’کرونا ہو جائے تو چھپیں نہیں بلکہ سامنے آئیں‘

کووڈ 19 کا شکار ہونے کے بعد انعم شیخ نے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں میں اس بیماری سے متعلق خوب آگاہی پھیلائی۔

پاکستان میں کرونا (کورونا) وبا کی دوسری لہر شروع ہو چکی ہے اور روزانہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

پچھلی لہر کے دوران کرونا مریض بہت بہادری سے لڑے مگر بہت کم ایسے لوگ تھے جنھوں نے بیماری سے لڑنے کے دوران لوگوں کو رہنمائی اور آگاہی فراہم  کی۔ کرونا وبا کے دوران عوام  اور حکومت کو متعدد مسائل درپیش تھے، جن میں سے ایک بڑا مسئلہ صحیح معلومات کی فراہمی تھی۔

انعم شیخ ایک بیوٹی پارلر چلاتی ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں سے رابطے میں رہتی ہیں۔ ان جیسے لوگوں کی وجہ سے عوام کو اس بیماری کی حقیقت جاننے اور سمجھنے میں بہت مدد ملی۔

انعم نے بتایا ’میرے کام کا تعلق خوشیوں سے جڑا ہے، جب بھی کوئی اچھا موقع ہوتا ہے تو ہمارا کام چلتا ہے مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے میرا کام بھی بہت متاثر ہوا۔ عید پر حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا گیا تو میں نے بھی ایس او پیز کا خیال رکھتے ہوئے اپنا سلون کھولا۔‘

وہ مزید بتاتی ہیں: ’میں نے ہر قسم کی احتیاطی تدابیر اپنائیں، مگر پھر بھی مئی کے آخری ہفتے میں مجھے اور میرے بیٹے میں جب کرونا وائرس کی علامات ظاہرہوئیں تو میں بہت ڈر گئی کیونکہ ایک بالغ شخص کو یہ مرض ہو جائے تو وہ اپنا خیال رکھ سکتا ہے لیکن ایک 11 ماہ کے بچے کو 20 دن کے لیے کمرے میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘

’جب مجھے کرونا ہوا تو میرے پاس دو راستے تھے یا تو میں پریشان ہوکر چھپ کر بیٹھ جاؤں یا پھر سامنے آ کر لوگوں کو آگاہی اور رہنمائی فراہم کروں۔‘

انعم نے بتایا کہ انہوں نے سامنے آنے کا فیصلہ کیا۔ ’میرا تقریباً 13 ہزار خواتین پر مشتمل  ایک فیس بک گروپ ہے، جس کے ذریعے میں نے لوگوں کو بتانا شروع کیا کہ وہ کس طرح احتیاطی تدابیر اپنا کر اس وائرس سے بچ سکتے ہیں اور جو اس میں مبتلا ہیں وہ کیسے اس مرض سے لڑیں اور اپنا خیال رکھیں۔ مجھے انتہائی تنقید کا نشانہ بنایا گیا مگر میں نے پھر بھی ہار نہیں مانی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’کچھ عرصے بعد لوگوں کے رویوں میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی اور پھر میری محنت رنگ لائی، لوگوں نے مجھے سننا اور عمل کرنا شروع کیا اور میری کہانی سے حوصلہ پا کر اپنے تجربات اور مسئلے بانٹنا شروع کیے۔‘

’کیا آپ نے کسی کرونا کے مریض کو دیکھا ہے، نہیں نا! تو کرونا ہے ہی نہیں‘۔ یہ غلط فہمی کئی لوگوں میں انعم کی کاوش سے دور ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے لوگوں کو یہ بھی رہنمائی فراہم کی کہ وہ کسی بھی گھریلو ٹوٹکے کے استعمال سے گریز کرتے ہوئے مستند ڈاکٹر سے علاج کرائیں۔

انعم کہتی ہیں کہ سکول اور کالجز کھلیں گے تو ہم ماؤں کی ذمہ داری بڑھ جائے گی، ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارے بچے سکول آتے جاتے ایس او پیز پر عمل کریں۔ ’ساتھ ہی دفاتر جانے والے حضرات بھی اس بات کا خاص خیال رکھیں تاکہ یہ بیماری ان کے ساتھ گھر تک نہ آ جائے۔‘


نوٹ: سندس قریشی جامعہ سندھ جامشورو سے گریجویٹ ہیں اور انہوں نے انعم شیخ کی کہانی رپورٹ کی ہے۔

کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کرنے والے کرداروں پر مبنی یہ کہانی ’پرعزم پاکستان‘ مہم کا حصہ ہے۔ اس کی اشاعت اور پروڈکشن انڈپینڈنٹ اردو اور پاکستان پیس کولیکٹو کی مشترکہ کاوش ہے۔ ایسے باہمت اور پرعزم کرداروں اور ان کی محنت کو سامنے لانے میں ان طلبا و طالبات نے کلیدی کردار ادا کیا جو پاکستان پیس کولیکٹو کے ڈاکومینٹری فلم کے تربیتی پروگرام کا حصہ تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت