طالبان اور افغان حکومت امن مذاکرات کے طریقہ کار پر متفق

افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے رکن نادر نادری اور طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے ٹوئٹر پر لکھا کہ بین الافغان مذاکرات کے طریقہ کار کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اب ایجنڈے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

12 ستمبر 2020 کی اس تصویر میں  افغان طالبان کے مذاکرات عباس ستانکزئی  قطر کے دارالحکومت دوحہ میں  ہونے والے   بین الافغان مذاکرات  میں شرکت کے لیے آتے ہوئے (تصویر: اے ایف پی)

قطر میں طالبان اور افغان حکومت کے مابین امن مذاکرات اگلے مرحلے میں آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں، جس کا اعلان دونوں فریقین نے بدھ کو بات چیت کے قواعد پر اتفاق رائے کے بعد کیا۔

ستمبر میں شروع ہونے والے یہ مذاکرات ایجنڈے کے حوالے سے تنازعات، اور بحث و مباحثے کے باعث سست روی کا شکار تھے۔

افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نادر نادری نے ٹویٹ کی کہ 'بین الافغان مذاکرات کے طریقہ کار کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور ایجنڈے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔'

دوسری جانب طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے بھی ٹوئٹر پر لکھا: 'مذاکرات کے طریقہ کار کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اب سے ایجنڈے پر بات چیت کا آغاز ہوجائے گا۔'

افغان طالبان اور امریکہ کے مابین رواں برس فروری میں غیر ملکی فوجی دستوں کے افغانستان سے انخلا کے معاہدے کے بعد پہلی بار طالبان ور افغان حکومت براہ راست مذاکرات میں مشغول ہیں۔

امریکہ کی جانب سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور سکیورٹی کی ضمانت کے وعدے کے بعد طالبان نے کابل کے ساتھ مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

افغانستان کی قومی مفاہمتی کونسل کے چیئرمین عبد اللہ عبد اللہ نے ایک ٹویٹ میں اس پیش رفت کو 'ابتدائی اہم قدم' قرار دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغان امور سے متعلق امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے بھی اس کامیابی کا خیرمقدم کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ یہ ایک 'اہم سنگ میل' ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'دونوں فریقین نے سیاسی روڈ میپ اور جامع جنگ بندی سے متعلق اپنے مذاکرات کے قواعد و ضوابط کی تشکیل کے تین صفحوں پر مشتمل معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔'

انہوں نے مزید کہا: 'یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ مذاکرات کرنے والے فریقین سخت معاملات پر اتفاق رائے کرسکتے ہیں۔'

اگرچہ دونوں فریقین کے مذاکرات کار بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہوچکے ہیں، تاہم ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر اشرف غنی نے مجوزہ قواعد میں ان الفاظ پر اعتراض کیا تھا جس میں ان کی انتظامیہ اور طالبان کو یکساں بنیاد پر 'جنگ کا فریق' کہا گیا تھا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان الفاظ کو تبدیل کیا گیا یا نہیں۔

اشرف غنی کے ترجمان صدیق صدیقی نے ٹوئٹر پر کہا: 'یہ اہم امور پر بات چیت شروع کرنے لیے آگے کی طرف ایک قدم ہے۔'

اس سے قبل سبکدوش ہونے والے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے 21 نومبر کو دوحہ کے دورے کے دوران 'جلد مذاکرات' پر زور دیا تھا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے طالبان اور افغان حکومت کے مذاکرات کاروں سے ملاقات کی تھی۔

پومپیو نے بدھ کو دونوں فریقین کے جانب سے کیے گئے اعلان پر اپنے ایک بیان میں کہا: 'سیاسی روڈ میپ اور جنگ بندی کی طرف تیزی سے پیش رفت ہی وہ چیز ہے جو افغانستان کے عوام کسی بھی چیز سے زیادہ چاہتے ہیں۔'

حالیہ ہفتوں میں افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

فروری میں امریکہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد سے عسکریت پسندوں نے افغان فورسز کے خلاف روزانہ کی بنیاد طور پر دیہی علاقوں میں حملے شروع کردیئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا