظار کرنا ہوگا اور آگے دیکھنا ہوگا۔ فائزر جس ٹیکنالوجی کو استعمال کررہی ہے وہ نئی ہے۔ ہمارے پاس اس کا تجربہ نہیں ہے ، لہذا خطرات زیادہ ہوسکتے ہیں۔‘

دوا ساز ادارے فائزر نے روئٹرز کو بتایا کہ اس نے ویکسین کی آمدورفت، سٹوریج اور درجہ حرارت کی مستقل نگرانی میں مدد کے لیے تفصیلی لاجسٹک پلان تیار کیے ہیں۔

فائزر کے مطابق انہوں نے ان مقامات تک رسائی کے لیے موزوں پیکجنگ اور سٹوریج میں نئی جدت کا بھی سوچا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب جنوبی کوریا اور جاپان جیسی ترقی یافتہ اقوام بہرحال اس ویکسین سے توقعات وابستہ کر رہی ہیں۔

ٹوکیو کے سینٹ لیوک انٹرنیشنل ہسپتال میں انفیکشن کنٹرول مینیجر فومی ساکاموٹو نے کہا: ’ہمارے لیے اسے محفوظ سٹوریج میں رکھنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔‘

’مجھے اندازہ نہیں ہے کہ ہماری حکومت کولڈ چین کو برقرار رکھنے کے سلسلے میں کتنی اچھی طرح سے تیاری کرتی ہے۔ جاپان میں عام طور پر ہسپتالوں میں انتہائی سرد فریزر نہیں ہوتے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ ہم اس پہلو پر سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیں۔‘

جاپان، ایشیا پیسیفک کے ان تین ممالک میں شامل ہے جنہوں نے فائزر / بائیو ویکسین کی فراہمی کے لیے 120 ملین خوراکوں کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ آسٹریلیا نے 10 ملین خوراکیں حاصل کی ہیں اور چین نے بھی 10 ملین خوراکیں حاصل کرنی ہیں۔

جاپان کی پی ایچ سی کارپوریشن، جو میڈیکل فریزر کی فراہمی کرتی ہے، نے روئٹرز کو بتایا کہ اس سال ان کے بنائے گئے سامان کی طلب میں 150 فیصد اضافہ ہوا ہے اور وہ اس طلب کو پورا کرنے کے لیے پیداوار میں اضافہ کر رہے ہیں۔

جنوبی کوریا کی بیماریوں پر قابو پانے کی ایجنسی (کے ڈی سی اے) کے ایک عہدیدار، جون جون نے کہا کہ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں ویکسینیشن کیسے کام کرتی ہے اور چین تک اس کی سپلائی کیسے ہوتی ہے۔

جنوبی کوریا کو حال ہی میں کولڈ سٹوریج کی بڑی خرابی کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب اسے فلو ویکسینوں کی تقریباً 50 لاکھ  خوراکیں ضائع کرنا پڑی تھیں کیونکہ وہ تجویز کردہ درجہ حرارت پر نہیں رکھی گئی تھیں۔

انڈونیشیا میں کرونا رسپانس ٹیم کے سربراہ ایلنگگا ہارارتو کے مطابق ابھی یہ ویکسین ان کے زیر غور نہیں ہے۔

دوسری جانب ویتنام کے نائب وزیر اعظم وو ڈک ڈیم نے ایک سرکاری اجلاس میں بیان دیا کہ ’یہ ویکسین ابھی دور کی کہانی ہے۔ اس کی طلب سپلائی سے کہیں زیادہ ہے اور ہمیں اتنی زیادہ رقم کی ادائیگی کرنا پڑے گی جو میری نظر میں بہت زیادہ رسک سمیت وقت اور قومی سرمائے کا ضیاع ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت