بیلجیم: سفارتکار سمیت تین ایرانی شہریوں کے خلاف قانونی کارروائی

یہ پہلا موقع ہے کہ یورپی یونین کے رکن ملک نے کسی ایرانی اہلکار پر دہشت گردی کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔

 (اے ایف پی)

یورپی ملک بیلجیم میں جمعے کو ایک ایرانی سفارت کار اور تین ایرانی شہریوں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ان افراد پر 2018 میں ایک جلا وطن حزب اختلاف گروپ کے فرانس میں ہونے والے اجلاس پر بم حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ یورپی یونین کے کسی ملک نے کسی ایرانی اہلکار پر دہشت گردی کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بیلجیم کے سرکاری وکلا نے ویانا میں مقیم ایرانی سفارت کار اسداللہ اسدی اور تین دیگر ایرانی شہریوں پر پیرس میں واقع نیشنل کونسل آف ریزسٹنس آف ایران (این سی آر آئی) کی ایک ریلی پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی ہے۔

اس ریلی میں مرکزی خطاب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل روڈی جولیانی نے کیا تھا۔

اسداللہ اسدی جنہیں جرمنی سے گرفتار کیا گیا اور بیلجیم کے حوالے کیا گیا، نے عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیا ہے اور اینٹورپ میں چلنے والے مقدمے کے پہلے روز بھی عدالت میں موجود نہیں تھے۔ انہوں نے خود پر فرد جرم عائد کیے جانے کے حوالے سے بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

ان کے وکیل ڈمیٹری ڈی بیکو نے روئٹرز سے بات چیت میں کہاکہ: میرے موکل نے  مجھ سے کہا کہ میں آج ان کی نمائندگی کروں۔ انہوں نے مجھے یہ بھی کہا کہ وہ ججوں کی بہت عزت کرتے ہیں مگر کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں استثنیٰ حاصل ہے اس لیے ججوں کو ان کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے۔

اسداللہ اسدی ویانا میں ایران کے سفارت خانے میں کونسلر تھے۔ فرانس کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ وہ جنوبی فرانس میں انٹیلیجنس کے سربراہ تھے اور تہران کے احکامات پر عمل کر رہے تھے۔

تاہم ایران نے ان الزامات کی ترید کی ہے  اور انہیں این سی آر آئی کی جانب سے ’فالز فلیگ‘ یعنی جعلی کارروائی قرار دیا ہے۔ ایران این سی آر آئی کو ایک دہشت گرد گروہ قرار دیتا ہے۔

روئٹزز نے ایک پولیس دستاویز حاصل کی ہے جس کے مطابق اسدی نے مارچ میں حکام کو ان کو مجرم قرار دیے جانے کی صورت میں نامعلوم گروہوں کی جانب سے جوابی کارروائی کی تنبیہ کی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ فرانسیسی، جرمن اور بیلجیم سکیورٹی سروسز نے ایک مربوط آپریشن کے ذریعے این سی آر آئی پر حملے کو ناکام بنایا۔

اسدی کے دو مشتبہ ساتھیوں کو بیلجیم میں دھماکہ خیز مواد اور ڈیٹونیٹرز کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ جمعے کو ان کے وکیل کا عدالت میں کہنا تھا ان کا مقصد جانی نقصان پہنچانا نہیں تھا۔

سال 2018 کی ریلی کے شرکا جو بیلجیم کی سرکاری وکلا ٹیم کے ساتھ شریک سول درخواست گزار ہیں، کے وکلا نے کہا کہ سفارتی استثنیٰ کو ڈھال بنا کر  دہشت گرد حملے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے جس کی زیادہ سے زیادہ سزا 20 سال جیل ہے۔

ریلی شرکا کے وکیل ریک وینروسل نے کہا: ’ہم واحد ملک ہیں جس نے اتنے سیاسی حساس معاملے کو صحیح تناظر میں دیکھنے کی جرات کی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لیے سال 2015 میں ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کے بعد یورپی یونین نے تہران کے ساتھ سفارتی اور معاشی تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی ہے مگر اس کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

فرانس نے کہا ہے کہ ایران کی انٹیلیجنس منسٹری سال 2018 کے منصوبے کے پیچھے تھی اور اس نے ایک ایرانی سفارت کار کو ملک سے بے دخل بھی کیا تھا۔ یورپی یونین بھی ایک ایرانی انٹیلیجنس یونٹ اور اس کے اہلکاروں کے اثاثے مجمند کر چکی ہے۔

یورپی ملک ایران پر ناقدین اور ایران مخالف شخصیات پر حملوں کا شبہ ظاہر کر چکے ہیں جن میں سال 2015 میں نیدرلینڈز میں ہونے والے دو قتل اور سال 2017 میں ڈینمارک میں ایک ناکام بنائی جانے والی قتل کی سازش شامل ہیں۔

ایران ان واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات کی ترید کرتا آیا ہے اور انہیں ایران اور یورپی یونین کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش قرار دیتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا