ایپل کی 'ایم ون چپ' میک بک کا مستقبل تبدیل کردے گی؟

ایپل اپنے میک میں استعمال ہونے والی چپ کی تیاری کے لیے اب تک دیگر کمپنیوں پر انحصار کرتی رہی ہے لیکن اس نئے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ اب کمپنی ہر وہ چیز کنٹرول کر سکتی ہے جو کمپیوٹر میں استعمال ہوتی ہے۔

ایپل نے اپنی ڈیزائن کردہ پہلی کمپیوٹر چپ ایم ون کی رونمائی کردی ہے۔

یہ پروسیسر تین نئے میک میں متعارف کرایا جائے گا، جن میں میک بُک ایئر، میک منی اور 13 انچ کے میک بُک پرو شامل ہیں۔

کمپنی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لائی ہے جس کے تحت پروسیسر اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ خود ایک کمپیوٹر۔ ایپل اپنے میک میں استعمال ہونے والی چپ کی تیاری کے لیے اب تک دیگر کمپنیوں پر انحصار کرتی رہی ہے لیکن اس نئے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ اب کمپنی ہر وہ چیز کنٹرول کر سکتی ہے جو کمپیوٹر میں استعمال ہوتی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف کمپوٹر کی رفتار اور بیٹری لائف کو بہتر بنایا جاسکتا ہے بلکہ کمپنی کو اپنے ہارڈ ویئر کی مناسبت سے سافٹ ویئر کی تیاری کی بھی آزادی ہوگی۔

اس طرح ایپل کو امید ہے کہ ایم ون، میک کے مستقبل اور کمپیوٹنگ کی دنیا میں اس کے مقام کو تبدیل کردے گا۔

ایم ون کیا ہے؟

مختصر طور پر یہ ایک پروسیسر ہے جو ایپل نے اپنے کمپیوٹرز کی طاقت بڑھانے کے لیے تیار کیا ہے۔

اس سے قبل یہ پروسیسر انٹیل کمپنی ڈیزائن کرتی تھی۔ ایپل کو انٹیل سے ان پروسیسرز کی خریداری کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انٹیل کی چپ میں بہتری نہ ہونے سے ایپل اپنے کمپیوٹر کو اپ ڈیٹ کرنے سے قاصر تھی۔


اب ایپل خود اپنے پروسیسرز ڈیزائن کر رہی ہے بالکل اسی طرح جیسے یہ آئی فون اور آئی پیڈ کے لیے چپ تیار کرتی ہے۔ اگرچہ اصل مینوفیکچرنگ دوسری کمپنی کرتی ہے لیکن ایپل ان سلیکون چپس کی تیاری کے اس سارے عمل کو کنٹرول کرتی ہے۔

ایم ون میں کیا اچھا ہے؟

آپ جتنی حد تک سوچ سکتے ہیں اس میں تقریباً ہر طرح سے کارکردگی کو بڑی حد تک اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ یہ تیز ہے، اس میں کم بیٹری استعمال ہوتی ہے، یہ زیادہ گرم نہیں ہوتا اور یہ زیادہ شور بھی نہیں کرتا (حقیقت میں یہ خاموش پروسیسر ہے)۔

اعداد و شمار دیکھے جائیں تو یہ سی پی یو کی کارکردگی سے 3.5 گنا تیز ہے، جی پی یو کی کارکردگی چھ گنا تیز اور اس سے مشین کی سیکھنے کی کارکردگی کئی گنا زیادہ ہے۔ ایپل نے کہا کہ اس سب کے باوجود اس کی بیٹری دوگنا زیادہ عرصے تک چلے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان تمام وجوہات کی بنا پر یہ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے قابل ہے۔ ایپل نے حال ہی میں اپنی چپس کے ساتھ متعدد تکنیکی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس میں پہلی بار 5 نینومیٹر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے جو تمام کمپونینٹس کو مضبوطی سے پیک کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن اس سے یہ فائدہ بھی ہوا ہے کہ ایپل اب اس سارے عمل کو ڈیزائن کر سکتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں عوامل کو زیادہ مضبوطی سے ایک ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔

اس کا نام ایم ون ہی کیوں رکھا گیا؟

ایپل اپنی تمام چپس کا نام اسی طرح رکھتا ہے۔ اس کا مقصد اپنی چپ جنریشنز کو برانڈ بنانا ہرگز نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اس کے تازہ ترین آئی فون میں سے ایک کا نام A14 رکھا گیا ہے اور اس کے ایئرپوڈز کے نام H1 اور H2 ہیں۔

اس بنیاد پر یہ ممکن ہے کہ ایپل اگلی چپ کو M2 کا نام دے یا شاید درمیان میں اور بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ ماضی میں ایپل نے چپ کو  A10X اور A12Z جیسے نام دیے۔

کیا ایپل مزید سلیکون چپس لا رہا ہے؟

یقینی طور پر۔ بہتر کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان وجوہات کی بنا پر جو پہلے بیان کی گئی ہیں، ایپل جب چاہے یا جب اس کو بنانے کے قابل ہوجائے وہ نئی چپس متعارف کرائے گی، بجائے اس کے کہ وہ انٹیل کی جانب سے ان کی فروخت کا انتظار کرے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ اس حوالے سے باقاعدگی سے کیا ہوگا لیکن آئی فون کی چپس سالانہ بنیادوں پر باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کی جاتی ہیں اور ایم ون میں ایسی ہی بنیادی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے لہذا یہ اچھی بات ہوسکتی ہے کہ کمپنی اسی طرح کے شیڈول پر اپنے میکس کو اپ ڈیٹ کرنے میں کامیاب ہوجائے۔

 

کیا یہ ایپل کے میکس میں استعمال ہو گی؟

شاید نہیں۔ ایپل نے خاص طور پر کہا کہ ایم ون کمپیوٹرز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جیسا کہ ’چھوٹا سائز اور توانائی کی استعداد اہمیت کی حامل ہے۔‘ اس کے ساتھ جن کمپیوٹرز کو متعارف کرایا گیا ہے وہ اس کے لیے بالکل فٹ ہیں۔

ان تمام باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایپل اپنے زیادہ طاقتور کمپیوٹرز جیسے میک پرو کے لیے زیادہ طاقتور چپ پر کام کر رہی ہے جس سے شاید سی پی یو جیسی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا جو پہلے ہی بہت طاقتور ہے۔

تو کوئی انٹیل میکس کیوں خریدے گا؟

ایپل نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مستقبل میں سافٹ ویئر اپ ڈیٹس اور نئی خصوصیات کے ساتھ اپنے پرانے انٹیل کمپیوٹرز کو سپورٹ کرتا رہے گا۔ ہائی اینڈ انٹیل میک اب بھی کئی کمپوٹرز سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں اور اس طرح یہ بہت سارے بھاری کمپیوٹیشنل کام کرنے والے افراد کا انتخاب ہوسکتے ہیں۔

لیکن یہ واضح طور پر ایک ٹیکنالوجی ہے جو ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اس طرح اگر آپ کسی طاقت ور کمپیوٹر میں سے کسی کی تلاش میں ہیں اور اس کے لیے انتظار کر سکتے ہیں تو ایسا کرنے کے لیے یہ ایک اچھی دلیل ہے۔ ایپل نے اپنے نقاب کشائی کے ایونٹ کے دوران کہا تھا کہ اس منتقلی میں دو سال لگیں گے اور تازہ ترین اعلان میں کہا گیا ہے کہ اگلے سال ان کے پاس پیش کرنے کے لیے بہت کچھ ہے لہذا نئے میک پرو نسبتاً جلد مارکیٹ میں آ سکتے ہیں۔

ایم ون کا آئی فون اور ایپل کی دیگر مصنوعات سے کیا تعلق ہے؟

اگر صحیح معنی میں پوچھا جائے تو اس کا دیگر مصنوعات سے زیادہ تعلق نہیں۔ وہ اب بھی الگ الگ مصنوعات ہیں اور ایپل نے زور دیا ہے کہ وہ دونوں کی مختلف خصوصیات کو اہم سمجھتے ہیں۔

لیکن بہرحال یہ دونوں (مصنوعات) کو ساتھ لاتا ہے اور ممکن ہے کہ وقت کے ساتھ یہ اور بھی قریب ہوجائیں۔

چونکہ اب وہ ایک طرح کی بنیادی ٹیکنالوجیز کا اشتراک کرتے ہیں لہذا میک اب آئی فون سافٹ ویئر چلا سکتے ہیں۔

اور آئی فون سے ٹیکنالوجیز متعارف کروانے کا مطلب یہ ہے کہ کمپیوٹرز اب ان آئی او ایس ڈیوائسز کی طرح چل سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ فوری طور پر ویک اپ ہوجائیں گے اور وہ آئی فون کی طرح گرم اور شور پیدا نہیں کریں گے۔

اس (اشتراک) کے جاری رہنے کا امکان ہے کیونکہ اب دونوں مصنوعات متوازی طور پر تیار کی جاسکتی ہیں۔ ہارڈ ویئر کی کسی بڑی پیشرفت کی توقع کی جا سکتی ہے جو آئی فون کے بعد میک میں بھی متعارف کرائی جا سکتی ہے بشرطیہ کہ وہ قابل اطلاق ہوں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی