دو جنازے اور کئی سوالات

ہمارے ملک میں یہ غیرمعمولی حالات کیوں بنتے ہیں؟ سیاست سے لے کر جنازوں تک، الیکشن سے لے کر آمریت تک اس سے ہم  کیا سیکھیں اور بہتری کی طرف بڑھنے کے لیے ہمیں آخر کیا سبق ملتا ہے؟

بیس نومبر کو تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی انتقال کرگئے (اے ایف پی)

بیس نومبر کو تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی انتقال کرگئے۔ 23 نومبر کو نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر بھی اللہ کو پیاری ہوگئیں۔

یا اللہ تو دونوں کی مغفرت فرما۔ دونوں کے عزیزوں کو صبر عطا فرما۔ آمین

سرزمین پر کئے ہوئے کاموں کا حساب کتاب اب تیرا ہے تو رحمان و رحیم ہے تو ہی قہار و غفار ہے، نہ جانے کیا حالات کس کو کیسا بناتے ہیں، سب حال تو ہی جانتا ہے، بیشک تو ہی سب حساب کتاب پر قادر ہے، انسان کیا حقیر شے ہے اس کی قابلیت کیا ہے۔

تحریک لبیک کے سربراہ کے انتقال کی خبر ملک بھر میں دیکھا دیکھی پھیل گئی۔ موت کا وقت تو متعین ہے لیکن ایک لمحے آپ کا ذکر ہر ایک کی زبان پر ہو اور  آپ کی طاقت لامحدو ہونے کا گمان ہو اور پھر لمحے بھر میں سب پلٹ جائے انسان بےبس ہے۔

اور پھر 23 نومبر کو بیگم شمیم اختر بھی اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔ جنازے دونوں کے اپنی نوعیت کے منفرد تھے۔ یہ جنازے کیونکر ایسے تھے؟ اس سوال کے جواب میں ہمیں اپنے ہی بارے میں اپنے ملک کے بارے میں یہاں کے کرتا دھرتا چاہے سیاست دان ہوں، چاہے اسٹیبلشمنٹ ہو سب کے بارے میں کچھ اشارے ملتے ہیں۔

خادم رضوی صاحب کا جنازہ فقیدالمثال تھا۔ پاکستان نے بہت کم ایسےجنازے دیکھے ہوں گے۔ دنیا میں نامعلوم کتنے لوگوں کے لیے اتنی دنیا باہر نکلی ہوگی۔ تو آخر کار یہ کیسے ہوا؟ کرونا (کورونا) کا بھی زمانہ ہے۔ مرحوم نے آخری دنوں میں ملک کے بہت سے طاقتور  لوگوں پر بہت سخت تنقید بھی کی تھی۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگ کسی کے کہنے پر تو جنازے میں شریک نہیں ہوسکتے۔

خادم رضوی کے جنازے میں دنیا امڈ آئی کیوں کہ انہوں نے ایسا نعرہ لگایا ’لبیک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)‘ جو لوگوں کے وجود کو ہلا دیتا ہے۔ یہ ایسا نعرہ ہے جو یقینی طور پر دل کو جا کر لگتا ہے۔ مجھے یاد ہے 70 کی دہائی میں مسلح گروہ نے مکہ مکرمہ میں حملہ کیا تھا تو یہ افواہ پھیل گئی تھی کہ خدانخواستہ امریکہ نے حملہ کر دیا ہے۔

ان دنوں میں لاہور میں اپنی والدہ کے گھر رہتی تھی ہمارے گھر سے دو گھر بعد امریکن قونصلیٹ تھا ہم گھر میں موجود تھے باہر سڑک سے فلک شگاف نعروں کی آوازیں آرہی تھیں نعرہ تکبیر اللہ اکبر۔ اوپر چھت سے جاکر میں نے دیکھا تو باہر سڑک پر سینکڑوں لوگ نعرے لگاتے ہوئے امریکن قونصلیٹ پر احتجاج کرنے جارہے تھے لیکن جو نعرہ وہ لگا رہے تھے نعرہ تکبیر اللہ اکبر۔

یہ ایک ایسا موقع تھا کہ میں بھی جاکر ان کے ساتھ اس احتجاج کا حصہ بن سکتی تھی یہ نعرہ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام یقینا ہمارے دلوں کو قابو کرتا ہے یہ نعرے لگانے والے شخص کے جنازے پر دنیا نکلی اور آخری دنوں میں انہوں نے جو تحریک چلائی اور جو احتجاج کیا اور پھر اچانک ان کا انتقال ہوگیا چاہے اس کی جو بھی وجہ تھی تو اس نعرے پر لوگ نکل آتے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ حالات کیسے پیدا ہوئے خادم رضوی صاحب کیسے اس مقام پر پہنچے وہ جو باتیں کر رہے تھے، غصے میں جو بھی لب کشائی کرتے تھے۔

نومبر 2017 میں جب وہ باہر نکلے ان کو کچھ اداروں کی مدد حاصل تھی۔ اس وقت وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن میں تھے اور انہوں نے ان دنوں ایک پریس کانفرنس کی تھی جس میں کہا تھا کہ میرے لوگ بھی نکلنا چاہتے تھے اور انہیں سپورٹ کرنا چاہتے تھے۔ اس وقت انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمی کا شکریہ ادا کریں کہ انہوں نے اس معاملے کو ہینڈل کیا اور فیض آباد کے دھرنے کو ختم کرایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ بات تو یاد رکھنی ہوگی کہ اس دھرنے کی وجہ کیا تھی؟ اس وقت کے تمام کاغذات، قرار دادیں نکال لیں کبھی بھی ختم نبوت کے معاملے کا تو سوال ہی نہیں تھا کہ کوئی ایسا بل آتا یا کوئی ایسا حلف لیا جاتا جس میں ختم نبوت پر کوئی آنچ آتی لیکن بہرحال ایک بات نکلی اور کچھ حلقوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور خادم رضوی نے فیض آباد آکر دھرنا دیا۔

ہم نے خادم رضوی صاحب کے جنازے پر جو دیکھا تو جب آپ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیتے ہیں اور یہ بھی یاد رکھیں فرانس میں جو کچھ ہوا اس پر سب کو بہت غصہ ہے اس پس منظر میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر دنیا کا نکلنا تو سمجھ آتا ہے لیکن خادم حسین رضوی صاحب اس سطح پر اس جگہ پر کیسے پہنچے۔ ختم نبوت پر اس ملک میں آنچ نہیں آسکتی ان کا جنازہ دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہماری سیاست کس طرف جا رہی ہے اس ملک میں طاقت کے مراکز کا کیا کردار رہا ہے اور طاقت حاصل کرنے کی دوڑ میں کون کون بے دریغ مذہب کا استعمال کرتا ہے۔

میاں نواز شریف  کی والدہ کی نماز جنازہ لاہور میں ادا کی گئی اور ان کی تدفین کر دی گئی لیکن ان کے بیٹے نواز شریف اور پوتے نہیں آئے۔ نواز شریف نے فیصلہ کیا ہے کہ فی الحال وہ ملک سے باہر رہیں گے۔ معاملہ اب صحت کا نہیں سیاست کا ہے اور  نیب کیسز کا ہے۔

ان کے اس فیصلہ کی قیمت یہ ہے کہ وہ اب اپنی والدہ کے جنازے کو بھی کاندھا نہیں دے سکے۔ وہ بس لندن مں ادا کی گئی نماز جنازہ میں شر یک تھے۔ والدہ سے بڑھ کر کوئی رشتہ نہیں ہوتا نواز شریف نہ صرف والدہ کے جنازہ پر نہیں آ پائے، وہ اپنے والد جن کا انتقال جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں ہوا تھا، ان کے جنازے پر بھی نہیں آسکے تھے۔ 

مجھے یاد ہے میں اس وقت پاکستان میں نہیں تھی۔ میں نے افسوس کرنے کے لیے فون کیا تو شہباز شریف نے بتایا کہ وہ اور ان کے بھائی پاکستان نہیں جائیں گے کیونکہ جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایک دن سے زیادہ رہنے کی اجازت نہیں دی۔ میاں نواز شریف نے قل تک رہنےکا کہا تھا۔

پھر میری پاکستان کے کچھ کرتا دھرتاؤں سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک خصوصی جہاز کا بھی انتظام کیا تھا لیکن ان کو واپس جانا پڑے گا۔ نواز شریف اس پر راضی نہیں ہوئے اور وہ والد کے جنازے کو کاندھا دینے کے لیے نہیں آپائے۔ اس وقت نواز شریف، پرویز مشرف حکومت کے ساتھ دس سال ملک سے باہر رہنے کا ایک معاہدہ کر کے سعودی عرب گئے تھے۔

بس یہی حالات ہیں اور ہر قدم پر بہت  سے سوالات ذہن میں اٹھتے ہیں۔ ہمارے ملک میں یہ غیرمعمولی حالات کیوں بنتے ہیں؟ سیاست سے لے کر جنازوں تک، الیکشن سے لے کر آمریت تک اس سے ہم  کیا سیکھیں اور بہتری کی طرف بڑھنے کے لیے ہمیں آخر کیا سبق کیا ملتا ہے؟

ہمارے ملک میں یہ غیر معمولی حالات کیوں بنتے ہیں سیاست سے لے کر جنازوں تک، الیکشن سے لے کر آمریت تک، وزیر اعظم کا حز ب اختلا ف کا بائیکاٹ اس وجہ سے کرنا کہ شاید ان سے این آر او نہ لے لے! 

اور اب تو کووڈ19 کا سب سے بڑے چیلنج، پر سیاست کی بھینڈ چڑھے ہیں اس سے جڑ ے فیصلے بھی- پی ڈی ایم کی جماعتیں جلسے جاری رکھے ہیں سٹیڈیم کے تالے توڑ کر بھی! 

جب کچھ اہم مسئلوں پر، چاہے گورننس ، چاہے accountability ، چاہے مذہب کا استحصال یا قانون کا نفاذ، فیصلہ سازی وقتی سیاسی فوائد اور ذاتی انا اور لالچ پر مبنی ہوں تو پھر حکمت کی ہار اور ملک اور عوام خسارے میں- 

سوچ کی تبد یلی نہایت ضروری ہے-

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ